زبان،وسیلہ ہدایت یا وسیلہ گمراہی



 

رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث شریف کا یہ حصہ زبان اور اس کے کنٹرول کے بارے میں ہے۔ البتہ گزشتہ درس میں بھی زبان کے کنٹرول کی ضرورت کے بارے میں تھوڑی سی بحث ہوئی اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ بیانات اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان اپنی گفتگو میں بیشتر احتیاط کرے۔ اس امر کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری احادیث کی کتابوں میں بات کرنے کے طریقہ اور بولنے کے آداب اور اس کی آفتوں کی بارے میں کئی باب مخصوص کئے گئے ہیں ۔اس سے پہلے ذکر کیا گیا کہ کونسی بات کرنا ضروری ہے او رکونسی بات ناپسندید ہے کہ جس کو بولنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ چونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصیحتوں کے سلسلہ میں ہم اس مرحلہ تک پہنچے ہیں، اس لئے ہم اسی مناسبت سے اس موضوع کی وضاحت کرتے ہیں۔ پہلے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زبان ، خدا کی نعمتوں میں سے ایک قیمتی نعمت ہے، اس کے بعد زبان کی بعض آفتوں اور نقصانات کی طرف اشارہ کریں گے

ترقی و بالیدگی کے لئے زبان اور دیگراعضاء و جوارح سے استفادہ :

خدائے متعال نے جن تمام نعمتوں کو انسان کے وجود میں قرار دیا ہے- --خواہ وہ اس کے ظاہری اعضاء و جوارح ہوں، جیسے:آنکھ ، کان، ہاتھ پاؤں وغیرہ خواہ اس کے داخلی اعضاء ہوں خواہ انسان کی غیر مادی خصوصیات کہ جو روحانی پہلو رکھتے ہیں، جیسے تفکر وتخیّل کی صلاحیت کہ جو دماغ سے مربوط ہے اور انسان کے روحی جذبات ، مختصر جو کچھ انسان کے بدن اور روح سے مربوط ہے ---- یہ تمام کی تمام چیزیں انسان کے تکامل و ترقی کے لئے وسائل ہیں نہ کہ مقصد اور نہ ہی ان کی چاہت اور ان کا ماحصل انسان کا آخری مقصد ہے، چیزوں کو ہمیں اس نگاہ سے دیکھنا چاہئے جو انسان کے کمال اور اخروی ثواب کا سبب بنے، اس طر ح دوسرے تمام اعضاء، من جملہ زبان۔

انسان کو ایسی بات کرنی چاہئے جو اس کی بلندی اور خدائے متعال کی خوشنودی کاسبب بنے۔ خدا کی تمام نعمتوں کو، خدا کا تقرب حاصل کرنے اور کمال تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دینا چاہئے اور یہ نعمتےںتماشا نہیں ہیں کہ انسان ہر نیت وغرض سے ان کا استعمال کرے۔ انھیں زبان جیسےعضو سے حاصل ہونے والی خواہشات اور نتائج کو اپنا اصلی مقصد نہیں سمجھنا چاہئےکیونکہ اس کا اصلی مقصد ان چیزوں سے بلندتر ہے اور انسان کا بات کرنا اصل مقصد نہیں ہے۔ اس لحاظ سے زبان کو خیرکمال کی راہ میں استعمال کرنا چاہئے۔ حضرت اما م جعفر صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں:

زکاة اللسان النصح للمسلمین و التّیقّظ للغافلین و کثرة التسبیح و الذّکر․․،، ۱

زبان کی زکوة مسلمانوں کو نصیحت اور غافلوں کو بیدا رکرنا اور فراوان تسبیح و ذکر ہے۔

بات کرنا وسیلہ ہے او رچونکہ خدائے متعال نے انسان کی خلقت کا مقصد کمال اور اپنا تقرب قرار دیا ہے ، لہذا اس نیک مقصد تک پہنچنے کے لئے زبان سے فائدہ اٹھا نا چاہئے، نہ کہ اس کے ذریعہ اپنے لئے بدبختی کے وسائل فراہم کئے جائیں۔ سوچ اور سمجھ کے بات کرنی چاہئے اور بیہودہ باتوں سے و انسان کی اجتماعی و معنوی منزلت کے انحطاط کا باعث ہے پرہیز کرنا چاہئے، کیونکہ انسان کا بولنا اس کی شخصیت و

------------------------------------

۱۔ بحار الانوار ، ج /۹۶، ص /۷



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 next