یوم القدس



قدس، قبلہ اول اور دنیا بھر کے مسلمانوں کا دوسرا حرم ہے یہ فلسطین کے ان دسیوں لاکھ مسلمانوں کی اصل سرزمین ہے جنہیں عالمی استکبار نے غاصب صہیونیوں کے ہاتھوں آج سے ٹھیک 60 سال قبل سنہ 1948 میں اپنے وطن سے جلاوطن کرکے قدس کی غاصب ، صہیونیوں کے تصرف میں دے دیا تھا ۔

اس سامراجی سازش کے خلاف فلسطینی مسلمانوں نے شروع سے ہی مخالفت کی اور ان مظلوموں کی قربانی اور صبر و استقامت کے سلسلے میں پوری دنیا کے حریت نواز ، بیدار دل انسانوں نے حمایت کی اور اسی وقت سے فلسطین کا مسئلہ ایک سیاسی ۔ فوجی جد وجہد کے عنوان سے عالم اسلام کے سب سے اہم اور تقدیرساز مسئلے کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے ۔

اسلامی ایران کی ملت و حکومت نے بھی ، اسلامی انقلاب کی پرشکوہ کامیابی کے بعد سے غاصب صہیونیوں کے پنجۂ ظلم سے قدس کی آزادی کے مسئلے کو اپنا اولین نصب العین قراردے رکھا ہے اور ماہ مبارک کے آخری جمعہ کو روز قدس قراردے کر اس دن کو ستمگران تاریخ کے خلاف حریت و آزادی کے بلند بانگ نعروں میں تبدیل کردیا ہے ۔ اسلامی انقلاب کے فورا" بعد حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے صہیونیوں کے پنجۂ ظلم سے قدس کی آزادی کے لئے اس دن کو روز قدس اعلان کرتے ہوئے اپنے تاریخی پیغام میں فرمایا تھا :
میں نے سالہائے دراز سے ، مسلسل غاصب اسرائیل کے خطرات سے مسلمانوں کو آگاہ و خبردار کیا ہے اور اب چونکہ فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ان کے وحشیانہ حملوں میں شدت آگئی ہے خاص طور پر جنوبی لبنان میں وہ فلسطینی مجاہدین کو نابود کردینے کے لئے ان کے گھروں اور کاشانوں پر پیاپے بمباری کررہے ہیں میں پورے عالم اسلام اور اسلامی حکومتوں سے چاہتا ہوں کہ ان غاصبوں اور ان کے پشتپناہوں کے ہاتھ قطع کردینے کے لئے آپس میں متحد ہوجائیں اور ماہ مبارک کے آخری جمعہ کو جو قدر کے ایام ہیں فلسطینیوں کے مقدرات طے کرنے کے لئے ، روز قدس کے عنوان سے منتخب کرتا ہوں تا کہ بین الاقوامی سطح پر تمام مسلمان عوام فلسطینی مسلمانوں کے قانونی حقوق کی حمایت و پشت پناہی کا اعلان کریں ۔میں پورے عالم کفر پر مسلمانوں کی کامیابی کے لئے خداوند متعال کی بارگاہ میں دعاگو ہوں ۔

اور اس اعلان کے بعد سے ہی روز قدس ، قدس کی آزادی کے عالمی دن کی صورت اختیار کرچکا ہے اور صرف قدس سے مخصوص نہیں رہ گیا ہے بلکہ عصر حاضر میں مستکبرین کے خلاف مستضعفین کی مقابلہ آرائی اور امریکہ اور اسرائیل کی تباہی و نابودی کا دن بن چکا ہے ۔
روز قدس دنیا کی مظلوم و محروم تمام قوموں اور ملتوں کی تقدیروں کے تعین کا دن ہے کہ وہ اٹھیں اور عالمی استکبار کے خلاف اپنے انسانی وجود کوثابت کریں اور جس طرح ایران کے عوام نے انقلاب برپا کرکے وقت کے سب سے قوی و مقتدر شہنشاہ اور اس کے سامراجی پشتپناہوں کو خاک چاٹنے پر مجبور کردیا اسی طرح دنیا کے دیگر اسلامی ملکوں کے عوام بھی اپنے انسانی حقوق کی بحالی کے لئے انقلاب برپا کریں اور صہیونی ناسور کو دنیائے اسلام کے قوی و مقتدر پیکر سے کاٹ کر کوڑے دان میں پھینک دیں ۔روز قدس جرات و ہمت اور جواں مردی و دلیری کے اظہار کا دن ہے مسلمان ملتیں ہمت و جرات سے کام لیں اور مظلوم و محروم قدس کو سامراجی پنجوں سے نجات عطا کریں ۔ روز قدس ان خیانتکاروں کو بھی خبردار کرنے کا دن ہے جو امریکہ کے آلۂ کار کی حیثیت سے غاصب قاتلوں اور خونخوار بھیڑیوں کے ساتھ ساز باز میں مبتلا ہیں اور ایک قوم کے حقوق کا خود ان کے قاتلوں سے سودا کررہے ہیں ۔روز قدس صرف روز فلسطین نہیں ہے پورے عالم اسلام کا دن ہے ، اسلام کا دن ہے قرآن کا دن ہے اور اسلامی حکومت اور اسلامی انقلاب کا دن ہے ۔اسلامی اتحاد اور اسلامی یکجہتی کا دن ہے ۔ اگر اپنی اسلامی یکجہتی کی بنیاد پر لبنان کے حزب اللہی صہیونی طاقتوں کے خلاف 33 روزہ جنگ میں سرخرو اور کامیاب ہوسکتے ہیں تو فلسطینی مجاہدین بھی اگر خیانتکاروں کو اپنی صفوں سے نکال کر اتحاد و یکجہتی سے کام لیں اور پوری قوت کے ساتھ غاصب صہیونیوں کے خلاف میدان میں نکل آئیں تو یقینا" کامیابی و کامرانی ان کے قدم چومے گي کیونکہ خدا نے وعدہ کیا ہے " اگر تم نے اللہ کی مدد کی تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تم کو ثبات قدم عطا کردے گا ۔"

