اسلامی سیاست کافلسفہ



تعلیمات وحی کے ساتھ اسلامی سیاست کے فلسفہ کا رابطہ اور دینی نصوص (قرآن وروایات ) کا اسلامی فلسفیوں کے افکار واذہان پر اثر انداز ہونا اور فلسفی مباحث کے رخ کو اسلامی طرز تفکر کی طرف موڑدینا سنّت اسلامی میں پہلا مسئلہ ہے، مسلمان فلاسفہ کا عمدہ مفروض دانش بشری کو وحی الٰہی سے اخذ کرنا ہے جس کی تعلیم انبیاء الٰہی علیہم السلام کے ذریعہ بشر کو دی گئی ہے ۔

فلسفہٴ سیاست کی ترکیب فلسفہ مضاف کی اقسام میں سے ہے کہ جو بہت سی دوسری ترکیبی اقسام کی نسبت بہت قدیم ہے، ہرچند سیاسی فلسفہ کی اصطلاح بھی رائج ہے لیکن اگر فلسفہ سیاست کو سیاسی کام میں فلسفی تاٴمُّلات کے معنی میں لیا جائے تو یہ زیادہ دقیق ہوگا، فلسفہ سیاست کو اسلامی قید سے مقید کرنے کے سلسلے میں بہت سے نظریات پائے جاتے ہیں، ”اسلامی سیاست کے فلسفہ“ کے رائج معنی، مسلمانوں کی سیاست کے فلسفہٴ کے ہیں؛ ہرچند کہ فلسفہ سیاست کو اگر اسلامی تعلیمات اور پیش فرضوں سے اقتباس کئے ہوئے کہ معنا میں لیں اور نیز عقلی استدلال کو دینی متون میں جاری کرنے کے معنی میں لیں تو بیجا نہ ہوگا ۔

ہرچند کہ فلسفہ سیاست کو اسلامی تعلیمات کے مقدمات اور فرضیوں سے متاثرہونے کے معنی میں اور ایسے ہی عقلی استدلال کو دینی متون میں جاری کرنے کے معنی میں بھی لیں تو قابل قبول ہے ۔

یہ مقالہ مفہوم، مکاتب، روش شناسی اور اسلامی سیاست کے فلسفہ کے بیان کرنے کے لئے ایک مختصر سی کوشش ہے ۔

بیانِ مسئلہ

فلسفہ سیاسی یا فلسفہ سیاست تفکر انسانی کی سیاسی زندگی کے باب میں سب سے قدیم مسئلہ ہے، پرانے معاشرے میں اجتماعی سیاسی زندگی کی تشکیل کے ساتھ ہی اس کے باب میں عقلی تاٴمل وتفکر وجود میں آگئے تھے اور انھوں نے تکامل کی راہیں طے کرلی تھی، اگر باب سیاست سیاسی، فلسفی تفکر کے اصلی معیار کو میں بشر کا عقلانی تفکر جانیں تو انسانوں کے مختلف ادوار میں اس کی ترقی کے لئے اس کا بہت بڑا حصّہ ہے، مختلف تہذیبوں نے اپنے عقلانی تاٴمُّلات سے طرح طرح کے سیاسی فلسفے ایجاد کئے اور پیش کئے ہیں؛ البتہ باب سیاست میں عقلانی تاٴمُّلات ہمیشہ ترقی کی راہوں پر گامزن نہیں رہے بلکہ کبھی کبھی سیاسی۔ فلسفی تفکر میں پسپا ہوئے اور ان میں ضعف میں دکھائی دینے لگا ۔

ہر چند کہ بطور عمدہ سیاست کے باب میں فلسفی تفکر ، بشری فکر کے نتائج ہیں؛ لیکن دین اور مذہبوں نے بھی اس فکری میدان میں مختلف راستوں سے اپنا کردار نبھایا ہے، ادیان ومذاہب، تھئوریوں کے بنانے یا کبھی کبھی خاص موضوعات میں عقلانی استدلال کے ذریعہ ذہن بشری کو فعّال بنانے کی وجہ سے ”سیاسی فلسفہ“ کی ترقی، شکوفائی اور تحوّل کا باعث ہوئے ہیں ۔

اس کے واضح نمونوں کو دو سیاسی، فلسفی مکتب فکر یعنی اسلام اور مسحیت میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے، اسلامی دورہ میں فلسفہ سیاست نے وحیانی تعلیمات کو کشف کرنے کی کوشش کی کہ جن کا ثمرہ سیاسی، فلسفی تفکرات میں عقلانی اور وحیانی تعلیمات کی ہماہنگی قرار  پائی، فارابی، مسکویہ، ابن سینا اور ملّا صدرا جیسے فلسفی حضرات نے اس سلسلے میں کوششیں کیں ۔

فلسفہٴ سیاست، ایک دوسرے نظریہ کے مطابق فلسفہ کی اقسام میں سے بھی ہے، انسان نے عقلی تفکرات اور جہان ہستی اور اپنی انسانی حیات میں غوروفکر کے بعد، انسان سے مربوط مختلف مسائل میں عقلانی غور وفکر کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے مضاف فلسفوں کو ایجاد کیا، ان عقلانی تاٴمُّلات کے مسائل میں سے ایک مسئلہ سیاست کے باب میں موجود ہے کہ جو حقیقت میں سیاست کے مسئلہ کا عقلی پوسٹ مارٹم اور سیاسی زندگی کی ضروریات کے نتیجے کا اخذ کرنا ہے ۔

مقالہٴ حاضر میں کوشش کی گئی ہے کہ فلسفی، سیاسی تفکرات کو یا سیاسی تفکر میں فلسفہ سیاست اور اس کی خصوصیات کے مفہوم کو واضح اور روشن کرنے کے ساتھ اس کے مہم مسائل کی شناسائی اور اس سے مرتبط علوم جیسے کلام سیاسی، فقہ سیاسی اور علم سیاست کے درمیان وجہِ امتیاز کو بیان کریں اور پھر دورہٴ اسلامی میں فلسفہ سیاست کے مشخصات کی تحقیق کریں، ایسے ہی اس مختصر سی تحریر میں اسلام دنیا میں فلسفہ سیاست کی حالیہ وضعیت کی اجمالی طور سے تحقیق کریںاور اس کی آفتوں اور مشکلات کو تاحدّے پہچنوائیں گے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next