مرجعیت کے عام شرائط اور نص



رسول اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس (صحیح) حدیث میں بغیر کسی استثناء کے تمام مسلمین پر حضرت علی (ع) کی ولایت مطلقہ کو ثابت کیا ھے، اس حکم کے اطلاق میں شیخین ابوبکر و عمر سب شامل ہیں کیونکہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا ھے۔

ابن عباس سے روایت ھے کہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (ع) سے کہا: ”تم میرے بعد ہر مومن کے والی و وارث ھو“

استیعاب میں ابن عبد البر نے بعینہ روایت کو ج۳، ص ۱۰۹۱ پر نقل کیا ھے اور کہا ھے کہ اس کے سندوں میں کوئی جھول نہیں ھے اس کی صحت اور نقل حدیث کی ثقہ میں کسی نے اعتراض نہیں کیا ھے، ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ج۱۲، ص۸۰ پر عمران بن حصین سے روایت کی ھے کہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: ”تم علی سے کیا چاہتے ھو تم علی سے کیا چاہتے ھو علی مجھ سے ہیںاور میں علی سے ھوں اور میرے بعد ہر مومن کے مولا ہیں“

احمد نے اپنی مسند میں اس کو نقل کیا ھے۔ ج۴، ص۴۳۸، ج۵،۳۵۶۔ علی کو چھوڑ دو علی کو چھوڑ دو (علی کی عیب جوئی نہ کرو) علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ھوں وہ میرے بعد ہر مومن کے مولا ہیں، جامع ترمذی، ج۵، ص ۶۳۲؛ خصائص نسائی، ص۱۰۹؛ مسند ابی یعلیٰ، ج۱، ص۲۹۳، حدیث ۳۵۵؛ اس کے محقق نے نظریہ دیا ھے کہ اس کے راوی حضرات سب صحیح ہیں؛ کنز العمال، ج۱۳، ص۱۴۲؛ الریاض النضرة، ج۳، ص۱۲۹؛ تاریخ بغداد، ج۴، ص۳۳۹؛ تاریخ دمشق، ج۴۲، ص۱۰۲؛ اسد الغابہ، ج۳، ص۶۰۳؛ کنز العمال، ج۱۱، ص۶۰۸

تاج پوشی

دینی مرجعیت اور ہر زمانے کی حکومت کے درمیان جو ایک گہرا ربط تھا اس کی رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بڑی تاکید کی تھی اور اس بات کی کوشش کی تھی کہ امت مسلمہ اس کی مکمل حفاظت کرے، اس بات کے پیش نظر رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے امت کے سامنے اہلبیت(ع) کو پہچنوایا تھا اور یہ وہ افراد تھے جو دو عظیم، بھاری بھرکم چیزوں کی نظارت کی اہلیت رکھتے تھے ایک تو شریعت الٰہیہ کی حفاظت دوسرے اس نوجوان دور حکومت کی زمامداری جس کو نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حیات بخشی تھی۔

اسی بنا پر متعدد مقامات اور مناسبتوں پر رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اہلبیت (ع) اور علی کی ولایت کے مسئلہ کو بیان کیا تھا کیونکہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد مرکز اہلبیت (ع) حضرت علی (ع) ہی تھے ،  ۱۰ھ میں نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے حجة الوداع کے موقع پر اس مسئلہ کی اور وضاحت ھوئی۔

 حدیث ثقلین کے ضمن میں ہم نے یہ بات عرض کی تھی کہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: مجھے خدا کی جانب طلب کیا گیا ھے اور میں نے اجابت کرلی ھے اور میں تم لوگوں کے درمیان دو بیش بہا چیزیں چھوڑ کر جارہا ھوں ایک اللہ کی کتاب دوسرے میری عترت، لطیف و باخبر خدا نے ہم کو اس بات کی خبر دی ھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل جدا نہیں ھوں گے یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات کریں گے لہٰذا دیکھو تم لوگ ان دونوں کے سلسلہ میں میری خلافت کا کس حد تک خیال رکھتے ھو۔

اس کے بعد فرمایا: خدائے عزوجل میرا مولا ھے اور میں ہر مومن کا مولا ھوں اس کے بعد حضرت علی (ع) کے دست مبارک کو پکڑ کر فرمایا: ”جس جس کا میں مولا ھوں یہ (علی) اس کے مولا ہیں، خدایا! تو اس کو دوست رکھ جواس کو دوست رکھے، تو اس کو دشمن شمار کر جو اس کو دشمن سمجھے [6]

