عبادتوں کے جلوے



پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جناب ابو ذرسے کی گئی پند و نصائح کے بعض حصوں پر بحث و تحقیق کے بعد اب ہم ا س کے ایک اور حصہ کی بحث و تحقیق کریں گے جس کا مو ضوع مسجد،مسجد میں حاضر ہونے کے آداب اورنماز کی اہمیت ہے۔

عبادت کا مفہوم اور اس کی وسعت:

  ابتدا میں ہم عبادت کے مفہوم اور اسکی وسعت کے بارے میںبحث کریں گے ۔چنانچہ ہم  نے اس سے پہلے بیان کیا ہے کہ انسان کا حقیقی کمال قرب الہی میں ہے اور اس قرب الٰہی یا حقیقی تکامل کو حاصل کر نے کا وسیلہ عبادت ہے ۔عبادت و پر ستش کہ جس کے بہت ہی وسیع اورعمیق مفاہیم ہیں اور یہ ایک ایسے جاذبہ سے بہرہ مند ہے کہ جو حیرت و پریشانی کے سمندر میں پھنسے ہر شخص کو آرام و سکون کے ساحل سے ہم کنار کر دیتا ہے اور آخرکار فنافی اللہ کے مقام تک پہنچا تا ہے حقیقت میں کوئی قلم اور بیان، عبادت و پرستش کے ملکو تی جاذبہ کی بلندی و گہرائی کی تو صیف نہیں کر سکتا ہے اور سچ یہ ہے کہ یہ بلند مفہوم الہی الفاظ وبیان کے قالب میںنہیں آسکتا ہے ۔صرف وہ امام بر حق سخی و جوانمرد نیز اطاعت وعبادت کے شیدائی حضرت علی ابن ابیطالب علیھما السلام ہیں کہ جو فر ماتے ہیں:

الہی کفی بی عزا ان اکون لک عبد اوکفی بی فخرا ان تکون لی ربا“  ۱

 ------------------------------------------

    ۔  آل عمران/۲۰۰

   ۱۔بحارالانوار،ج۷۷ص۴۰۲

 

  پرور دگارا!میری عزت کے لئے کافی ہے کہ تیرا بندہ ہوں اور میرے فخر کے لئے کافی ہے کہ تو میرا پروردگار ہے!“

      یہ بات اللہ کی عبودیت و بندگی کے عشق میں غرق شدہ روح سے نکلی ہے،اس بلند روح سے کہ فرماتا ہے:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 next