فرزند زہرا حضرت امام حسین کی خیموں سے رخصتی اور آپ کی شہادت



عالم امکان میں سب سے بڑی  مصیبت جو کربلا  میں رونما ہوئی وہ شہادت امام حسین ہے یہی وہ مصیبت ہے جو  انس ،جن ،ملائکہ ،زمین ،آسمان ،اور جملہ موجودات پر سب سے زیادہ گراں بار ہے.  

حضرت امام حسین کے مصائب کو اہلبیت  اور آئمہ طاہرین  نے بہ صورت زیارت وروایت اورعلماء نے بہ صورت واقعہ کربلا اپنی کتابوں مثلاً  ،ارشاد ،مقتل ابو مخنف ،لہوف ،منتھی الآمال  ، نفس المہموم  ،کامل الزیارات  ،میں بیان کیاہے  .

ایک اہم چیز  جو ہر  دور میں تمام شیعوں پر لازم اور ضروری ہے کہ وہ اس  سے ایک معنوی ورثے کے طور پر استفادہ کریں اور اس کی حفاظت میں حد درجہ کوشاں رہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے سپرد کریں وہ امام حسین کے مصائب پر رونا اور رولانا ہے  ،اس امر میں تمام انبیآء کرام ،آئمہ طاہرین ،اولیآء ذوی الاحترام ،اور فرمان امام صادق کے مطابق تمام مخلوقات عالم ،آسمان ،زمین ،جن ،انس،چرند ،پرند اور تمام حیوانات اس رونے میں شریک ہیں  

امام صادق  فرماتے ہیں :کہ "من ذکرنا عندہ ففاضت عیناہ حرّم اللہ وجھہ علی النّار "اگر کسی شخص کے سامنے  نام حسین لیا جائے اور اس کے سبب اس کی آنکھوں سے اشک جاری ہوجائے خداوندمتعال اس چیرے پر آتش جہنم کو حرام کردے گا 

مذہبی  مقررین ،نوحہ خوان حضرات ،مرثہ گو افراد کو چاہئے کہ اپنی تقریروں کو بغیر ذکر مصیبت حسین  کے ختم نہ کریں یہ وہی درس ہے جس کو علماءنے اپنے پر لازم قراردیا ہے اور یہ بھی ایک زندہ حقیقت ہے کہ تمام مراجع کرام اور بزرگ علمآء اس امر پر خاص توجہ دیتے ہیں ۔بعض فقہاء نے یہ فتوی دیاہے کہ تقاریر اور مدح سرائی کرنا ایک مستحب امر ہے اور اگر کوئی شخص اس مستحب کام کرنے کے لئے اقدام کرے تو اس پر واجب ہے کہ اپنی تقاریر اور اشعارکو ذکر مصیبت امام حسین  پر ختم کرے اور بعض دوسرے فقہاء نے جن میں سے ایک مرحوم آیت اللہ العظمی  گلپایگانی ہیں اور ان کے علاوہ  بعض بزرگ فقہاءجیسے  مرحوم حائری مازندرانی  جن کے آثار سو جلدوں پر مشتمل ہیں نے  فتوی دیا ہے کہ جہاں کہیں بھی امام باڑہ بنایاجائے اس پر وہ تمام احکام لاگو ہوں گے جو مسجد پر جاری ہوتے ہیں یعنی جس  طرح قرآن مجید نے بتایا ہے کہ مجنب شخص پر مسجد میں جانا حرام ہے اسی طرح امام باڑے میں بھی جاناحرام ہے .

 روشن فکر اور غرب زدہ افراد اپنی تحریروں اور تقریروں کےذریعہ امام حسین  اور اہل بیت  پر رونے کی بہ نسبت جو وسوسے لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں ڈال رہے ہیں ان کو  شیطانی حربے شمار کرنا چاہئے اور دل کھول کر روئیں اور رولائیں اور اس سنت حسنہ کو محفوظ رکھیں

 

شیخ طوسی نے امالی میں معاویہ بن وہب کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امام صادق نے ارشاد فرمایا :"کل الجزع البکاء مکروہ "ہر طرح کارونا اور فریاد و بکاکرنا مکروہ ہے "سوی الجزع  والبکاءعلی الحسین "مگر امام حسین  پر  رونا اور گریہ و زاری کرنا مکروہ نہیں ہے  

 

شیخ صدوق نقل فرماتے ہیں کہ امام صادق نے ابو عمّارہ سے فرمایا:ابو عمارہ میرے جد حسین  کے مصائب پڑھو !ابو عمارہ کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور شعر پڑھنا شروع  کیا حضرت ؑ رونے لگے میں جیسے جیسے شعر پڑھتا جاتا تھا حضرت  کا گریہ بڑھتا گیا ،میں نے شعری سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ اہل  حرم کے رونے کی آوازیں آنے لگی



1 2 3 4 5 6 next