اس کے بعد رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کھڑے ھوئے اور اپنے ”سحّاب“ نامی عمامہ کے ذریعہ حضرت علی (ع) کی تاج پوشی کی اور ان سے کہا: ”اے علی عمامے عرب کے تاج ہیں“

 

 



[1] السیرة النبویہ ابن ہشام، ج۱، ص۲۴۶؛ المستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص۵۲۶؛ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۳، ص ۱۹۸؛ تاریخ طبری، ج۲، ص ۳۱۳

[2] شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج۱۳، ص ۱۹۷، خطبہ ۱۹۰، ترجمہ مفتی جعفر صاحب قبلہ

[3] تاریخ طبری، ج۲، ص۳۱۹؛ الکامل لابن اثیر، ج۲، ص ۶۲؛ جیسا کہ بعض مورخین و تاریخ نویسوں نے بعض الفاظ کو بدل کر نقل کیا ھے، جیسے ان کا کہنا ھے: ”یا بنی عبد المطلب، انی قد جئتکم باٴمر الدنیا و الآخرة“ جیسا کہ تاریخ اسلام، السیرة للذہبی، ص ۱۴۵؛ دلائل النبوة، البیہقی، ج۱، ص ۳۲۸؛ مجمع الزوائد، ج۹، ص ۱۱۳؛ اور بعض نے یوں کہا ھے: ”فاٴیکم یوازرنی علی ہذا الامر علی ا ٴن یکون اٴخی“ المنتظر لابن جوزی، ج۲، ص۳۷۶، اور بعض میں نے اس طرح نقل کیا ھے: ”علی اٴن یکون اٴخی و کذا و کذا“ البدایہ و النہایہ ابن کثیر، ج۳، ص ۵۳، تفسیر ابن کثیر تحت آیہٴ انذار سورہٴ شعراء ۔ محمد حسین ہیکل نے (حیات محمد) کی پہلی طباعت میں اس کا تذکرہ کیا ھے لیکن بعد میں اس کو حذف کردیا۔

[4] خصائص نسائی، ص۲۰؛ صحیح ترمذی، ج۵، ص ۲۵۷، حدیث ۳۰۹۱؛ مسند احمد، ج۳، ص ۲۸۳، ج۱، ص۳، ۱۵۱، ۳۳۰؛ الریاض النضرة، ج۳، ص۱۱۹؛ البدایہ و النہایہ، ج۵، ص۴۴؛ حوادث ۹ ہجری؛ السنن الکبریٰ للنسائی، ج۵، ص۱۲۸، حدیث ۸۴۶۱؛ الاموال، لابی عبید، ص ۲۱۵، حدیث ۴۵۷؛ تاریخ دمشق؛ ترجمة الامام علی، ص ۸۹۰؛ الدر المنثور، ج۴، ص ۱۲۵؛ مختصر تاریخ دمشق، ج۱۸، ص۶؛ شرح نہج البلاغہ، ج۱۲، ص۴۶، خطبہ ۲۲۳؛ المنتظم لابن الجوزی، ج۳،ص۳۷۲۔

[5] المعجم الاوسط للطبرانی، ج۶، ص۲۳۲؛ تاریخ دمشق لابن عساکر، ج۴۲، ص ۱۹۱، یہ درج ھے کہ بریدہ نے کہا کہ میں نے رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اس دن سب سے زیادہ غضبناک پایااس سے قبل کبھی بھی اس حالت میں نہیں دیکھا تھا سوائے قریظہ و نضیر کے دن کے! میری جانب دیکھا اور فرمایا: ”اے بریدہ! میرے بعد علی تمہارے ولی ہیں تم ان کو دوست رکھو کیونکہ یہ وہی کرتے ہیں جو حکم دیا جاتا ھے“عبد اللہ بن عطاء کے بقول ابا حرب بن سوید بن غفہ سے میں نے نقل کیا ھے، انھوں نے کہا کہ عبد اللہ بن بریدہ نے تم سے حدیث کے کچھ حصہ کو چھپالیا ھے۔ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان سے کہا: اے بریدہ! کیا تم نے میرے بعد منافقت سے کام لیا، مسند طیالسی، ص ۳۶۰، حدیث ۲۷۵۲۔

 

[6] حافظ نے بدایہ و النہایہ کی ج۵، ص۲۱۴ پر ذہبی سے اس کو نقل کیا ھے اور کہا ھے کہ صدر حدیث متواتر ھے اور یقین ھے کہ رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا ھے لیکن (اللّٰہم وال من والاہ) سند کے حساب سے زیادہ قوی ھے۔۔۔



back 1 2 3 4 5