هجرت کے بعد حضرت علی علیه السلام کی زندگی(1)



 

پھلی فصل

اس زمانے پر ایک نظر

پیغمبر اسلام کی ہجرت کے بعد حضرت علی کامکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا آپ کی زندگی کا تیسرا حصہ ھے ۔اور اس فصل کے تمام صفحات حضرت علی کی زندگی کے اھم ترین اورتعجب خیز حالات پر مشتمل ھےں،اور امام علیہ السلام کی زندگی کے مھم اور حساس امور زندگی کے اس دور سے وابستہ ھیں جسے ھم دو مرحلوں میں خلاصہ کر رھے ھیں:

 

۱۔ میدان جنگ میں آپ کی فداکاری اور جانبازی

پیغمبر اسلام نے مدینے کی اپنی پوری زندگی میں مشرکوں، یھودیوں اورفتنہ و فساد برپا کرنے والوں کے ساتھ ۲۷ غزوات میں لڑےں۔ مسلمانوں کی تاریخ لکھنے والوں کی نظر میں جن لوگوں نے ان غزوات کے حالات اور شجاعتوں کا تذکرہ کیاھے، کہتے ھیں کہ غزوہ یعنی وہ جنگ جس میں پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله و سلم)نے اسلامی لشکر کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی، اور خود سپاھیوں کے ھمراہ میدان جنگ گئے اور انھی کے ساتھ مدینہ واپس آئے۔ غزوات کے علاوہ ۵۵ ”سریہ“ بھی آپ کے حکم سے انجام پائیں۔[1]

    سریہ سے مراد وہ جنگ ھے جس میں اسلامی فوج کے کچھ سپاھی و جانباز دشمنوں کو شکست دینے اور ان سے لڑنے کے لئے مدینہ سے روانہ ھوئے اور لشکر کی سپہ سالاری اسلامی فوج کے اھم شخص کے ہاتھوں میںتھی، حضرت امیر علیہ السلام نے پیغمبر کے غزوات میں سے ۲۶ غزووں میں شرکت کی اور صرف ”جنگ تبوک“ میں پیغمبر اسلام کے حکم سے مدینہ میں رھے ا ور جنگ تبوک میں شریک نہ ھوئے ۔کیونکہ یہ خوف تھا کہ مدینے کے منافقین پیغمبر کی عدم موجودگی میں مدینہ پر حملہ کردیںاور مدینہ میں اسلامی امور کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیں۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 next