انبیاء (علیہم السلام)کے مبارزے



  

ربوبیت کے سلسلے میں انبیا ء علیھم السلام کے مبارزے

 

ادیان آسمانی کی تاریخ بتاتی ھے کہ اکثر جباروں اور ستمگروں کی نزاع اور کشمکش کا محور جو انبیاء کے مقابلے میں آتے تھے”خدا کی ربوبیت“ اور اس کی پروردگار ی تھی نہ کہ ”خالقیت“ کیونکہ بیشتر قومیںاس بات کا عقیدہ رکھتی تھےں کہ ”اللہ“ تمام موجودات کا خالق ھے اگر چہ کبھی اس کا دوسرانام رکھ دیتے تھے، جیسے یھود کہ ”اللہ“ کو ”یھوہ“ کہتے تھے جیسا کہ خداوندعالم نے ان کے بارے میں خبر دیتے ھوئے فرمایا ھے:

۱۔<ولئن ساٴلتھم من خلق السمٰوات و الارض لیقولن اللہ>

اور اگر ان سے سوال کروگے کہ زمین و آسمان کو کس نے خلق کیا ھے تو وہ کھیں گے: اللہ نے![1]

۲۔< ولئن ساٴلتھم من خلق السمٰوات و الارض لیقولن خلقھن العزیز العلیم>

اور اگر ان سے سوال کروگے کہ زمین و آسمان کو کس نے خلق کیا ھے تو وہ کھیں گے: قادر اور دانا خدا نے اسے خلق کیا ھے ۔[2]

۳۔<ولئن ساٴلتھم من خلقھم لیقولن اللہ فاٴنیٰ یوٴفکون>

اگر ان سے سوال کروگے کہ ان کو کس نے خلق کیا ھے تو وہ کھیں گے: اللہ نے! پھر کس طرح اس سے منحرف ھو جاتے ھیں ؟[3]

ھم اس بحث کو فرعون سے موسیٰ کلیم  (علیہ السلام)  کے مبارزہ سے شروع کرتے ھیں کیونکہ اسمیں تصاد م اورمبارزہ کے تمام پھلو مکمل طور پر واضح ھیں ۔

موسیٰ کلیم اللہ اور فرعون

حضرت موسیٰ علیہ السلام اوران کے زمانے کے طاغوت فرعون کی داستان قرآن کریم میں باربار ذکر ھوئی ھے، منجملہ ان کے سورہٴ نازعات میں ھے: فرعون نے آیات الٰھی کو دیکھنے اور حضرت موسیٰ  (علیہ السلام)  کے اس پر حجت تمام کرنے کے بعد مصر کے ایک عظیم گروہ کو اکٹھا کیا اور ان کے درمیان آواز لگائی:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next