جناب فاطمه زيرا (س)کی حديث يں



۱ ۔ ساری تعریفیں خداکے لئے ہیں اس کی نعمتوں پر،اورشکروسپاس ہے ان چیزوں پرجواس نے اپنے بندوں کوبے سوال کئے دی ں ، اوران کامل نعمتوں پرجوسب کوعطاکیاہے اورپے درپے ہم کودیتارہا،ایسی نعمتیں جوعدداقابل شمارنہیں ہیں، اوران کی زیادتی جبران ناپذیرہیں۔ ان کے انتہاکاتصورادراک بشر سے خارج ہے اس نے اپنے بندوں کوپے درپے نعمت ی ں دینے کے لئے ان کوشکرکی دعوت دی۔ اورحمدوستائش کے دروازے ان کے لئے کھول دئیے تاکہ وہ لوگ اس کے ذریعہ اپنی نعمتوں کوبڑی اورزیادہ کرسکیں۔

(اعیان الشیعہ ،طبع جدید،ج ۱ ،ص ۳۱۵) ۔

۲ ۔ اشہدان لاالہ الااللہ وحدہ لاشریک لہ: ایک ایساکلمہ ہے جس کی حقیقت خدانے اخلاص کوقراردیاہے اوردلوں کواس کے لئے مرکزاتصال قراردیاہے اورمقام توحیداس کی خصوصیات کونورتفکرکے پرتومیں آشکاراقراردیاہے اس خداکی صفت یہ ہے کہ اس کوآنکھوں سے دیکھانہیں جاسکتا،زبانیں اس کی صفت بیان کرنے سے عاجزہیں، بشری ادراک ا سکے تصورچگونگی سے عاجزہے۔

(اعیان الشیعہ ،طبع جدید،ج ۱ ،ص ۳۱۵) ۔

۳ ۔ خداوندعالم نے تمام چیزوں کوکسی ایسی شئی کے بغیرجوپہلے سے رہی ہو،پیداکیاکسی کے مثالوں کی اقتداء وپیروی کئے بغیراپنی قدرت کاملہ سے تمام اشیاء کولباس وجودپہنایا اوران کواپنی قدرت سے خلق فرمایا اوران کی تخلیق کی احتیاج نہ رکھتے ہوئے اپنی مشیت سے ان کوکتم عدم سے نکال کرمنصہ شہودپرلے آیا، نیزان کی صورت نگاری میں بھی اس کوکوئی فائدہ نہیں تھا وہ توصرف اپنی حکمت کے اثبات کے لئے اوراپنی اطاعت پرمتنبہ کرنے کے لئے اوراپنی قدرت کااظہارکرنے کے لئے اوراپنی مخلوق کواپنی عبادت کی دعوت دینے کے لئے اوراپنی دعورت کوپرشکوہ بنانے کے لئے (اشیاء کوخلق فرمایا)۔

(اعیان الشیعہ ،طبع جدید،ج ۱ ،ص ۳۱۵/۳۱۶) ۔

۴ ۔ خداوندعالم نے اپنی طاعت پرثواب، اورمعصیت پرعذاب (اس لئے) مقررکیاہے تاکہ اپنے بندوں کوعذاب وبلاسے بازرکھے اوربہشت کی طرف لے جائے۔

(اعیان الشیعہ ،طبع جدید،ج ۱ ،ص ۳۱۶) ۔

۵ ۔ میں گواہی دیتی ہوں کہ میرے باپ محمد  خداکے بندہ اوررسول ہیں، اورخداوندعالم نے ان کومبعوث برسالت کرنے سے پہلے منتخب کیااوراختیار کیا اوران کومجتبی بنانے سے پہلے ان کانام رکھا اور(رسول بناکر)بھیجنے سے پہلے ان کومصطفی بنایا جب کہ تمام مخلوق پردہائے غیب کے نیچے، اوربیم وہراس کے نہاں خانوں میں چھپی ہوئی تھی اورعدم کے آخری حدسے مقرون تھی، اس لئے کہ خداامورکے انجام سے،زمانہ کے حوادث،وجریان امورسے مطلع تھا اورمحمد کواپنے امرکی تکمیل کے لئے مبعوث فرمایاتاکہ اس کے امرکااجراکریں اوراس کے حتمی مقدرات کوجامہ عمل پہنائیں۔ (اعیان الشیعہ ،طبع جدید،ج ۱ ،ص ۳۱۶) ۔

۶ ۔ خداوندعالم نے امتوں کومختلف دینوں میں (اورفرقوں میں) بٹے ہوئے آتش پرستی کرتے ہوئے،بت پرستی کرتے ہوئے(وجودخداکی دلیلوں کودیکھتے ہوئے) خداکامنکردیکھا تومیرے باپ محمد  کے ذریعہ تاریکیوں کودورکیا دلوں کے (پردہائے) تاریکی کوچاک کردیاآنکھوں سے ان کے اندھے پن کوختم کردیا۔



1 2 next