امام علیہ السلام کی زندگی کا آخری ورق



 

محرابِ عبادت میں آپ کی شہادت

جنگ نہروان ختم ھوگئی اور علی علیہ السلام کوفہ واپس آگئے مگر خوارج میں سے کچھ لوگ جنھوں نے نہروان میںتوبہ کیا تھا دوبارہ مخالفت کرنے لگے اور فتنا و فساد بر پا کرنے لگے۔

علی علیہ السلام نے ان کے پاس پیغام بھیجااور ان لوگوں کو صلح و خاموشی رہنے کی دعوت دی اور حکومت کی مخالفت کرنے سے منع کیا لیکن جب ان کے راہ راست پر آنے سے مایوس ھوگئے تو اپنی قدرت و طاقت سے اس سر کش، نافرمان اور فتنہ پرداز گروہ پر حملہ کرکے اسے نابود کردیا ،اس میں سے کچھ لوگ قتل ھوئے تو کچھ لوگ زخمی ھوگئے اور کچھ فرار کرگئے اور انھیں بھاگنے والوں میں سے عبد الرحمن بن ملجم تھا جو قبیلہ مراد کا رہنے والا تھا یہ مکہ بھاگ گیاتھا۔

    بھاگے ھوئے خوارج نے مکہ کومرکز بنایا اور ان میں سے تین لوگ عبد الرحمن ابن ملجم مرادی، برک بن عبد اللہ تمیمی[1] اور عمرو بن بکر تمیمی [2] ایک رات جمع ھوئے اوروقت کے حالات اور داخلی جنگ اور خون ریزیوں پر بحث کی  اور نہروان اور اپنے مقتولین کویاد کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ اس خون ریزی اور آپسی جنگ کا سبب علی علیہ السلام،معاویہ اور عمر وعاص ھےں اور اگر یہ تینوں آدمی ختم ھوجائیں تو مسلمان اپنی اپنی ذمہ داریوں کو خود جان لینگے اور اپنی خواہش اورمن پسند خلیفہ چن لینگے ۔پھر ان تینوں نے آپس میں عہد کیا اور اسے قسم کے ذریعے مزید مستحکم کیا کہ ان میں سے ہر ایک، ان تینو ں میں سے ایک ایک کو قتل کرے گا ۔

    ابن ملجم نے علی علیہ السلام کو قتل کرنے کا عہد کیا، عمر وبن بکر نے عمرو عاص کو مارنے کا ذمہ لیا اور برک بن عبد اللہ نے معاویہ کو قتل کرنے کا عہد کیا۔[3] اس سازش کا نقشہ خفیہ طور پر مکہ میں بنا یا گیا اور تینوں آدمی اپنے مقصد کو ایک ھی دن انجام دیں اس لئے رمضان المبا رک کی انیسویں رات معین ھوئی ہر شخص اپنا کام انجام دینے کے لئے اپنے اپنے مورد نظر شہر چلا گیا عمرو بن بکر ،عمرو عاص کو قتل کرنے کے لئے مصر گیا اور برک بن عبد اللہ معاویہ کو قتل کرنے کے لئے شام گیا اور ابن ملجم بھی کوفہ کی طرف روانہ ھوا۔[4]

    برک بن عبد اللہ شام پھونچا ، اور معین شدہ رات میں مسجد گیا اور پھلی صف میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ھوا ، اور جب معاویہ سجدے میں گیا تو اس نے تلوار سے حملہ کیا لیکن خوف و ہراس کی وجہ سے نشانہ چوک گیااور تلوار خطا کرگئی، اور سر کے بجائے معاویہ کی ران پر لگی اور معاویہ شدید زخمی ھوگیا ،اسے فوراً گھر میں لائے اور بستر پر لٹایا،جب حملہ کرنے والے کو اس کے سامنے حاضر کیا تو معاویہ نے اس سے پوچھا : تمھیں اس کا م کے انجام دینے کی جراٴت کیسے ھوئی ؟ اس نے کہا: اگر امیر مجھے معاف کریں تو ایک خوشخبری دوں ، معاویہ نے کہا :تیری خوشخبری کیا ھے؟ برک نے کہا: علی کو آج ھی ھمارے ایک ساتھی نے قتل کیا ھے اور اگر یقین نہ ھوتو مجھے قید کردیں یہاں تک کہ صحیح خبر آپ تک پھونچ جائے، اگر علی قتل نہ ھوئے تو میں عہد کرتاھوں کہ میں وہاں جا کر انھیں قتل کروںگا اور پھرآپ کے پاس واپس آجاوٴںگا، معا ویہ نے اسے علی کے قتل کی خبر آنے تک اپنے پاس روکے رکھا اور جب خبر کی تصدیق ھوگئی تو اسے آزاد کردیا او ر ایک دوسرے قول کے مطابق اسی وقت اسے قتل کرادیا۔[5]

    جب طبیبوں نے معاویہ کے زخم کا معاینہ کیا تو کہا کہ اگر امیر اولاد کی خواہش نہ رکھتے ھوں تو دواکے ذریعے علاج ھوسکتا ھے ورنہ پھر زخم کو آگ داغنا پڑے گا۔ معاویہ داغنے سے ڈرااور نسل کے منقطع ھونے پر راضی ھوگیا اور کہا: یزید اور عبد اللہ میر ے لئے کافی ھیں۔[6]

    عمر وبن بکر بھی اسی رات مصر کی مسجد میں گیا، اور پھلی صف میں نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ھوا مگر اس دن عمرو عاص کو زبر دست بخار آگیا اور کمزوری اور سستی کی وجہ سے مسجد میں نھیں آسکالہذا  خارجہ بنحنیفہ(حذافہ)[7] کو نماز پڑھانے کے لئے مسجد بھیجا اور عمرو بن بکر نے عمر وعاص کے بجائے اسے قتل کردیا اور جب حقیقت معلوم ھوئی تو کہا: اٴردتُ عمراً واَرادَ اللہ خاَرِجَة“[8]

یعنی میں نے عمر وعاص کو قتل کرنا چاہا اور خدا نے خارجہ کو قتل کرانا چاہا۔

لیکن عبد الرحمن بن ملجم مرادی ۲۰ شعبان  ۴۰ہجری کوکو فہ آیا اور جب علی علیہ السلام کو اس کے آنے کی خبر ملی تو آپ نے فرمایا: ”وہ آگیا؟“ اب اس چیز کے علاوہ مجھ پر کوئی چیز باقی نھیں ھے اور اب اس کا وقت بھی آگیا ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 next