جغرافیائی اعتبار سے تشیع کی وسعت



 

 

یقین کے ساتھ کھا جا سکتا ھے کہ سب سے پھلے تشیع کا مرکزمدینہ تھا اور اصحاب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان سب سے پھلے شیعہ اسی شھر میں رھتے تھے تینوں خلفاکے زمانے میں شیعہ اصحاب مختلف مناطق و شھروںمیں پھیل گئے اور ان میں سے بعض سیا سی اور فوجی عھدوں پر فائز تھے، علامہ محمد جواد مغنیہ اس بارے میں لکھتے ھیں :

شیعہ اصحاب کاتشیع کے پھیلانے میں ایک اساسی کردار رھا ھے جھاں بھی گئے لوگوں کو قرآن و حدیث اور صبرو تحمل کی طرف دعوت دی اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ھونے کی بنا پر لوگوں کے درمیان ان کابے حد احترام تھا اور ان کی تقاریربھت زیادہ اثر انداز ھوتی تھیں۔[1]

حتی ایسی جگھیں جیسے جبل عامل جو شام کا ایک حصہ تھا اور وھاںپر معاویہ کا نفوذ زیادہ تھا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بزرگ صحابی ابوذرۺ کے جانے کی برکت سے وہ شیعوں کا اصلی مرکز ھوگیا۔[2]

عثمان کی خلافت کے آخری زمانے میں بھت زیادہ شیعہ اسلامی سر زمینوں میں رھتے تھے، اس طرح سے کہ مسلسل حضرت علی(علیہ السلام) کا نام خلافت کے لئے لیا جانے لگا، اسی وجہ سے مدینہ میں جب مخالفین نے اجتماع کیا توعثمان نے علی(علیہ السلام) سے تاکیدکی کہ وہ کچھ مدت کے لئے مدینہ سے نکل جائیںاوراپنی کھیتی جو ینبع میں ھے وھاں چلے جائیں تاکہ شاید شورش کرنے والوں کی تحریک میں کمی آجائے۔[3]

خصوصاً عراق میں عثمان کے زمانے میں شیعہ کا فی تعداد میں تھے مثلاً بصرہ کے شیعہ باوجود اس کے کہ یہ شھر، سپاہ جمل کے تصرّف نیز ان کے تبلیغ کی وجہ سے ان کے زیر اثرآگیا تھا لیکن جس وقت انھیں یہ خبر ملی کہ امیرالمومنین(علیہ السلام) مھاجر اور انصار کے ھمراہ ان کی جانب آرھے ھیں تو صرف قبیلئہ ربیع سے تین ہزار افرادمقام ذی قارمیں حضرت(علیہ السلام) سے ملحق ھو گئے،[4]علی(علیہ السلام) کے ساتھ ان کی ھمراھی عقیدت کی بنا پر تھی اور علی(علیہ السلام) کو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے منصوب خلیفہ کے عنوان سے مانتے تھے۔

بلا ذری نے انھیں شیعیان علی اور قبیلہ ربیع سے تعبیر کیا ھے۔[5]

 اورجب علی(علیہ السلام) خود بر سر حکومت آگئے اور عراق تشریف لے گئے تو تشیع کی وسعت میں عجیب وغریب اضافہ ھوا، اسی طرح حضرت(علیہ السلام) کے حکام اوروالیوںکی اکثریت شیعہ ھونے کی وجہ سے ان مناطق میں شیعیت کو بھت زیادہ فروغ ملا، جیسا کہ سید محمد امین کا بیان ھے جھاں بھی والیان علی(علیہ السلام) جاتے تھے وھاں کے لوگ شیعہ ھوجاتے تھے۔[6]

البتہ اس دور میں شام کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقہ میں بھی عثمان کی طرف میلان بڑھ گیا تھا، شام تو پورے طور پر بنی امیہ کے زیر اثر تھامثلاً بصرہ اور شمالی عراق کے علاقہ میں عثمان کے قریبی افراد ا کے مستقر ھونے کی بناپر اس علاقے کے لوگ عثمان کی طرف مائل ھو گئے تھے،[7]اور شمال عر اق میں یہ میلان دوسری صدی ھجری کے آخر تک باقی تھا۔

 مکھمیں بھی زمانہ ٴجاھلیت سے ھاشمیوں اور علویوں کے خلاف ایک فضا قائم تھی اسی طرح طائف میں بھی دورجاھلیت کی طرح اسلام کے بعد بھی قریش کو بنی ھاشم سے رقابت تھی اور وہ بنی ھاشم کی سر براھی کو قبول نھیں کرتے تھے اور یہ قریش کے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدا کے ساتھ مخالفت کے اسباب میں سے ھے طائف والوں نے بھی قریش کی ھم آھنگی سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی دعوت قبول نھیں کی تھی اگر چہ اسلام کے طاقتور ھونے کے بعد تا خیر سے سھی وہ لوگ بھی تسلیم ھو گئے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 next