عقاب الاعمال ۱



فرمان الہی سے ہٹ کر عبادت کرنے والوں کی سزا

(۱) حضرت اما م جعفر صادق (علیہ السلام)ارشاد فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے ایک شخص نے اس قدر الله کی عبادت کی کہ سوکھ کر لکڑی کی مانند ہو گیا خدا نے اس زمانے کے نبی کی طرف وحی کی اور کہا کہ اس سے کہو کہ خدا نے فرمایا ہے مجھے اپنی عزت ، جلالت اور عظمت کی قسم اگر تم میری اتنی عبادت کرو کہ دیگ میں پڑی ہوئی چیز کی طرح گل سٹر کر پانی ہو جاؤ تو تب بھی میں اسے قبول نہ کروں گا مگر یہ کہ میرے فرمان کے مطابق عبادت کی جائے۔

امر الہی کو سبک سمجھنے کی سزا

(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) ارشاد فرماتے ہیں ، غفلت سے بچو غفلت کرنے والا خود سے غافل ہوتا ہے۔ اور امر الہی کو سبک سمجھنا چھوڑ دو کیونکہ امر الہی کو سبک سمجھنے والے کو الله تعالیٰ قیامت والے دن ذلیل و خوا ر کرے گا۔

اہل بیت پیغمبر سے بغض رکھنے کی سزا

(۱) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ہمارے اہل بیت (علیھم السلام) کیساتھ بغض رکھے گا تو الله تعالیٰ اسے یہودی اٹھائے گا پوچھا گیا یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اگر چہ وہ شھادتین ہی کیوں نہ پڑھتا ہو !!؟؟ فرمایا جی ہاں اس نے اپنی جان بچانے یا ذلیل و خوار ہو کر جزیہ کی ادائیگی سے بچنے کیلئے شھادتین کا اقرار کیا ہے مزید فرمایا ہمارے اہلبیت سے بغض رکھنے والے کو الله یہودی اٹھائے گا پوچھا گیا یا رسول الله (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) یہ کس طرح ہو گا ؟ فرما یا اگر یہ لوگ دجال کا زمانہ پائیں تو اس کے مذہب کو اختیار کرکے اس پر ایمان لے آئیں گے۔

(۲) راوی کہتا ہے کہ میں نے اس روایت کو حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ ہم اہل بیت سے بغض رکھنے والے کو الله تعالیٰ قیامت والے دن ہاتھوں کے بغیر اٹھائے گا۔

اہل بیت (علیھم السلام) کے حق سے جاہل ہونے کی سزا

(۱) راوی کہتا ہے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے مجھے فرمایا اے معلی اگر کوئی بندہٴ خدا رکن و مقام کے درمیان سو سال تک الله کی عبادت کرتا رہے ۔دن میں روزے رکھے اور راتیں قیام و سجود میں گزار دے یہاں تک کہ اس کے آبرو آنکھوں تک لٹک آئیں، کمر جھک جائے ، اور وہ ہمارے حق سے جاہل ہو تو اس کے لئے کسی قسم کا ثواب و جزاء نہیں ہے۔

 (۲) راوی کہتا ہے کہ حضرت ا مام زین العابدین (علیہ السلام)نے مجھ سے دریافت کیا کہ کونسی سی زمین افضل ہے میں نے عرض کی کہ خدا و رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور فرزند رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں حضرت نے فرمایا افضل جگہ رکن و مقام کا درمیانی علاقہ ہے فرمایا اگر کوئی شخص حضرت نوح کی طرح نو سو پچاس سالہ زندگی پائے اور ساری زندگی دن میں روزے رکھے اور رات میں اس افضل زمین پر نمازیں پڑھتا رہے اور اگر ہماری ولایت کے بغیر بارگاہ خداوند میں حاضری دے گا تو اسے کوئی عمل بھی فائدہ نہ دے گا۔

(۳) راوی کہتا ہے کہ میں حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر تھا آپ کے سامنے چادر پر تقریباً پچاس آدمی بیٹھے ہوئے تھے ایک طویل خاموشی کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا تمھیں کیا ہوگیا ہے ؟ شاید تم یہ خیال کر رہے ہو کہ میں الله کا نبی ہوں خدا کی قسم میں ایسا نہیں ہوں بلکہ میری حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے قرابت داری ہے اور میں انہی کی نسل سے ہوں جو شخص ہمارے ساتھ اچھائی کرے گا خدا اسکے ساتھ بھلائی کرے گا جو ہم سے محبت رکھے گا۔ خدا اس سے محبت رکھے گا اور جو ہمیں محروم رکھے گا تو خدا اسے محروم رکھے گا کیا جانتے ہو کہ کو نسا زمین کا حصّہ الله کے نزدیک مقام و منزلت کے لحاظ سے افضل ہے ؟ راوی کہتا ہے کہ ہم سب خاموش رہے حضرت نے جواب دیتے ہوئے فرمایا یہی مکہ مکرمہ ہی تو ہے جسے الله نے اپنے لئے بہترین نقطہٴ زمین قرار دیا ہے یہاں اپنا حرم بنایا اور اسے اپنا گھر قرار دیا پھر پوچھا کیا جانتے ہو کہ مکہ کا کونسا حصہ محترم ہے؟ سب خاموش رہے تو آپ نے خود ہی جواب میں فرمایا مسجد الحرام، اسکا محترم ترین مقام ہے۔ پھر پوچھا کیا جانتے ہو کہ مسجد الحرام میں کونسی جگہ الله کے نزدیک زیادہ عظمت و حرمت کی حامل ہے ؟ سب خاموش رہے اور آپ نے خود ہی جواب میں ارشاد فرمایا کہ وہ جگہ رکن اسود ، مقام (ابراہیم) اور باب کعبہ کے درمیان ہے یہی جگہ حضرت اسماعیل کا حطیم تھی اسی جگہ اپنی قربانی کو عذا دی تھی اور نماز ادا کی تھی۔ خدا کی قسم اگر کوئی شخص اس جگہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر عبادت میں مشغول رہے ساری ساری رات نمازیں پڑھتا رہے اور جب دن ہو تو اسے روزے میں گزار دے یہاں تک کہ رات ہو جائے اور وہ ہمارا حق شناس نہ ہو اور ہم اہل بیت کی عظمت سے نا آشنا ہو تو کبھی بھی الله اسکے کسی عمل کو شرف قبولیت نہ بخشے گا۔

امام کی معرفت کے بغیر مرنے کی سزا

(۱) راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اس فرمان کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ جو شخص امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جہالت کی موت مرا ہے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے ہاتھ کیساتھ سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا اسوقت تجھے اس (معرفت امام (علیہ السلام)) کی بہت زیادہ ضرورت ہو گی نیز فرمایا اس حوالے سے تیری سوچ عمدہ ہے۔

 (۲) حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں جن ائمہ کی اطاعت واجب ہے وہ ہم ہیں جو ان کا انکار کرے گا وہ یہودی اور نصرانی مرے گا۔ خدا کی قسم جب سے الله نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی روح قبض فرمائی ہے زمین کو ہدایت کرنے والے امام (علیہ السلام) کے بغیر نہیں چھوڑا ۔یہ بندوں پر الله کی حجّت ہیں جنھوں نے ان کا دامن چھوڑا وہ ہلاک ہوئے اور جنھوں نے ان کی فرمانبرداری کی ، ان کی نجات کی ذمہ داری الله پر ہے۔

اس شخص کی سزا جس نے خدا کی طرف سے منسوب نہ ہونے والے ظالم پیشوا کی اطاعت کی



1 2 3 4 next