سعودی خاندان کے بادشاهوں کی تاریخ



 

سعودی خاندان کے بادشاهوں کی تاریخ

آیت الله نجم الدین طبسی

 

  سعود بن عبد العزیز (1218 – 1229 ق)

سعود بن عبد العزیز، حجاز کا حاکم بنا جس کا سب سے پهلے حمله بصره اور زبیر پر تھا جس میں اس نے قتل و غارت اور تاراجی کا کارنامه انجام دیا، اس نے طلحه و زبیر کی قبروں کو ویران کردیا، اس کے بعد اس نے بهت سے حمله کئے جو وهابیت کی حکومت میں ظلم و ستم کے لحاظ سے بے نظیر تھے، چنانچه ذیل میں اس کے حملوں کی طرف اشاره کیا جاتا هے:

الف: جده کا محاصره (1219)

وهابیوں کے لشکرنے جده کا محاصره کرلیا اس لشکر کی تعداد 12000 تھی، شریف نے مکه میں مکّه کی حفاظت کے لئے عوامی رضا کاروں کو تیار هونے کا اعلان کرایا، (جبکه) اسے معلوم تھا که وه جده پر قبضه نهیں کرسکتے، ایسا هی هوا که وهابیوں نے جده پر محاصره کرکے کوئی فائده حاصل نهیں کیا، اس کے علاوه که ان کے بدبو دار جنازے ایک کے اوپر ایک پڑے هوئے ملے، جده کے بهادروں کے بڑے بڑے توپ خانوں کی وجه سے (وهابیوں کے) بدبودار جنازوں سے کنویں اور کاریزیں بھری هوئی ملیں، یهاں تک که نا امیدی کے عالم میں پیچھے هٹنے پر مجبور هوئے، لیکن انھوں نے واپس هوتے وقت راستے میں بادیه نشینوں کو قتل کر ڈالا اور شریف غالب کے اونٹوں کو اپنے ساتھ لے گئے۔

شریف غالب کا کامیاب حمله

شریف غالب  نے شریف حسین کی سرداری میں ایک لشکر وهابیوں سے انتقام لینے کے لئے تیار کیا، اور اللیث نامی علاقه پر حمله کیا اور وهابیوں پر غلبه کرلیا، ان کے کافی تعداد میں لوگوں کو قتل کر ڈالا، (لیکن )شریف حسین  بھی قتل هوئے، (پھر بھی) شریف غالب نے ان پر حملوں کا سلسله جاری رکھا، بهت سے لوگوں کے سروں کو کاٹ کر دوسروں کی عبرت کے لئے مکّه کے دروازوں پر لٹکایا گیا۔ [1]

ب: مکّه و مدینه کا محاصره (1220 ق)

زینی دحلان تحریر کرتے هیں: سن 1220 هجری میں ذیقعده کے آخر میں وهابی مکّه میں داخل هوئے اور انھوں نے مدینه کو اپنے قبضه میں لے لیا، پیغمبر اکرم حجره کو مسمار کردیا اور وهاں پر موجود چیزوں کو اٹھالیا اور بهت بُرے بُرے کام انجام دئے، اور "مبارک مزیان" کو مدینه کا امیر بنایا، جس کی حکومت سات سال تک چلتی رهی، شام اور مصر کے حاجیوں کو حج سے روک دیا، کعبه کے لئے عبا کی قسم کا پرده بنایا، لوگوں کو  اپنے گروه کے اعتقاد قبول کرنے پر مجبور کیا، اولیاء الله کی قبروں کے گنبدوں کو توڑ ڈالا، اس سال حکومت عثمانی ، ناگوار حالات میں تھی اور عیسائیوں سے جنگ میں مشغول تھی،[2]،

قارئین کرام! توجه رهے که وهابیوں کے زیاده تر حملے  مسلمانوں اور ان کی سر زمینوں پرماه ھائے حرام میں تھے  جبکه جاهلیت کے زمانه میں ان مهینوں میں جنگ جائز نهیں هوتی تھی۔

جبران شامیه تحریر کرتے هیں:سعود بن عبد العزیز نے مدینه کا محاصره کیا اور اس نے جو کچھ کارنامے طائف اور مکّه میں انجام دئے تھے وهی سب کچھ مدینه میں بھی انجام دئے۔

قابل توجه بات یه هے که اسلامی علاقوں پر وهابیوں کے حملے، حکومت عثمانی پر عیسائیوں اور مغربی ممالک کے حملوں کے ساتھ ساتھ تھے،  جس سے معلوم هوتا هے که ابن تیمیه نے جس فتنه و فساد کا آغاز کیا ، تاتاروں کا اسلامی ممالک پر حملے کرنا اس کا مسلمانوں پر حمله کرنے والوں کے ساتھ آپس میں ایک طے شده معامله تھا جس سےمسلمانوں کے ساتھ اس کی خیانت اور اس  کو نابود کرنے کی سازش کا پته چلتا هے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 next