حضرت علی علیه السلام کی زندگی(بعثت پیغمبر (ص) سے پھلے)



 

 

عظیم افراد اوران کے دوست اور دشمن

کائنات کی اھم اور بزرگ شخصیتوں کے سلسلے میں کئی طرح کے پھلو نظر آتے ھیں کبھی بالکل مختلف اور کبھی بالکل برعکس، کبھی ان کے دوست ایسے ھوتے ھیں کہ دوستی کے آگے وہ کچھ نھیں دیکھتے اور پروانہ کے مانند اپنی ساری زندگی ان پر نثار و قربان کردیتے ھیں اور اس دوستی کی وجہ سے بدترین مصیبت اور مشکلات، سختی اور شکنجے کو بھی برداشت کرتے ھیں اور اسی کے برعکس ان کے دشمن بھی ایسے ھوتے ھیں جو شیطان صفت، کینہ و بغض اور حسد میں ھمیشہ جلتے رہتے ھیں اور کبھی بھی عداوت و دشمنی سے باز نھیں آتے کہ صلح و آشتی کی راہ ھموار ھوسکے، ان افراد کی دوستی اوردشمنی کبھی کبھی اس قدر حد سے تجاوز کرجاتی ھے جس کی انتہا نھیں ھوتی اور وقت اور مقام کا بھی خیال نھیں رکھتی اور پھر بہت دنوں تک اور مختلف جگھوں پر یہ سلسلہ قائم رہتا ھے اور یہ عداوت و دشمنی انسان کے باعظمت اور محترم و باکمال ھونے کی وجہ سے پیدا ھوتی ھے۔

کائنات کی عظیم اور بزرگ شخصیتوں کے درمیان مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام کے علاوہ کوئی شخص بھی ایسا نھیں ھے جس کے بارے میں نظرئیے قائم ھوئے ھوں۔

آپ سے محبت اور دشمنی کرنے میں بھی آپ جیسا کوئی نھیںھے ، آپ کے چاہنے والوں کی بھی تعداد بہت ھے اور آپ کے دشمنوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ھے، عظیم شخصیتوں اور انسانوں کے درمیان فقط جناب حضرت عیسیٰ مسیح  -کی طرح ھیں جو مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام کی طرح ھیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ- سے دوستی اور دشمنی کرنے والے دو متضاد دھڑے نظر آتے ھیں ، اس طرح دونوں آسمانوی پیشواؤوں میں مشابہت پائی جاتی ھے ۔

حضرت عیسیٰ-  دنیا کے تمام عیسائیوں کے گمان وخیال میں وھی خدا ئے مجسم ھےں جس نے اپنے بندوں اور چاہنے والوں کو اپنے باپ حضرت آدم (ع) سے ورثہ میں ملے ھوئے گناھوں سے نجات دلانے کے لئے زمین پر آئے اور آخرکار سولی پر چڑھا دیئے گئے وہ عامعیسائیوں کی نگاہ میں الوھیت کے علاوہ کوئی اور شخصیت کے مالک نہ تھے۔

ان کے مقابلے میں یھودی ان کے بالکل برخلاف ھیں انھوں نے حضرت پر الزام و اتہام لگایاھے اور جھوٹ کی نسبت دی ھے اور ایسی ناروا تھمتیں لگائیں کہ جس کا تذکرہ باعث شرم ھے اور آپ کی مقدس و پاکیزہ ماں کی طرف غلط نسبتیں دی ھیں۔

بالکل ایسے ھی اور بھی کچھ افراد ھیں جو مولائے کائنات حضرت علی علیه السلام کے بارے میں متضاد فکر رکھتے ھیں ایک گروہ کم ظرف اور تنگ نظرھے اور دوسرا کچھ زیادہ ھی الفت و محبت کی وجہ سے خدا کے مطیع و فرماںبردار کو مقام الوھیت تک پھونچا دیا ھے اور جو کرامتیں اور معجزات حضرت کی پوری زندگی میں ظاہر ھوئے اس کی وجہ سے وہ خدا مان بیٹھے ھیں افسوس کہ اس گروہ نے اپنے کو اس مقدس نام ”علوی“ سے منسوب کر رکھا ھے اور آج بھی اس نظریہ پر چلنے والے اور ان کی پیروی کرنے والے افراد کثرت سے موجود ھیں۔ لیکن افسوس کا مقام ھے کہ شیعیت کی تبلیغ کرنے والوں نے آج تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے نھیں لیا تاکہ حضرت علی علیه السلام کے حقیقی چہرے کو ان کے سامنے ظاہر کریں اور ان لوگوں کی صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کریں جس راستے پر خود حضرت علی علیه السلام افتخار کر رھے ھیں اس گروہ کے مقابلے میں، ایک اور گروہ جس نے خلافت ظاہری کے ابتدائی دنوں سے ھی امام  علیه السلام سے بغض و عداوت اپنے دل میں بٹھا رکھی اور پھر کچھ مدت کے بعد خوارج اور نواصب نامی گروہ کے شکل میں ابھر کر سامنے آگئے، پیغمبر اسلام(ص) حضرت علی علیه السلام کے زمانہ حکومت میں ان دونوں گروھوں کے ظھور کے سلسلے میں بخوبی آگاہ تھے اسی وجہ سے آپ نے حضرت علی علیه السلام سے ایک موقع پر فرمایا تھا:

”ہَلَکَ فِیْکَ اِثْنٰانِ مُحِبٌّ غَالٍ وَ مُبْغِضٌ قَالٍ“[1]

تمہارے ماننے والوں میں سے دوگروہ ھلاک ھوں گے ایک وہ گروہ جو تمہارے بارے میں غلو کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو تم سے دشمنی و عداوت رکھے گا۔

حضرت علی علیه السلام اور حضرت عیسیٰ   علیه السلام کے درمیان ایک اور بھی مشابہت پائی جاتی ھے اوریہ وہ مقام ھے جہاں پران دو شخصیتوں کی ولادت ھوئی ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 next