روایت میں پیغمبر اکرم (ص) کا زینب سے شادی کرنا



 

آیہ” و تخفی فی نفسک“( تم دل میں کچھ چھپاتے ھو )کی تفسیرمیں خازن کہتے ھیں : اس سلسلے میںصحیح ترین  بات ایک روایت ھے جو سفیان بن عیینہ اور انھوں نے علی بن جدعان سے نقل کی ھے راوی علی بن حد عان نے کھا: زین العابدین علی بن الحسین  (علیہ السلام)  نے مجھ سے سوال کیا: حسن بصری اللہ کے اس کلام:

<و تخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ و تخشی النا س واللہ احق ان تخشاہ>

(دل میں کچھ پوشیدہ رکھتے ھو کہ جس کو خداآشکار کر دیتا ھے ؛ اور لوگوں سے ڈر تے ھوجبکہ خدا اس بات کا زیادہ حقدار ھے کہ اس سے ڈرا جائے)۔

کے بارے میں کیا کہتاھے ؟ میں نے کھا: جب زید رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کی خدمت میں پھنچے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں زینب کو طلاق دینے کا مصمم ارادہ رکھتا ھوں، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  حیرت زدہ ھو ئے اور فرمایا: اپنی بیوی کو طلاق نہ دو اور خدا سے ڈرو، علی بن الحسین  (علیہ السلام)  نے فرمایا: ایسا نھیں ھے بلکہ خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  کو آگاہ کر دیا تھا کہ زینب عنقریب پیغمبر کی بیویوں کے زمرہ میں شامل ھوںگی اور زید انھیں طلاق دے دیںگے، جب زید حضرت کی خدمت میں آکر کھنے لگے کہ میں زینب کو طلاق دینا چاہتا ھوں تو حضرت نے فرمایا اسے اپنے پاس رکھوتب خداوند متعال نے پیغمبر کوسرزنش کی کہ کیوں تم نے کھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو!میں نے تو تمھیں آگاہ کر دیاتھا کہ عنقریب وہ تمھاری بیویوں کی صف میں شامل ھو جائیگی؟!

خازن کہتا ھے:

یہ تفسیر پیغمبروں کی شان و منزلت کے اعتبار سے زیادہ مناسب اور سزاوار ھے اور قرآن کی صریحی آیات سے ھم آھنگ ھے۔

 زینب کی شادی کی مفصل داستان پھلے زید سے، پھر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  سے آیات و روایات میں اس طرح ھے:

الف۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)  سے زینب کی شادی کے متعلق آیات:

<وما کان لموٴمن و لا موٴمنة اذا قضی اللہ ورسولہ امراً ان یکون لھم الخیرة من اٴمرھم و من یعص اللہ و رسولہ فقد ضل ضلالًا مبینا# و اذ تقول للذی انعم اللہ علیہ و انعمت علیہ امسک علیک زوجک و اتق اللہ  و تخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ و تخشی الناس و اللہ احق ان تخشاہ فلما قضیٰ زید منھا وطراً زوجناکھا لکی لا یکون علیٰ الموٴمنین حرج فی ازواج ادعیائھم اذا قضوا منھن وطرا و کان امر اللہ مفعولا#ما کان علیٰ النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ سنة اللہ فی الذین خلوا من قبل و کان امر اللہ  قدرا مقدورا# الذین یبلغون رسالات اللہ و یخشونہ ولا یخشون احداً الا اللہ و کفیٰ باللہ حسیبا#ما کان محمد اٴبا اٴحد من رجالکم و لٰکن رسول اللہ و خاتم النبیین و کان اللہ بکل شیء علیماً>

کسی مرد اور عورت کےلئے مناسب نھیں ھے کہ جب خدا اور اس کا رسول کسی امر کو لازم سمجھےں تو وہ اپنا اختیار دکھلائے اور جو کوئی خدا و رسول کی نافرمانی کرے تو وہ کھلی ضلالت و گمراھی میں ھے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 next