شیعہ اور اہل سنت کے متعلق آیت اللہ العظمی وحید خراسانی کا اہم فتوی



جو شخص بھی اللہ تعالی کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رسالت کی شہادت دے وہ مسلمان ہے ۔ اور اس کی جان، مال اور عزت و آبرو ، مذہب جعفری کی پیروی کرنے والے کی طرح محفوظ و محترم ہے ۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جو شخص بھی اللہ تعالی کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رسالت کی شہادت دے وہ مسلمان ہے ۔ اور اس کی جان، مال اور عزت و آبرو ، مذہب جعفری کی پیروی کرنے والے کی طرح محفوظ و محترم ہے ۔

آپ کا شرعی وظیفہ یہ ہے کہ شہادتین کہنے والے کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں چاہے وہ تمہیں کافر ہی کیوں نہ جانتا ہو اور اگر وہ تمہارے ساتھ برا سلوک کرے تو تم صراط مستقیم اور حق و عدالت سے منحرف نہ ہو ، اگر ان میں سے کوئی مریض ہوجائے تو تم اس کی عیادت کے لئے جاؤ ، اگران کا انتقال ہوجائے تو تم ان کی تشیع جنازہ میں شرکت کرو ، اگر ان کو تم سے کسی چیز کی ضرورت ہو تو اس کو پورا کرو اور خداوند عالم کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرلو ، کیونکہ وہ فرماتا ہے :  ” یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامینَ لِلَّہِ شُہَداء َ بِالْقِسْطِ وَ لا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلی اٴَلاَّ تَعْدِلُوا اعْدِلُوا ہُوَ اٴَقْرَبُ لِلتَّقْوی وَ اتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبیرٌ بِما تَعْمَلُونَ“۔  ایمان والو خدا کے لئے قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بنو اور خبردار کسی قوم کی عداوت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ انصاف کو ترک کردو -انصاف کرو کہ یہی تقوٰی سے قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ۔

اور خداوندعالم کے حکم پر عمل کرتے رہو۔ ” یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِذا ضَرَبْتُمْ فی سَبیلِ اللَّہِ فَتَبَیَّنُوا وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ اٴَلْقی إِلَیْکُمُ السَّلامَ لَسْتَ مُؤْمِناً تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیاةِ الدُّنْیا فَعِنْدَ اللَّہِ مَغانِمُ کَثیرَةٌ کَذلِکَ کُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُوا إِنَّ اللَّہَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً “ ایمان والو جب تم راسِ خدا میں جہاد کے لئے سفر کرو تو پہلے تحقیق کرلو اور خبردار جو اسلام کی پیش کش کرے اس سے یہ نہ کہنا کہ تو مومن نہیں ہے کہ اس طرح تم زندگانی دنیا کا چند روزہ سرمایہ چاہتے ہو اور خدا کے پاس بکثرت فوائد پائے جاتے ہیں- آخر تم بھی تو پہلے ایسے ہی کافر تھے- خدا نے تم پر احسان کیا کہ تمہارے اسلام کو قبول کرلیا(اور دل چیرنے کی شرط نہیں لگائی) تو اب تم بھی اقدام سے پہلے تحقیق کرو کہ خدا تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے ۔

والسلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