مرجعیت کے عام شرائط اور نص



 

 

گذشتہ بحثوں میں ہم نے اہلبیت(علیہم السلام) کی مرجعیت اور دینی مرکزیت کی لیاقت کے سلسلہ میں دلائل پیش کئے ہیں اور ان کی حمایت و لیاقت پر متعدد شواہد و دلائل بھی پیش کئے جس میں آیات الٰہیہ اور فرمان رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) شامل تھا، اور ہم نے یہ بات بھی عرض کی تھی کہ اسلام کی قیادت اور سیاست کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ھے دونوں ایک دوسرے کے اٹوٹ حصے ہیں، اور نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس سلسلہ میں اقدام بھی کیا خاص طور سے ہجرت کے بعد مسلمانوں نے دو حکومتوں کے سنگم کو بنحو احسن درک بھی کیا، گویا رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی جانب سے دینی مرجعیت و مرکزیت پر نص موجود ھے لہٰذا سیاسی مرکزیت کے لئے بھی کسی کا وجود ضروری ھے، انھیں ضروریات کے پیش نظر رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے بعد کے وصی کا تعین فرمایا اور ان افراد نے احکام الٰہیہ کا اجراء بھی کیا جس طرح سے نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے خبر دی تھی اور افراد کا تعین بھی فرمایا تھا، ثبوت میں کچھ واقعات پیش کریں گے:

اگر ہم حیات نبوی کا بغور مطالعہ کریں گے تو یہ بات کھل کر سامنے آئے گی کہ رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ابتدائے بعثت میں ہی اس جانب خاص عنایت رکھی ھے اور اس قائد کی تعیین کا اہتمام کیا ھے جو ان کے بعد امت رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے امور کی پاسبانی میں ان کا خلیفہ ھوگا، اور خداوند تعالیٰ کی بھی عنایت رہی ھے کہ اس نے نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی کفالت میں تربیت کے مسئلہ کو بھی حل کردیا اور وہ بھی اعلان رسالت سے قبل۔

ابن اسحق، ابن ہشام کی نقل کے مطابق اس واقعہ کی یوں منظر کشی کرتا ھے: علی ابن ابی طالب (ع) پر خدا کی خاص عنایت یہ تھی کہ جس وقت قریش سخت قحط سالی سے دوچار تھے اور حضرت ابوطالب کثیر العیال تھے، تو رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنے چچا عباس بن عبد المطلب، جو کہ اس وقت کے متمول افراد میں شمار ھوتے تھے، ان سے کہا کہ لوگ اس وقت قحط سالی کے شکار ہیں اور آپ کے بھائی ابوطالب کثیر العیال ہیں لہٰذا ہم لوگ چل کر بات کرتے ہیں تاکہ ان کے اہل و عیال کے بوجھ اور خرچ کو ہلکا کرسکیں، ان کے فرزندوں میں سے ایک ہم لے لیتے ہیں اور ایک کو آپ، اور ہم دونوں ان کی کفالت کریں گے، جناب عباس نے حامی بھر لی! دونوں افراد حضرت ابوطالب کے پاس آئے اور دونوں نے ایک زبان ھوکر کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے عیال کا بوجھ ہلکا کردیں، تاکہ لوگوں میں جو بات (آپ کے کثیر العیالی اور مشکلات کی) پھیلی ھے وہ ختم ھوجائے۔

حضرت ابوطالب (ع) نے ان لوگوں سے کہا کہ عقیل کو میرے پاس چھوڑ دو بقیہ جو فیصلہ کرنا چاھو تم لوگوں کو اختیار ھے۔

رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (ع) کو لیا اور سینہ سے لگالیا، حضرت علی (ع) بھی سایہ کی طرح آپ کے ساتھ ساتھ رھے یہاں تک کہ آپ مبعوث بہ رسالت ھوئے اس وقت حضرت علی (ع) نے آپ کی اتباع کی، آپ پر ایمان لائے اور آپ کی رسالت کی تصدیق کی اور جعفر جناب عباس کے پاس ان کے اسلام لانے تک رھے یہاں تک کہ غربت کے دن دور ھوگئے۔[1]

پیغمبر اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (ع) کے سابق الاسلام اور سابق الایمان ھونے پر متعدد بار اشارہ کیا ھے آپ نے آنے والے دنوں کے ضمن میں یہ اشارہ کیا تھا، جیسا کہ سلمان / اور ابوذر  /سے روایت ھے کہ آپ نے فرمایا: یہ (علی) وہ ہیں جو سب سے پہلے ہم پر ایمان لائے اور روز قیامت سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے، یہ صدیق اکبر، اس امت کے فاروق اعظم (جو کہ حق و باطل کے درمیان فرق کریں گے) اور مومنین کے یعسوب (سربراہ) ہیں۔

امیر المومنین - نے بھی تربیت نبوی اور کفالت رسالت کی جانب اشارہ کیا ھے جب آپ (ع) کی شخصیت میں نکھار آرہا تھا اور عضلات بدن نمو پارھے تھے۔



1 2 3 4 5 next