مرجعیت کے عام شرائط اور نص



اور مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اس بات کی جانب متوجہ ھوئی چنانچہ ابوبکر نے عمر کو معین کیا تھا اور امت کو ا س بات کا بالکل حق نہیں دیا تھا کہ وہ اپنا رہبر چن لیں۔

 اور خود عمر بن الخطاب اس بات کے راوی ہیں کہ اگر سالم مولیٰ ابی حذیفہ یا ابوعبیدہ بن الجراح دونوں میں سے کوئی ایک زندہ ھوتا، تو کسی ایک کو منتخب کرتا اور بغیر کسی شک و تردید کے اس کو خلیفہ بناتا، انھوں نے تو امت سے مطلق طور پر اس اختیار کو سلب کرلیا تھا اور چھ لوگوں کی ایک شوریٰ (کمیٹی) معین کردی تھی کہ اس میں کسی ایک کو میرے بعد خلیفہ کے طور پر منتخب کرلو۔

ان سب باتوں کے پیش نظر جب اصحاب کرام خلافت کی اہمیت کو درک کر رھے تھے تو رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کیونکر غافل رہ جاتے اور اس کی اہمیت کو درک نہ کرپاتے جب کہ آپ عقل کل اور امت و رسالت کے مصالح کو بہتر درک کرتے تھے، لہٰذا جب ہم سیرہٴ نبوی کو دیکھیں گے تو ہم کو اس بات کا علم ھوگا کہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بے پناہ حدیثیں موجود ہیں جواس بات کی غماز ہیں کہ آپ نے اس عظیم مسئلہ کے حل میں بالکل تساہلی سے کام نہیں لیا جس سے امت مسلمہ کا مستقبل وابستہ تھا، آپ نے اس نورانی مرکزیت و مرجعیت کے خد و خال بتادیئے تھے اور اس کی حدبندی بھی فرمادی تھی! اور یہ کام تو آپ نے ابتدائے اسلام ہی میں کرڈالا تھا اہل سنت کے منابع میں اس بات کا تذکرہ ملتا ھے کہ <وَ اٴنذِر عَشِیرَتَکَ الاٴقرَبِینَ> جب یہ آیت نازل ھوئی تو بعثت رسالت کا تیسرا سال تھا، رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے علی (ع) کو طلب کیا اور فرمایا: اے علی! خدا نے ہم کو حکم دیا ھے کہ ہم اپنے اقرباء کو (عذاب الٰہی سے) ڈرائیں، میں سونچ رہا ھوں کہ اس کام کو کیسے شروع کروں، میں جانتا ھوں کہ وہ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں اسی لئے میں نے خموشی اختیار کرلی، یہاں تک جبرئیل آئے اور کہا کہ ”اے محمد! اگر تم نے حکم خدا پر عمل نہیں کیا تو تمہارا خدا تم سے ناراض ھو جائے گا“ لہٰذا علی تم ایک صاع (ایک قسم کا ناپ اور پیمانہ ھے) کھانا اور ایک بکری کی ران بناؤ اور ایک برتن میں دودھ بھردو، اس کے بعد عبدالمطلب کے فرزندوں کو دعوت دو تاکہ میں ان سے کچھ بات کرسکوں او رجس بات کا حکم دیا گیا ھے اس کو پہنچا سکوں۔

(امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں کہ) میںنے حکم رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے مطابق لوگوں کو دعوت دیدی اس دن تقریباً چالیس لوگ جمع ھوئے جس میں آپ کے چچا حضرات ابوطالب، حمزہ، عباس، ابولہب وغیرہ شامل تھے، جب سب لوگ آگئے تو کھانا پیش کرنے کو کہا، میں نے لاکر رکھا رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے گوشت کا ٹکڑا اٹھایا اور چکھ کر برتن کے ایک کونے میں واپس رکھ دیا اس کے بعد کہا: ”بسم اللہ کہہ کر شروع کریں“ سارے افراد نے چھک کر کھایا اور ابھی کھانا بچا ھوا تھا، قسم ھے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ھے کوئی ایک بھی ایسا نہیں بچا تھا جس کے سامنے میںنے کھانا پیش نہ کیا ھو، اس کے بعد رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حکم دیا: سب کو سیراب کرو! پھر میں نے شیر پیش کیا، سب نے پیا یہاں تک کہ سب سیراب ھوگئے ،قسم ھے خدائے جلال کی کوئی ایک بھی پیاسا نہ تھا، اس کے بعد جب رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کچھ کہنا چاہا، ابولہب آپ پر سبقت لے گیا اور کہا: خبردار! تم لوگوں نے اس شخص کی جادوگری کو دیکھا، پورے افراد تتربتر ھوگئے اور اس دن رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کچھ نہ کہہ سکے، دوسرے دن رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کہا: علی وہ شخص مجھ پر سبقت لے گیا، قبل اس کے کہ وہ میری بات سنتا اور میں افراد سے گفتگو کرتا، سب چلے گئے لہٰذا پھر تم اسی دن کی طرح کھانے کا انتظام کرو اور لوگوں کو دعوت دو۔

میںنے حسب دستور لوگوں کو پھر جمع کیا پھر مجھ کو کھانا پیش کرنے کا حکم دیا، میں نے سارا کام کل کی طرح انجام دیا ،سب نے ڈٹ کر کھایا پھر سیرابی کا حکم ملا ، میں نے سب کو سیراب کیا اس کے بعد رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) گویا ھوئے: اے فرزندان عبد المطلب! خدا کی قسم پورے عرب میں ایسا کوئی جوان نہیں ھے جو مجھ سے بہتر اپنی قوم کے لئے کوئی چیز لائے، میں تم لوگوں کے لئے دنیا و آخرت کی بھلائی لایا ھوں اور خدا نے ہم کو اس بات کا حکم دیا ھے ، لہٰذا کون ھے جو میری اس امر میں پشت پناہی کرے تاکہ وہ میرا وصی و خلیفہ ھوسکے۔

پوری قوم اس تجویز سے روگردانی کرگئی ، تو میں نے کہا، جب کہ میں عمر میں سب سے چھوٹا ھوں، آنکھیں گرد آلود ہیں، پنڈلیاں کمزور ہیں لیکن اے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)! اس کام میں آپ کا میں پشت پناہ و حامی ھوں۔

رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے میرے شانے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: یہ میرے بھائی، وصی اور تمہارے درمیان میرے خلیفہ ہیں ان کے احکامات کی پیروی کرو اور ان کے فرمان پر ہمہ تن گوش رھو۔

سب لوگ وہاں سے ہنستے ھوئے اٹھے اور کہنے لگے: ابوطالب تم کو تمہارے بیٹے کی اطاعت و پیروی کا حکم دیا گیا ھے۔[3]

یہ عبارت جو کہ ہمارے لئے آغاز بعثت کی منظر کشی کرتی ھے اور اس طرح کی صراحت و وضاحت کے باوجود بعض مورخین و مؤلفین نے اس طرح کی باتوں کو یا تو سرے سے حذف کردیا ھے یا پھر اس میں کتربیونت کی ھے جس میں رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے صاف صاف علی (ع) کی ولایت و وصایت کا اعلان و اظہار کیا ھے اور ان کی اطاعت کا حکم دیا ھے جب کہ اس وقت موجودہ افراد نے ابوطالب کا مذاق اڑایا تھا اور اس بات کا طعنہ بھی دیا تھا کہ بیٹے کی اطاعت و ولایت مبارک ھو۔

رسول اسلام(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا مبلّغ

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے علی (ع) کی حمایت و اختیارات کا اظہار متعدد مقامات پر کیا مگر صرف اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ آپ نے چاہا کہ یہ بات تمام اصحاب پر عیاں ھوجائے اور سارے اصحاب میں صرف آپ کو تبلیغ خاص کے لئے منتخب کیا۔



back 1 2 3 4 5 next