حضرت امام مهدی(ع) کی ولادت کے متعلق علمائے اھل سنت کا اعتراف



کچھ قابل توجہ اھل سنت کی تعداد نے اپنے دانشوروں کے اعترافات کو ثبت کیا ھے اور بعض نے معلوم و معین بحثوں کے قالب میں استقراء کے ساتھ ان اعترافات کو بیان کیا ھے یہ اعترافات طولانی زمانے میں ایک دوسرے سے متصل رھے ھیں، اس طرح سے کہ بعد کے معترف نے آسانی کے ساتھ سابق معترف کو تلاش کر لیا ھے اور اعترافات کا یہ سلسلہ غیبت صغریٰ ۲۶۰ھ سے ۳۲۹ھ تک رھا اور اب تک جاری ھے۔

ھم ان میں سے بعض کے ذکر پر اکتفا کرتے ھیں (مزید معلومات کے خواھاں حضرات انجام شدہ تحقیق کی طرف اس سلسلہ میں رجوع کریں[1]

بعض معترفین کے اسماء درج ذیل ھیں:

۱۔ ابن اثیر جزری عزالدین (م ۶۴۰ھ) وہ ۲۶۰ھ کے حوادث نقل کرنے کے ضمن میں لکھتے ھیں:

 اس سال ابو محمد علوی عسکری کی شھادت ھوئی۔ وہ شیعہ مذھب کے مطابق بارہ ائمہ میں سے ایک امام اور ”محمد(علیہ السلام)“ کے والد ھیں، شیعوں کا عقیدہ ھے کہ وھی منتظر موعود(علیہ السلام) ھیں[2]

۲۔ ابن خلکان م ۶۸۱ھ لکھتا ھے:

ابوالقاسم محمد ابن حسن عسکری ابن علی ھادی ابن محمد جواد مذکورہ بالا شیعوں کے بارہ اماموں میں سے بارھویں امام ھیں کہ ان کا مشھور لقب ”حجت“ ھے۔۔۔ان کی ولادت جمعہ کے دن ۱۵/شعبان ۲۵۵ھ کو ھوئی ھے۔

اس کے بعد کثیر السفر مورخ ابن ازرق فارقی م۵۷۷ھ نقل کرتا ھے کہ وہ ۹/ربیع الاول ۲۵۸ھ کو پیدا ھوئے اور یہ بھی کھا گیا ھے کہ ۸/شعبان ۲۵۶ھ کو پیدا ھوئے اور میری نظر میں یھی قول زیادہ صحیح ھے[3]

لیکن صحیح وھی ھے جو ابن خلکان نے ذکر کیا ھے، یعنی حضرت کی ولادت ۱۵/شعبان ۲۵۵ھ کو ھوئی ھے اور تمام شیعوں کا بھی یھی عقیدہ ھے اور اس سلسلہ میں صحیح روایت بھی نقل کی ھے اور شیعوں کے اکابر متقدمین نے اس کی گواھی بھی دی ھے۔

مرحوم شیخ ثقة الاسلام کلینی جو عصر غیبت میں زندگی گزار رھے تھے نے اس تاریخ کو مسلم جانا ھے اور مخالف روایات پر اس کومقدم کیا ھے اور صاحب الامر(علیہ السلام) کی پیدائش کے باب میں ذکر کیا ھے:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 next