امام مہدی(عج) ایک موجود موعود



حضرت ختمی مرتبت پیغمبر اکرم اور آئمہ اہل بیت عصمت وطہارت علیھم السلام کے فرامین میں رسول اکرم کے سچے جانشینوں اور معصوم اماموں کی تعداد بارہ بیان ہوئی ہے[1]  ان پاک ہستیوں کے نام اور ان کی تمام خصوصیات بھی بیان کی گئی ہیں، تاریخ اور سیرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے گیارہ معصوم آئمہ علیھم السلام  دنیامیں تشریف لائے،فرائض امامت انجام دئیے اور تلوار یازہر سے انھیں شہید کیا گیا اور عقل اورنقل کے مسلّم حکم کی بنیاد پر انسانی معاشرہ ہرگز امام معصوم کے بغیر باقی نہیں رہ سکتا اور زمین کبھی بھی معصوم حجت سے خالی نہیں ہوسکتی۔

ان تین تمہیدات کا قطعی نتیجہ یہ ہے کہ بار ہویں معصوم امامؑولادت پا چکے ہیں اور ابھی تک زندہ ہیں جب بھی اللہ تعالیٰ چاہے گا تو وہ خدا کے حکم سے ظہورکریں گے، نہ یہ کہ بعد میں ولادت پائیں گے یا پہلے ہی ولادت پاکر وفات پاچکے ہیں، ان کی ولادت نہ پانے کا باطل تصور ہی گمراہی ہے اور ان کی رحلت کا باطل گمان بھی گمراہی ہے کیونکہ پہلے نظر یہ کو ہٹ دھرم دشمنوں نے گھڑا ہے اور دوسرے نظرئیے کو راہ سے بھٹکے ہوئے خائن لوگوں نے بنایاہے اور موقع پرست اغیار نے ان دونوں کو مخلوط کر کے ہرمناسب مکان وزمان میں ان کے باہمی ملاپ سے غلط فائدہ اٹھایا ہے، شایدیہ قدیم وجدیدجاہلیت کی مشترک کینہ توزی کا نتیجہ ہے کہ خدائے سبحان کے فرمان کے مطابق یہ ہر روز طاقت و دولت کے بازار میں نئی چال کھیلتا  ہے، یعنی نسل پرست یہودکہ جس نے آغازتاریخ اوربعد کے مختلف تاریخی ادوار میں مکروفریب سے کام لیا اور ابھی بھی چالیں چل رہے ہیں وہ اس میں شریک تھے اورابھی بھی شریک ہیں:

 {وَلاَتَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَی خَائِنَۃٍ مِنہُم إِلاَّ قَلِیلًا مِنہُم}[2] 

:"اور آئے دن ان کی کسی خیانت پر آپ آگاہ ہورہے ہیں البتہ ان میں سے تھوڑے لوگ ایسے نہیں ہیں"

موعود کے موجودہونے کی شناخت میں قوشچی کی ناتوانی

موعود کا لوگوں کی آنکھوں سے اُوجھل ہو کر موجود ہونا ایک ایسی دشوار بات ہے کہ جسے بابصیرت افراد کے علاوہ دوسروں کیلئےسمجھنا مشکل ہے یہی بات بہت سے سوالات اور شبہات کو جنم دینے کا باعث بنی ہے کہ جن میں موعود کے موجود ہونے کو محور بحث قرار دیا گیا۔

شرح تجرید میں جناب قوشجی کا شبہ بھی اسی طرح کا ہے: وہ خواجہ طوسیؒ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص امام غائب پر عقیدہ رکھتا ہو کہ جس کا ظہور متوقع اور ہر لحظ میں ممکن ہو، یہی عقیدہ اسے کنٹرول میں رکھتا ہے اوراس کی سعادت کا ضامن بھی ہے، لیکن کیا مشکل پیش آتی ہے کہ ہم کہیں کہ امام موجود نہ ہو اور خدا وند متعال جب بھی ارادہ کرے اسے وجود میں لے آئے؟ اس وقت اس طرح امام پر عقیدہ رکھنے میں وہ تمام برکات وآثارکہ جو بیان کئے ہیں اس مستقبل میں وجود میں آنے والے امام پر بھی حاصل ہوں گے۔ اس وقت ہم اس امام  سے بے نیاز ہو جائیں گے کہ جو غائب ہے اوراس کے ظہور کا انتظار کیا جارہا ہے بلکہ اس کی بعد میں تخلیق،ولادت اور وجود کا انتظار بھی ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔

مذکورہ شبھہ کا جواب کہ جوامام مہدی موعودؑ کے موجود ہونے میں شک وتردید کی تاریکیوں میں آفتاب کی مانند نور افشانی کرتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہونا چاہئے امام فقط بشر کی راہنمائی اور رہبری کے لئے نہیں ہے تاکہ آپ کہیں کہ امام موعود پر عقیدہ رکھنے سے فوائدحاصل ہو جاتے ہیں لہٰذا امام موجود کی ضرورت نہیں ہے بلکہ امام کی شان و عظمت اوربھی ہے جیسے :

{یَاآدَمُ أَنبِئہُم بِأَسمَائِہِم}[3]

  :"اے آدم!ان(فرشتوں)کو ان کے نام بتلادو"

{ یُمسِکُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرض}[4] 



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 next