شیعہ کبھی بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کے اصحاب کو کافر نہیں کہتے



آیت اللہ جعفر سبحانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ شیعوں پر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب کو کافر کہنے کی بہت بڑی تہمت لگائی جاتی ہے ، کہا:  شیعوں نے کبھی بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے اصحاب کو کافرنہیں کہا ہے ، بلکہ شیعہ ، آنحضرت (ص) کے اصحاب کو دوست رکھتے ہوئے اور ان کا احترام کرتے ہیں ۔

آیت اللہ سبحانی نے مدرسہ عالی فقہ میں سورہ ''حشر'' کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: غلط پروپیکنڈہ کے برخلاف شیعہ بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب کو دوست رکھتے ہیں، لیکن افسوس کہ بعض لوگوں نے شیعوں پر جھوٹی تہمت لگائی ہے کہ شیعہ صحابہ کو کافر کہتے ہیں ۔

آپ نے مزید فرمایا: تکفیر ایک الگ مسئلہ ہے اور عدالت دوسرا مسئلہ ہے ، ان دونوں کو ایک دوسرے سے نہیں ملانا چاہئے ،شیعوں کا نظریہ یہ ہے کہ صحابہ کے درمیان ٧٠ فی صدسے زیادہ صحابی متقی اور عادل ہیں ، لیکن کچھ صحابہ عادل نہیں ہیں اور عدالت کا نہ ہونا تکفیر سے بالکل جدا ہے ۔

آیت اللہ سبحانی نے کہا :  شیعہ کس طرح صحابہ کو تکفیر کرسکتے ہیں جب کہ شیعوں کی نظر میں ١٥٠ سے زیادہ صحابی حضرت علی (علیہ السلام) کے شیعہ ہیں، اس بناء پر جو سائٹیں اور چینلز شیعوں پر تہمت لگاتے ہیں ان کو خدا وند عالم سے ڈرنا چاہئے اور یہ جھوٹی باتیں بیان نہیں کرنا چاہئے ۔

ان مرجع تقلید شیعہ نے اہل سنت کی کتابوں جیسے ''صحیح بخاری'' میں مندرج بعض روایتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:  صحیح بخاری کی بعض روایات میں صحابہ کے مرتد ہونے پر تصریح کی گئی ہے ، لہذا جو لوگ شیعوں پر ناروا تہمتیں لگاتے ہیں ان کو اپنی کتابوں میں مراجعہ کرنا چاہئے اور ان کی اصلاح کرنا چاہئے کہ انہوں نے مرتد ہونے کی باتیں کیوں نقل کی ہیں ۔

آپ نے تاکید کرتے ہوئے کہا: شیعوں نے کبھی بھی صحابہ کے مرتد ہونے کی بحث کو بیان نہیں کیا ہے اور ان کے کافر ہونے کی باتوں کو کبھی بھی کسی کے سامنے پیش نہیں کیا ہے ، البتہ بعض روایات میں صحابہ کے مرتد ہونے کی طرف اشارہ ہوا ہے اور یہ اشارہ ولایت سے مربوط ہے ، لہذا صحابہ کا اسلام سے مرتد ہونا صحیح نہیں ہے ،اس بناء پر جو لوگ شیعوں پر تہمت لگاتے ہیں ان کو اس بات کا علم نہیں ہے ۔

ان مفسر قرآن کریم نے بعض صحابہ کے عادل نہ ہونے پر بعض تاریخی حوادث کی تصریح کرتے ہوئے فرمایا: تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بارہا مختلف جگہوں پر اس پر اعتراض کیا اور بہت زیادہ آیتیں ان کی ہدایت اور گمراہی و فسق سے محفوظ رہنے کے لئے نازل ہوئی ہیں، جس کی بعض مثالیں سورہ حشر میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔

آیت اللہ سبحانی نے تاکید کرتے ہوئے کہا:  پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعض خطبے اور رسول اللہ (ص) کے بعد کی جنگیں جیسے جنگ جمل اورجنگ نہروان وغیرہ اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ بعض اصحاب پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے آپ کے ارادوں پر حسد کیا اور اپنی ناراضگی کو بیان کیا ہے اور اس طرح وہ عدالت سے ساقط ہوگئے ہیں ۔

مرجع تقلید شیعہ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا : اس طرح کی آیات سے مراد یہ ہے کہ حقیقی اصحاب وہ ہیں جن میں اس طرح کے صفات اور خصوصیات پائی جاتی ہیں، وہ صفات نہیں جن کو بعض لوگ تمام اصحاب کے بدن پر عدالت اور قداست کا لباس پہنانا چاہتے ہیں ۔



1 next