خوارج کا بدترین مظاہرہ



 

لفظ خوارج بہت زیادہ استعمال ھونے والے لفظوں میں سے ھے اور علم تاریخ اور علم کلام کی بحثوں میں بہت زیادہ استعمال ھوا ھے اور عربی لغت میں یہ لفظ حکومت پر شورش وحملہ کرنے والوں کے لئے استعمال ھوتا ھے اور خوارج ایسے گروہ کو کہتے ھیں جو حکومت وقت پر کے خلاف ھنگامہ کھڑا کرے اور اسے قانونی نہ جانے ، لیکن علم کلام اور تاریخ کے علماء کی اصطلاح میں امام علیہ السلام کے سپاھیوں میں سے نکلے ھوئے گروہ کو کہتے ھیں جنھوں نے ابوموسیٰ اشعری اور عمرو عاص کی حکمیت کو قبول کرنے کی وجہ سے اپنے کو امام علیہ السلام سے جدا کرلیا اور اس جملے سے اپنا نعرہ قرار دیا ” ان الحکم الا للّٰہ “اوریہ نعرہ ان کے درمیان باقی رہا اور اسی نعرہ کی وجہ سے علم ملل ونحل میں انھیں ” محکمہ “ کے نام سے یاد کیا گیاھے۔

امام علیہ السلام نے حکمیت قبول کرنے کے بعد مصلحت سمجھی کہ میدان صفین کو چھوڑدیں اور کوفہ واپس چلے جائیں اور ابوموسیٰ اور عمروعاص کے فیصلے کا انتظار کریں ، حضرت جس وقت کوفہ پھونچے تو اپنی  فوج کے کئی باغی گروہ سے روبرو ھوئے ، آپ اور آپ کے جانبازوں نے مشاہدہ کیا کہ بہت سے سپاھیوں نے جن کی تعداد بارہ ہزار لوگوں پر مشتمل تھی کوفہ میں آنے سے پرھیز کیا اور حکمیت کے قبول کرنے کی وجہ سے بعنوان اعتراض کوفہ میں آنے کے بجائے ” حروراء“ نامی دیہات کی طرف چلے گئے اور ان میں سے بعض لوگوں نے” نخیلہ “ کی چھاوٴنی میں پڑاوٴ ڈالا۔حکمیت ، جسے خوارج نے عثمان کا پیراہن بنا کر امام علیہ السلام کے سامنے لٹکایا تھا ، وھی موضوع تھا کہ ان لوگوں نے خود اس دن ، جس دن قرآن کو نیزہ پر بلند کیا گیا تھا ، امام علیہ السلام پر اسے قبول کرنے کے لئے بہت زیادہ دباوٴ ڈالا تھا یہاں تک کہ قبول نہ کرنے کی صورت میں آپ کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد اپنی شیطانی فکروں اور اعتراضی مزاج کی وجہ سے اپنے عقیدے سے پلٹ گئے اور اسے گناہ اور خلاف شرع بلکہ شرک اور دین سے خارج جانا اور خود توبہ کیا اور امام علیہ السلام سے کہا کہ وہ بھی اپنے گناہ کا اقرار کرکے توبہ کریں اور حکمیت کے نتیجے کے اعلان سے پھلے فوج کو تیار کریں اور معاویہ کے ساتھ جنگ کو جاری رکھیں ۔

لیکن علی علیہ السلام ایسے نہ تھے کہ جو گناہ انجام دیتے اور غیر شرعی چیزوں کو قبول کرتے اور جو عہد وپیمان باندھا ھے اسے نظر انداز کردیتے امام علیہ السلام نے اس گروہ پر کوئی توجہ نھیں دی اور کوفہ پھونچنے کے بعد پھر اپنی زندگی بسر کرنے لگے ، لیکن شرپسند خوارج نے اپنے برے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے مختلف کام کیے جن میں بعض یہ ھیں :

۱۔ امام علیہ السلام سے خصوصی ملاقاتیں کرنا تاکہ انھیں عہد وپیمان توڑنے پر آمادہ کریں ۔

۲ ۔ نمازجماعت میں حاضر نہ ھونا۔

۳۔ مسجد میں علی علیہ السلام کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگانا۔

۴۔ علی علیہ السلام اور جو لوگ صفین کے عہد وپیمان کو مانتے تھے انھیں کافر کہنا۔

۵۔ عظیم شخصیتوں کو قتل کرکے عراق میں بد امنی پیدا کرنا۔

۶۔ امام علیہ السلام کی حکومت کے مقابلے میں مسلّحانہ قیام۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 next