امام زين العابدين عليه السلام کی حیات طیبہ



امام سجاد علیہ السلام  کی حیات طیبہ کا سماجی، علمی، سیاسی اور تہذیبی حوالوں سے جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔ امام سجاد علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے

 

السلام علی الحسين و علی علي بن الحسين و علی اولاد الحسين و علی اصحاب الحسين

 

امام علي ‏بن ‏الحسين (علیہما السلام)، زین العابدین اور سجاد کے القاب سے مشہور ہیں اور روایت مشہور کے مطابق آپ (ع) کی ولادت شعبان المعظم سنہ 38 ہجری مدینہ منورہ میں ہوئی ۔ کربلا کے واقعے میں آپ (ع) 22 یا 23 سال کے نوجوان تھے اور مسلم مؤرخین و سیرت نگاروں کے مطابق آپ (ع) عمر کے لحاظ سے اپنے بھائی علی اکبر علیہ السلام سے چھوٹے تھے ۔

امام سجاد علیہ السلام  کی حیات طیبہ کا سماجی، علمی، سیاسی اور تہذیبی حوالوں سے جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔ امام سجاد علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ آپ (ع) کربلا کے واقعے میں اپنے والد ماجد سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ تھے اور شہیدوں کی شہادت کے بعد اپنی پھوپھی ثانی زہراء سلام اللہ علیہا کے ہمراہ کربلا کے انقلاب اور عاشورا کی تحریک کا پیغام لے کر بنو امیہ کے ہاتھوں اسیری کی زندگی قبول کرلی اور اسیری کے ایام میں عاشورا کا پیغام مؤثرترین انداز سے دنیا والوں تک اور رہتی دنیا تک کے حریت پسندوں تک، پہنچایا ۔

عاشورا کا قیام زندہ جاوید اسلامی تحریک ہے جو محرم سنہ 61 ہجری کو انجام پائی ۔ یہ تحریک دو مرحلوں پر مشتمل تھی ۔ پہلا مرحلیہ تحریک کا آغاز، جہاد و جانبازی اور اسلامی کرامت کے دفاع کے لئے خون و جان کی قربانی دینے کا مرحلہ تھا جس میں عدل کے قیام کی دعوت بھی دی گئی اور دین محمد (ص) کے احیاء کے لئے اور سیرت نبوی و علوی کو زندہ کرنے کے لئے جان نثاری بھی کی گئی ۔ پہلا مرحلہ رجب المرجب سنہ 60 ہجری سے شروع اور 10 محرم سنہ 61 ہجری پر مکمل ہوا ۔ جبکہ دوسرا مرحلہ اس قیام و انقلاب کو استحکام بخشنے، تحریک کا پیغام پہنچانے اور علمی و تہذیبی جدوجہد نیز اس قیام مقدس کے اہداف کی تشریح کا مرحلہ تھا ۔ پہلے مرحلے کی قیادت امام سیدالشہداء علیہ السلام نے کی تھی تو دوسرے مرحلے کی قیادت سید الساجدین امام زین العابدین علیہ السلام کو سونپ دی گئی ۔

امامت شیعہ اور تحریک عاشورا کی قیادت امام سجاد علیہ السلا کو ایسے حال میں سونپ دی گئی تھی کہ آل علی علیہ السلام کے اہم ترین افراد آپ (ع) کے ہمراہ اسیر ہوکر امویوں کے دارالحکومت دمشق کی طرف منتقل کئے جارہے تھے؛ آل علی (ع) پر ہر قسم کی تہمتوں اور بہتانوں کے ساتھ ساتھ فیزیکی اور جسمانی طور پر بھی بنی امیہ کے اذیت و آزار کا نشانہ بنے ہوئے تھے اور ان کے متعدد افراد امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کے ہمراہ کربلا میں شہادت پاچکے تھے اور بنی امیہ کے دغل باز حکمران موقع سے فائدہ اٹھا کر ہر قسم کا الزام لگانے میں اپنے آپ کو مکمل طور پر آزاد سمجھ رہے تھے کیونکہ مسلمان جہاد کا جذبہ کھوچکے تھے اور ہر کوئی اپنی خیریت کو اولی سمجھتا تھا ۔

اس زمانے میں دینی اقدار تغیر و تحریف کا شکار تھیں لوگوں کی دینی حمیت ختم ہوچکی تھی، دینی احکامات اموی نااہلوں کے ہاتھوں کا بازیچہ بن چکے تھے؛ خرافات و توہمات کو رواج دیا جاچکا تھا، امویوں کی دہشت گردی، اور تشدد و خوف و ہراس پھیلانے کے حربوں کے تحت مسلمانوں میں شہادت و شجاعت کے جذبات جواب دے چکے تھے ۔ اگر ایک طرف دینی احکام و تعلیمات سے روگردانی پر کوئی روک ٹوک نہ تھی تو دوسری طرف سے حکومت وقت پر تنقید و اعتراض کی پاداش میں شدید ترین سزائیں دی جاتی تھیں، لوگوں کو غیرانسانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور ان کا گھر بار لوٹ لیا جاتا تھا اور ان کے اموال و املاک کو اموی حکمرانوں کے حق میں ضبط کیا جاتا تھا اور انہیں اسلامی معاشرے کی تمام مراعاتوں سے محروم کیا جاتا تھا اور اس سلسلے میں آل ہاشم کو خاص طور پر نشانے پر رکھا گیا تھا ۔

ادھر آل امیہ کی عام پالیسی یہ تھی کہ وہ لوگوں کو خاندان وحی سے رابطہ کرنے سے روک لیتے تھے اور انہیں اہل بیت رسول (ص) کے خلاف اقدامات کرنے پر آمادہ کیا کرتے تھے وہ لوگوں کو اہل بیت علیہم السلام کی باتیں سننے تک سے روک لیتے تھے جیسا کہ یزید کا دادا اور معاویہ کا باپ  صخر بن حرب (ابوسفیان) ابوجہل اور ابولہب وغیرہ کے ساتھ مل کر بعثت کے بعد کے ایام میں عوام کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی باتیں سننے سے روک لیتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ آپ (ص) کی باتوں میں سحر ہے، سنوگے تو سحر کا شکار ہوجاؤ گے ۔



1 2 3 next