قانون کے سلسلے میں غرب کی مادی نگاہ



اسلام کے نقطہٴ نظر سے معاشرہ کو قانون کی ضرورت ہوتی ہے وہ بہی ایسا قانون جو انسان کی دنیا و آخرت کی سعادت کا ضامن ہو، اور مجری قانون کو بہی اس کے مصادیق پر مطابقت کرنے میں مکمل طور پر آگاہ، دلسوز، متقی، عادل اور طاقت ور ہونا چاہیے ،جیسا کہ مدیریت کا لازمہ بہی یہی ہے ۔

 حکومت کے سلسلہ میں اسلام کا یہ اصل نظریہ ہے کہ جس کو ہمارا معاشرہ ولایت فقیہ کے نام سے جانتا ہے اس نظریہ کو بیان کرتے وقت ہم نے بیان کیا تہا کہ انسان کا تنہا جنگل یا غار میں زندگی بسر کرنا ممکن ہے، لیکن کبہی کبہی انسان کی مادی او رمعنوی پیشرفت اجتماعی زندگی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، تمام علوم، فنون اور ٹیکنولوجی اجتماعی زندگی کا ہی ثمرہ ہے، یہاں تک کہ جو افراد خود سازی اور تھذیب واخلاق اور سیر و سلوک او رعرفان کے راستوں کو طے کئے ہوئے ہیں وہ اجتماعی زندگی کے اثر اور اپنے اخلاق کے اساتذہ اور مربیوں کے ذریعہ اس مقام پر پہونچے ہیں۔

اگر بشر کے مابین یہ ارتباط و رابطہ نہ ہوتا تو وہ کبہی مادی اور معنوی پیشرفت حاصل نہیں کر سکتے تہے، اس بنا پر انسان کیلئے اجتماعی زندگی کی ضرورت پیش آتی ہے اور اس لئے کہ افراد اس نعمت الٰہی سے استفادہ کریں تو اجتماعی زندگی کو گذارنے کے لئے ان سب پر حاکم ہونے والے کچھ قوانین کا ہوناضروری ہے ۔

بدیہی ہے کہ اگر قوانین نہ ہوں تو معاشرہ میں بے نظمی، اختلال اورعسر وحرج لازم آئےگا اور انسانی زندگی حیوانی زندگی میں تبدیل ہوجائےگی، بعض محققین کھتے ہیں کہ انسان ذاتی طور پر ایک دوسرے کیلئے بہیڑیے کی مانند ہیں اور ان کو کسی زبردستی طاقت کے ذریعہ معتدل کرنا چاہیے لیکن اس طرح کا رویہ افراط کرنے والے انسانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، بھر حال انسان کے اندر بھت سے ایسے جاذبات پائے جاتے ہیں کہ اگر ان کو نظم اور قانون کے ذریعہ مہار نہ کیا جائے تو معاشرہ میں فساد پہیل جائےگا۔

اس کے بعد یہ سوال پیش آتا ہے کہ یہ قوانین کس طرح کے قوانین ہونے چاھئیں اور ان میں کیا خصوصیات ہونی چاھئیں تاکہ وہ انسانی معاشرہ کی دنیا اور آخرت کی سعادت کی طرف ھدایت کرسکیں؟ مختصر طور پر یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ قانون کو معاشرہ میں صرف نظم اور امنیت برقرار کرنے والا ہونا چاہیے اسکے علاوہ قانون کا اور کوئی فریضہ نہیں ہے، دوسرے گروہ کا عقیدہ ہے کہ قانون کو معاشرہ میں نظم وامنیت کے علاوہ عدالت کو بہی برقرار کرنے والا ہونا چاہیے اس بنا پر قانون کی تعریف کرنے میں مختلف نظریے بیان کئے گئے ہیں جیسا کہ ہم نے مجمل طور پر بیان کیا ہے، اسی بارے میں کچھ افراد کھتے ہیں کہ معاشرہ میںنسانوں کے طبیعی حقوق کے خلاف ہونے والے قوانین کو نافذ نہیں کرنا چاھئے ۔

اس مندرجہ بالا نظریہ کی تائید میں اخباروں، رسالوں اور تقریروں میں مختلف طرح کے انگیزہ بیان کئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ آزادی انسانوں کے طبیعی حقوق کی بیان گر ہے، اور کوئی قانون انسانوں سے اس طبیعی حق کو چہین نہیں سکتا ہے، ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ نظریے مختلف اشخاص کی طرف سے اور مختلف انگیزوں کے ساتھ بیان ہوئے ہیں اور میرا بذات خود ان افراد کے ساتھ کوئی واسطہ بہی نہیں ہے کہ ان مطالب کو بیان کرنے والے کس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا کیا انگیزہ ہے اور وہ کیوں ان مطالب کو بیان کرتے ہیں؟ میں صرف اس عنوان سے کہ طالب علم ہوں اور پچاس سال سے میرا علوم دینی سے سروکار ہے میں صرف فلسفہٴ حقوق یا فلسفہٴ سیاست کے بارہ میں اسلامی نقطہ نظر سے تو بحث کر سکتا ہوں اور اپنا نظریہ پیش کر سکتا ہوں، اور شاید اکثر افراد کو معلوم ہوگا کہ میرا کسی گروہ، کسی حزب، او رکسی تشکیلات سے کوئی رابطہ نہیں ہے، اور حقیرصرف وظیفہ شرعی کے حکم سے مطالب پیش کررہا ہوں۔

اگرکچھ افراد معاشرہ میں فساد برپا کرنا چاھتے ہیں، لوگوں کے سامنے غلط تفسیروں کو پیش کرتے ہیں یا مطالب میں تحریف کیا کرتے ہیں، وہ ان تفسیروں کی ابتداٴ یا آخر سے کچھ کلمات کو حذف کر دیتے ہیں اور ایک جملہ ہوتا کسی کا ہے اور اس کو کسی اور سے منسوب کر کے بیان کیا کرتے ہیں اور اس کو ذرہ بین کے سامنے رکھکر اس سے غلط استفادہ کرتے ہیں تو میرا ایسے افراد سے کوئی رابطہ نہیں ہے، معاشرہ میں ایسے افراد ہمیشہ رہے ہیں اور آئندہ بہی ہوں گے ۔

اگر آپ کے یاد ہو تو میں نے پھلے بہی مکرر اس مسئلہ کی تاکید کی ہے کہ ہم کبہی کبہی ایسا کلمہ استعمال کرتے ہیں کہ اس کا دقیق اور مشخص و معین مفہوم نہیں ہوتا اور ھر شخص اپنی قوت فہم کے مطابق اس سے مطلب اخذ کرتا ہے اور یہی اشتباہ غلطی کا سبب ہوتا ہے اور اس چیز کا باعث ہوتا ہے کہ سننے والا صحیح طریقہ سے کھنے والے کی بات کو نہیں سمجہ سکا اور بعض موقعوں پر یہ مغالطہ کا سبب ہوتا ہے، کبہی تو اتفاق سے مغالطہ ہوجاتا ہے، اور کبہی کوئی شخص جان بوجہ کر مغالطہ کرتا ہے ۔

منجملہ ان کلمات میں سے ایک کلمہ ”حق طبیعی“ ہے جو اس جگہ پر بیان کیا گیا ہے جبکہ اصولی طور پر اس طرح بیان ہونا چاہیے کہ ”حق“ کیا ہے اور اسکے طبیعی ہونے کا کیا مطلب ہے؟

2۔مکتب حقوق طبیعی



1 2 3 4 5 6 next