بہارِ انقلاب سے انقلابِ مہدی تک



یہ کافری نہیں تو پھر کیا ہے

 

قرآنِ مجید میں ایک مومن کیلئے جو Code of Conduct (یا ضابطۂ اخلاق) محبت و نفرت کے تعلق سے مقرر ہوا ہے اس کے مطابق ایک مومن ہرگز ہرگز دوسرے مومن سے دشمنی کرکے استعمار سے سانٹھ گانٹھ نہیں کرسکتا ہے اگر اس نے ایسا کچھ کیا تو جان لینا چاہیئے خدا کے ساتھ اس کا کوئی علاقہ نہیں ہے۔ لیکن استعمار کے ان کاسہ برداروں کی دوستی و دشمنی کا معیار قرآنی ہدایات کے بالکل برعکس ہے۔ انہیں حماس اور حزب اللہ جیسی تحریکوں کے ساتھ خدا لگی بیر ہے۔

 انقلابِ اسلامی ان کی آنکھوں میں گذشتہ تین دہائیوں سے کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ یہ اسی آگ میں جلے بُھنے جارہے ہیں کہ اگر ان تحریکوں کا جذبہ ان کی ریاستوں میں بھی نفوذ کرجائے تو ان کے اقتدار کی خیر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اسرائیل کو ہی اپنا نجات دہندہ تصور کرتے ہیں۔ اور امریکی چھتر چھایا کو اپنے تئیں واحد محفوظ پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں کو کیا معلوم کہ حق و حقیقت بالآخر ظاہر ہوکر ہی رہتا ہے۔ اس کے اثرونفوذ کو روکنے کیلئے جس قدر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں۔ اُسی قدر اُس میں اضافہ ہوا جاتا ہے۔ غالب نے بھی اسی کلیہ کی جانب بڑے ہی بلیغ اندازمیں اشارہ کیا ہے:

 

پاتے نہیں جب راہ تو، تو چڑھ جاتے ہیں نالے

رُکتی ہے میری طبع، تو ہوتی ہے رواں اور

 

اگر ان کی آنکھوں کو حقیقت بینی ذرہ برابر بھی راس آجاتی تو یہ طولِ تاریخ نیز معاصر عالمی منظر نامے میں اس بات کا ضرور مطالعہ اور مشاہدہ کرپاتے کہ حق پرستوں کی جماعت بڑی سخت جان ہوا کرتی ہے۔ یہ موت کی پیٹھ پر سوار ہوکر اپنی منزل ِمقصود پر خیمہ زن ہو جاتی ہے۔ جتنا اسے دبایا جائے اتنا ہی ابھرتی ہے۔ ہر چند عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے حکمران بھی ظلم و تعدی پر اُترآئیں۔ اس جماعت سے وابستہ جیالے کبھی پست ہمت اور بد دل نہیں ہوتے۔

 



back 1 2 3 next