چالیس ہجری کی انیسویں رمضان



 

'' اشدد حیاز یمک للموت فان الموت لاقیکا و لا تجزع من الموت اذا حل بوادیکا'' ۔

مرنے کے لئے تیار ہوجائو کیونکہ آج تمہاری ملاقات موت سے ہونے والی ہے ، موت سے غمگین نہ ہو اور بے تابی نہ کرو جب کہ موت تمہارے دروازے پر کھڑی ہے ۔

حضرت علی (علیہ السلام) چالیسویں ہجری کی انیسویں رمضان کی سحر میں معمول کے مطابق صبح کی نماز جماعت کے لئے گھر سے مسجد کی طرف روانہ ہوئے ، اس رات گھر کا دروازہ جو خرمے کی لکڑی تھا آپ کو کھولنا دشوار ہوگیا لہذا آپ نے دروازہ کو اس کی جگہ سے نکالا اور ایک طرف رکھ کر یہ شعر پڑھا:

'' اشدد حیاز یمک للموت فان الموت لاقیکا و لا تجزع من الموت اذا حل بوادیکا'' ۔

مرنے کے لئے تیار ہوجائو کیونکہ آج تمہاری ملاقات موت سے ہونے والی ہے ، موت سے غمگین نہ ہو اور بے تابی نہ کرو جب کہ موت تمہارے دروازے پر کھڑی ہے ۔

اس کے بعد آپ مسجد کی طرف روانہ ہوئے ، پہلے دور کعت نماز پڑھی، پھر چھت پر جاکر بلند آواز سے اذان کہی تاکہ وہاں رہنے والوں کے کانوں میں آپ کی آواز چلی جائے ، پھر چھت سے اتر کر محراب میں گئے اور نافلہ صبح پڑھنے میں مشغول ہوگئے ،جب آپ نے پہلی رکعت کے پہلے سجدہ سے سر اٹھایا تو اس تاریکی میں ابن ملجم نے آپ کے فرق اقدس پر تلوار ماری جس کی وجہ سے آپ کا سر مبارک پیشانی تک شگافتہ ہوگیا ۔اس وقت امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا:  ''فزت و رب الکعبة'' ۔ خدائے کعبہ کی قسم ! آج میں کامیاب ہوگیا ۔ اس کے بعد محراب کی مٹی اٹھا کر اپنے سر کے زخم میں بھری اور اس آیت کی تلاوت فرمائی :  '' منھا خلقناکم و فیھا نعیدکم و منھا نخرجکم تاری اخری'' ۔  ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور اسی میں واپس پلٹائیں گے اور اسی میں سے پھر تمہیں باہر نکالیں گے ۔

 

اہل سنت اور شیعہ کے بعض مآخذ میں امام کی شہادت کی روایات

١۔  مرحوم علامہ مجلسی نے امام علی بن موسی الرضا(علیہ السلام) سے ایک حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا: جس وقت ابن ملجم (لعن اللہ علیہ ) نے حضرت علی (علیہ السلام) کے سر اقدس پر تلوار مارنا چاہی توا س سے پہلے اس کے ساتھی نے آپ پر تلوار چلائی جو دیوار میں ٹکراگئی ، لیکن ابن ملجم نے آپ کے اس وقت تلوار ماری جب آپ سجدہ میں تھے (٢) ۔



1 2 next