اب وقت آچکا ہے کہ دنیا کے مسلمان ایک ہوجائیں مذہب اور اعتقادات کے اختلافات کو الگ رکھ کر حریم اسلام کے دفاع و تحفظ کے لئے اسلام و قرآن اور کعبہ ؤ قدس کے تحفظ کے لئے ، جو پورے عالم اسلام میں مشترک ہیں وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایک اور ایک ہوجائیں اور کفار و منافقین کو اسلامی مقدسات کی پامالی کی اجازت نہ دیں تو کیا مجال ہے کہ دو ارب سے زائد مسلمانوں کے قبلۂ اول پر چند لاکھ صہیونیوں کا تصرف ، قتل عام اور غارتگری کا سلسلہ باقی رہ سکے ۔

دشمن مذہب و مسلک اور قومی و لسانی تفرقے ایجاد کرکے اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کررہا ہے اب بھی وقت ہے کہ مسلمان ملتیں ہوش میں آئیں اور اسلامی بیداری و آگاہی سے کام لے کر ، فلسطینی مجاہدین کے ساتھ اپنی حمایت و پشتپناہی کا اعلان کریں ۔فلسطین کے محروم و مظلوم نہتے عوام ، صہیونیوں کے پنجۂ ظلم میں گرفتار لاکھوں مرد وعورت ، وطن سے بے وطن لاکھوں فلسطینی رفیوجی ،غیرت و حمیت سے سرشار لاکھوں جوان و نوجوان ہاتھوں میں غلیل اور سنگریزے لئے فریاد کررہے ہیں ،چیخ رہے ہیں ،آواز استغاثہ بلند کررہے ہیں کہ روئے زمین پر عدل و انصاف کی برقراری کا انتظار کرنے والو ، فلسطینی مظلوموں کی مدد کرو قدس کی بازیابی کے لئے ایک ہوجاؤ ۔ہم فلسطینی ہیں فلسطینی ہی رہیں گے ۔ہم بیت المقدس کو غاصب صہیونیوں سے نجات دلائیں گے، ہم خون میں نہا کر مسلمانوں کے قبلۂ اول کی حفاظت کریں گے ۔بس ہمیں مسلمانوں کی حمایت و پشتپناہی کی ضرورت ہے ۔اے مسلمانو! اپنا مرگبار سکوت اور خاموشی کو توڑ کر اٹھو ہم فلسطینی مجاہدین کی آواز سے آواز ملاؤ قدس ہمارا ہے، قبلۂ اول ہمارا ہے ہم قدس کو آزاد کرائیں گے ۔ہم قدس کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیں گے لیکن قدس کو غاصبوں کے وجود سے پاک کرکے ہی دم لیں گے ۔

کیونکہ  ولی اعظمی کے بقول :

جو  پتھروں  میں  بھی کھلتے ہیں  وہ گلاب ہیں ہم
جو    سرخرو    ہے    بہرحال   وہ   شباب  ہیں   ہم
ہمارے   خون   کی   موجیں   انہیں   ڈبودیں   گی
سمجھ رہے ہیں  جو  بس وقت  کا  حباب  ہیں   ہم
اجڑ  کے  بسنے نہ دیں گے کسی  بھی  غاصب   کو
جو  ان  حسرتوں  کی  مانگ  کا خضاب ہیں   ہم
ہمارے    دم    سے     ہے    باقی    حرارت    اسلام
نگاہ  جس پہ  ہے  سب  کی  وہ   آفتاب   ہیں    ہم
کریں گے قدس کو صہیونیوں کے شرک سے پاک
خلیل   وقت   خمینی (رح)  کا   سچا  خواب   ہیں  ہم

رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے ایک موقع پر "یوم قدس" کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا تھا:

"یوم قدس ایک عالمی دن ہے یہ دن صرف قدس سے مخصوص نہیں بلکہ عالمی سطح پر مستکبرین عالم سے مستضعفین عالم کے مقابلے اور استقامت کا دن ہے یہ تمام سامراجی طاقتوں کے خلاف کمزوروں اور محروموں کی دائمی جنگ و پیکار کا دن ہے ، ان تمام قوموں کی جدو جہد اور کارزار کا دن ہے جو امریکہ اور اس کے ہم قبیل و ہم فکر دوسرے سامراجی ملکوں کی زیادتیوں کا شکار ہیں اس دن بڑی طاقتوں سے مقابلے کے لئے مستضعفین کو لیس ہوکر دشمنوں کی ناک خاک میں مل دینا چاہئے ۔"



1 2 next