شیعہ؛ کاروان انتظار کے قافلہ سالار



 

”منجی کا یقین رکھنا“ اورمہدی موعود پر اعتقاد۔جےسا کہ مولف کے مقدمہ اور مترجم کے تعلیقہ میں تفصیل سے گذر چکا ھے۔ایک اےسا عالمی نظرےہ ھے جو صرف شیعوں سے مخصوص نھیںھے،بلکہ سارے اھل سنت بھی اس کے قائل ھیں۔بلکہ زیاہ تر دےگر ادیان کے ماننے والے بھی کسی نہ کسی عنوان سے اس پر ایمان رکھتے ھیں اور سارے کے سارے ان کے ظھور کے منتظر ھیں ؛ لیکن مہدی کا عقیدہ رکھنے والوں اور موعود کے منتظرین کی اکثریت کے در میان اس اضطراب آمیز انتظار کی تاثیر شیعہ کے نزدیک ایک دوسری سنخ سے ھے۔کیونکہ :

الف۔اسلام میں آخر زمانہ میں منجی اور مہدی موعود کے مسئلہ میں دیگر ادیان کی نسبت کچھ زیادہ واضح تفصیل اور صاف وشفاف تاکید ھے۔

ب۔خود عالم اسلام میں شیعہ نقطہ نظر اور اکثر برادران اھل سنت کے نظریہ میں بھی مسئلہ مہدویت کے بارے میں کچھ فرق پایا جاتا ھے۔شیعہ اور خواص اھل سنت آنحضرت کی ولادت اور زندہ ھونے کا عقیدہ رکھتے ھیں۔لیکن بھائیوں کی اکثریت قائل ھے کہ آنحضرت ابھی پیدا نھیں ھوئے ھیں[1]

جھاںعقیدہ اور واقعہ انتظار کی شیعہ مکتب میں عینی اور زندہ صورت میں تعریف کی گئی ھے اور کافی دقیق اور تاریخی تحقیق کی گئی ھے وہ قوت بخش ھیجان آور اس مقدس امید اور آرزو انتظار کے کردار ساز پیغامات زیادہ سے زیادہ جلوہ گرھیں اور ایسے واقعات برادران اھلسنت کے درمیان زیادہ سے زیادہ قابل درک ھیں اس طرح سے کہ خارجی ناظرین کی توجہ کو بھی موثر انداز میں اپنی طرف جلب کیا ھے اور بہتر یہ ھے کہ دلبروں کا راز دوسروں کی زبانی کھا جائے“ یھاں پر مغربی اسلام شناسوں کی قضاوت کے دو نمونے پر اکتفا کررھے ھیں:

اسلام کی تحقیق کرنے والے مغربی محققین کے نظر میں شیعہ مکتب پر عقیدہ مہدی کا اثر

۱۔جاپانی محقق ماربین بالخصوص اس کے بارے میں کہتا ھے:

منجملہ سماج کے اھم مسائل جو شیعوں کے لئے ھمیشہ امیدواری اور کامیابی کا باعث بن سکتے ھیں، حضرت حجت عصر کے وجود کا عقیدہ اور ان کے ظھور کا انتظار ھے۔ کیونکہ شیعوں کا عقیدہ ھے کہ جب انسان بستر پر جائے تو اس امید سے سوئے کہ جب صبح کو بیدار ھو گا تو حضرت حجت عصرظھور کرچکے ھوں گے اور وہ ان کی تائید کے لئے تیار رھے۔ ان کا عقیدہ ھے کہ تمام لوگ اور زمین پر قائم ساری حکومتیں ان کی حکومت کے تابع ھوں گی گویا شیعہ کی ھر ایک فرد بلا استثناء جب رات کو بستر پر جاتی ھے تو اپنے مذھب کے عالمیگیر اقتدار اور وسیع ترقی کی امید لگائے ھوئے صبح کو بیدار ھوتی ھے۔ شیعہ حضرات مجتہدین کو حجت عصر کا نائب عام جانتے ھیں۔ سماجی دانشوروں پر واضح ھے کہ اگر اےسا عقیدہ ملت کی ھر فرد کے درمیان رائج ھو اور اس کے اندر رسوخ کر جائے تو چارو ناچار ایک دن طبیعی اسباب ان کے لئے فراھم ھو جائیں گے: یاس ونا امیدی نیز بدبختی اور ذلت کے گونا گوں عوامل لیکن اس کے بر عکس پشت میں حرارت، امیدواری اور اعتقادی لحاظ سے قوت قلب نجات اور فلاح کا سرچشمہ ھوتا ھے[2]

۲۔ ھانری کربن[3]

 فرانس کا مشھور شیعوں کے بارے میں تحقیق کرنے والا اسلام شناس اس سلسلہ میں قابل ذکر مطالب بیان کرتا، وہ ”بشریت کے لئے شیعہ مذھب کی بشارت کیا ھے“ کے عنوان سے اپنے بیان میں اس طرح اظھار کرتا ھے:

ھمارا نظریہ ھے کہ ھم کوشش کریں تا کہ شیعہ افکار کے بارے میں ایک ایسا روشن اور واضح معنوی مشاہدہ کریں جو اس دور میں انسان کی نا امیدی پر فوقیت رکھتا ھو اور اسے درمیان سے نابود کرتا ھو۔۔۔ اختصار کے ساتھ عرض کروں گا: شیعہ امام شناسی۔ (Lim amologieshi,ite)سنی اسلام کے انتزاعی وحدت نظر اور عےسائی قانونی گرجا گھروں کی حلولیت کے درمیان ایک صراط مستقیم ھوگی۔۔۔

اس کا خلاصہ یو ںھے: تمام مغربی لوگ تاریخی واقعہ میں کہ وہ ”حلول“ کی صورت میں ھے خدا سے رابطہ رکھنے کی کوشش کرتے ھیں، جب کہ شیعی اسلام اس رابطہ کو ”تجلی ظھور اور مظھر حق“ جو کہ قانونی حلول طلب افراد کے تصور کے بر خلاف ھے لہٰذا اگر عقیدہ (یعنی حلول) موجودہ بحران میں مغربی حضرات کا وجدان دخیل ھے، کھیں تشیع جدید مطالب نکال کر اس سلسلہ میں شائع نہ کرے؟۔۔۔ اگر ھوا اور ”سوربن“ کی ادبیات یونیورسٹی میں فلسفہ کی تحصیل میں مشغول ھو گیا اور لاتینی، یونانی، جاپانی، عربی اور فارسی زبانیں سیکھی اور اتابن گیلسون اور لویی ماسینیون کے کلاسوں میں شرکت کی اور ۱۹۳۳ میں ”مونس العشاق“سھرروی کا ترجمہ کرکے نشر کیا۔ اور ۱۹۴۵ ”مرکز ایران شناسی“ کا فرانس میں ناظر بن گیا اور ۱۹۵۴ میں لویی ماسینیون کے بعد ”مدرسہ علمی تحقیقاتی عالی“ کا رئےس ھو گیااس نے شیخ اشراق کے پندرہ اثر کا ترجمہ کیا ھے اس کا سب سے نمایاں کارنامہ ”کتاب شناسی ایران“ کو ۲۲/جلد میں نشر کرتا ھے۔ اور اس نے ۱۳۳۸ اور ۱۳۴۰ شمسی میں شیعت کی شناخت سے متعلق علمامہ طباطبائی سے خط و کتابت اور مذاکرات کئے ھیں



1 2 3 4 5 6 7 8 9 next