حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی سیرت کے چند گوشے



اے بھائی! کچھ دیر پھلے تم نے میرے سامنے میرے بارے میں کچھ باتیں کھیں، اگر مجھ میں وہ پاتیں پائی جاتی ھیں تو میں خدا کی بارگاہ میں طلب بخشش چاہتا هوں، اور اگر وہ باتیں مجھ میں نھیں پائی جاتیں تو خدا تجھے معاف کردے

 

 

    توھین کا جواب

 

امام زین العابدین علیہ السلام کا ایک خاندانی شخص امام علیہ السلام کے پاس آیا اور آپ پر چلایا اور آپ کو ناسزا باتیں کھیں! لیکن امام علیہ السلام نے اس کو ایک بات کا بھی جواب نہ دیا یھاں تک کہ وہ شخص اپنے گھر واپس هوگیا۔

اس کے جانے کے بعد امام علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: تم لوگوں نے سنا کہ یہ شخص کیا کہہ رھا تھا؟ میں چاہتا هوں کہ میرے ساتھ چلو تاکہ میں جو اس کو جواب دوں وہ بھی سن لو، انھوں نے کھا: ٹھیک ھے ، ھم آپ کے ساتھ چلتے ھیں ، چنانچہ امام علیہ السلام نے نعلین پھنے اور اس کے گھر کی طرف روانہ هوئے، اور فرمایا:

<... وَالْکَاظِمِینَ الْغَیْظَ وَالْعَافِینَ عَنْ النَّاسِ وَاللهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ>[1]

”...اور غصہ کو پی جاتے ھیں اور لوگوں (کی خطاؤں) کو معاف کرنے والے ھیں اور خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ھے۔

(آپ کے ساتھی کہتے ھیں:) ھمیں معلوم هوگیا کہ امام علیہ السلام اس سے کچھ نھیں کھیں گے، بھر حال اس کے گھر پر پھنچے ، اور بلند آواز میں کھا: اس سے کهو؟ یہ علی بن حسین (علیھما السلام) آئے ھیں، وہ شخص جو فساد کرنے کے لئے تیار تھا اپنے گھر سے باھر نکلا اور اُسے شک نھیں تھا کہ آپ اس کی توھین آمیز گفتگو کی تلافی کرنے کے لئے آئے ھیں، امام سجاد علیہ السلام نے اس سے فرمایا: اے بھائی! کچھ دیر پھلے تم نے میرے سامنے میرے بارے میں کچھ باتیں کھیں، اگر مجھ میں وہ پاتیں پائی جاتی ھیں تو میں خدا کی بارگاہ میں طلب بخشش چاہتا هوں، اور اگر وہ باتیں مجھ میں نھیں پائی جاتیں تو خدا تجھے معاف کردے، (یہ سننا تھا کہ) اس شخص نے آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا اور کھا: جو چیزیں میںنے کھیں وہ آپ میں نھیں ھیں بلکہ میں خود ان باتوں کا زیادہ سزاوار هوں۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 next