حضرت علی(ع) کے فضائل و کمالات



 

 

 

آپ کا سب سے اسلام کا اظهار

 

 

 حضرت علی علیه السلام کی زندگی کا دوسرا دوربعثت کے بعد اور ہجرت سے پھلے کا ھے ۔ اس وقت آپ کی عمر ۱۳ سال سے زیادہ نھیں تھی حضرت علی علیه السلام اس پوری مدت میں پیغمبر اسلام کے ھمراہ تھے اور تمام ذمہ داریوںکو تحمل کئے ھوئے تھے، ا س زما نے کی بہترین اور حساس ترین چیز ایک ایسی قابل افتخارشئی ھے جو امام کونصیب ھوئی اور پوری تاریخ میں یہ سعادت و افتخار مولائے کائنات کے علاوہ کسی کو نصیب نہ ھوا ۔

آپ کی زندگی کا پھلا افتخار اس عمرمیں سب سے پھلے اسلام کاقبول کرنا ھے ، بلکہ بہترین لفظوں میں یوں کہا جائے کہ اپنی دیرینہ آرزویعنی اسلام کا اظہار اور اعلان کرنا تھا ۔[1]

اسلام کے قبول کرنے  میں سبقت کرنا اور قوانین توحید کا ماننا ان امور میں سے ھے جس پر قرآن نے بھروسہ کیا ھے، اور جن لوگوں نے اسلام کے قبول کرنے میں سبقت کی ھے صریحاًان کا اعلان کیا ھے ”اور وہ لوگ خدا کی مرضی اور اس کی رحمت قبول کر نے میں بھی سبقت کرتے ھیں“۔[2]

قرآن کریم نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کرنے والوں پر اس حد تک خاص توجہ دی ھے کہ وہ لوگ جوفتح مکہ سے بھی پھلے ایمان لائے اور اپنے جان ومال کو خداکی راہ میںقربان کیا ھے ، ان لوگوں پر جو فتح مکہ کی کامیابی کے بعد ایمان لائے ھیںاورجہاد کیا برتری اور فضیلت دی ھے۔[3]

یہ بات واضح ھے کہ آ ٹھویں ہجری میں مکہ فتح ھواھے ا ور پیغمبر نے بعثت کے اٹھارہ سال بعد بت پرستو ں کے مضبوط قلعے اور حصار کو بے نقاب کر دیا ،فتح مکہ سے پھلے مسلمانوںکے ایمان کی فضیلت وبرتری کی وجہ یہ تھی کہ وہ لو گ اس زمانے میں ایمان لائے جب کہ اسلام کی حکومت شبہ جزیرہ پر نھیں پھونچی تھی ، اور ابھی بھی بت پرستوں کا مرکز ایک محکم قلعہ کی طرح باقی تھا اور مسلمانوں کی جان و مال کا بہت زیادہ خطرہ تھا، اگرچہ مسلمان، مکہ سے پیغمبر اسلام (ص) کی ہجرت کی وجہ سے، اور گروہ اوس و خزرج اور وہ قبیلے جو مدینے کے آس پاس تھے ایک طاقتور گروہ سمجھے جاتے تھے اور بہت سی لڑائیوں میں کامیاب بھی ھوئے تھے لیکن خطرات مکمل طور پر ختم نھیںھوئے تھے۔

اس وقت جب کہ اسلام کا قبول کرنا اور جان و مال کا خرچ کرنا اھمیت رکھتا ھو، قطعی طور پر ابتدائی زمانے میںایمان کا ظاہر کرنا اور قبول اسلام کا اعلان کرنا جب صرف قریش اور دشمنوں کی ھی طاقت و قوت تھی ایسے مقام پر اس کی اھمیت و فضیلت اور بڑھ جاتی ھے اس بنا پر مکہ میں پیغمبر (ص) کے صحابیوں کے درمیان اسلام قبول کرنے میں سبقت حاصل کرناایک ایسا افتخار ھے جس کے مقابلے میں کوئی فضیلت نھیںھے۔

 عمر نے اپنی خلافت کے زمانے میں ایک دن خباب، جس نے اوا ئل اسلام میںبہت زیادہ زحمتیں برداشت کی تھیں ،سے پوچھا کہ مشرکین مکہ کا برتاؤ تمہارے ساتھ کیسا تھا ؟

    اس نے اپنے بدن سے پیراہن کو جدا کرکے اپنی جلی ھوئی پشت اور زخموں کے نشان خلیفہ کو دکھایا اور کہا ۔اکثر وبیشتر مجھے لوھے کی زرہ پہناکر گھنٹوں مکہ کے تیزاورجلانے والے سورج کے سامنے ڈال دیتے تھے اور کبھی کبھی آگ جلاتے تھے اور مجھے آگ پر لے جاکر بیٹھاتے تھے یہاں تک کہ آگ بجھ جا تی تھی۔ [4]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 next