علی (علیہ السلام) کوکس جرم کی وجہ سے قتل کیا گیا



حضرت علی (علیہ السلام) کی شہادت سے متعلق یہ جملہ بہت زیادہ مشہور ہے : ''قتل لشدة عدالتہ'' حضرت علی (علیہ السلام) عدالت کی وجہ سے شہید ہوئے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امیر المومنین علی (علیہ السلام) اپنی عدالت کی وجہ سے کیوں قتل ہوئے ؟

حضرت علی (علیہ السلام) کی عدالت خواہی

اسلام میں ذاتی عدالت کی شرط بہت ضروری ہے یہاں تک کہ اگر عام آدمی کسی منصب پر قائم ہوجائے تو عدالت اس کے لئے بھی ضروری ہے ۔جیسے قاضی، شاہد اور امام جماعت کی عدالت۔ اور ان فراد میں اگر عدالت نہ پائی جائے تو قضاوت، شہادت اور امامت کا یہ عہدہ ان کے لئے جائز نہیں ہے ، ان تمام باتوں کے باوجود قرآن کریم نے عدل اوراس کے مشتقات کو ''اجتماعی عدالت'' کے معنی میں استعمال کیا ہے جیسے :

''و امرت لاعدل بینکم'' (١) ۔   اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان انصاف کروں ۔

''و اذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل'' (٢) ۔   اور جب تم لوگوں کے درمیان کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو ۔

'' ان الشرک ظلم عظیم''  (٣) ۔خبردار کسی کو خدا کا شریک نہ بنانا کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے ۔

'' ربنا ظلمنا انفسنا '' (٤) ۔ان دونوں نے کہا کہ پروردگار ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے ۔

اس مقالہ میں حضرت علی (علیہ السلام) کی عدالت خواہی سے مراد آپ کی ذاتی عدالت نہیں ہے کیونکہ آپ ایک عادل انسان تھے اور '' فقہی عدالت'' (٥) پر پائبند تھے ۔ بلکہ اجتماعی عدالت منظور ہے، حضرت علی (علیہ السلام) صرف عادل ہی نہیں تھے بلکہ معاشرہ میں عدالت کو اجراء کرنا چاہتے تھے ۔

حضرت علی (علیہ السلام) صرف عادل ہی نہیں تھے بلکہ عدالت خواہ تھے ... قرآن کریم کی آیت میں بھی اس بات کی تاکید کی گئی ہے ''یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا کُونُوا قَوَّامینَ بِالْقِسْطِ شُہَداء َ لِلَّہِ وَ لَوْ عَلی أَنْفُسِکُمْ أَوِ الْوالِدَیْنِ وَ الْأَقْرَبینَ اِنْ یَکُنْ غَنِیًّا أَوْ فَقیراً فَاللَّہُ أَوْلی بِہِما فَلا تَتَّبِعُوا الْہَوی أَنْ تَعْدِلُوا وَ اِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَِنَّ اللَّہَ کانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبیراً'' (٦) ۔  اے ایمان والو! عدل و انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقربا ہی کے خلاف کیوں نہ ہو- جس کے لئے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر اللہ دونوں کے لئے تم سے اولیٰ ہے لہذا خبردار خواہشات کا اتباع نہ کرنا تاکہ انصاف کرسکو اور اگر توڑ مروڑ سے کام لیا یا بالکل کنارہ کشی کرلی تو یاد رکھو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے

قسط کے متعلق قیام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ عدل کو قائم کرنا اور یہ عدل اورکسی شخص کے عادل ہونے کے علاوہ دوسری بات ہے(٧) حضرت علی (علیہ السلام) کی نظر میں عدالت کو جاری کرنا اس لئے ضروری تھا کہ معاشرہ اس کے بغیر صحیح زندگی نہیں گذار سکتا تھا : '' و من الناس من لا یصلحھا لا العدل (٨) ۔



1 2 3 4 5 6 7 next