معرفت امام(عام امامت)



 

 

شیعہ مذہب میں مسٔلہ امامت،ایک کلامی مسئلہ ہے نہ فقہی، اس لئے کہ جس مسٔلہ کے موضوع کا تعلق، اللہ کی صفت یا اس کے فعل سے ہو، وہ مسٔلہ کلامی ہوتا ہے اور جس مسٔلہ کے موضوع کا تعلق، مکلف کے فعل سے ہو وہ مسٔلہ فقہی ہوتا ہے۔مکتب شیعہ کی رو سے، امام کا تعین کرنا اللہ تعالیٰ کا فعل ہے لہٰذا یہ مسٔلہ کلامی ہے اور اصول دین میں شمار ہوتا ہے اگر چہ امام کو قبول کرنا اور انہیں امام تسلیم کرنا، لوگوں پر واجب ہے اور اس لحاظ سے یہ مسٔلہ فقہی ہے، اس سلسلہ میں آگے بحث ہوگی۔

غرض کہ:

۱۔ وہ امورکہ جن کا تعلق‌اللہ تعالی ٰ کی ذات، صفات یا اس کے افعال سے ہوتا ہے، "اصول دین یا اصول مذہب کہلاتے ہیں"۔

۲۔ وہ امورکہ جن کی بازگشت انسان کے اعمال وتکالیف کی طرف ہوتی ہے "فروع دین کہلاتے ہیں"۔

افعال الٰہی کی حد بندی اور وسعتوں کی تعیین کرنا، علم کلام سے متعلق ہے اور انسان کے افعال اور اس سے متعلق دیگر مسائل کی حدبندی، شرائط، کیفیات، موانع اوراس سے ملی جلی متعلق بحثیں، علم فقہ، اخلاق وحقوق سے مربوط ہیں۔

امامت کا شمار، علم کلام اوراصول دین کے مسائل میں ہوتا ہے لیکن دوسروں نے اسےفقہی مسائل سے اور فروع دین کا جزء قرار دیا ہے۔اور وہ امام کی عصمت کے لازمی ہونے پر عقیدہ نہیں رکھتے،بلکہ وہ امام کو ایک عام سا  رہبر وپیشوا سمجھتے ہیں کہ جو لوگوں کے انتخاب کے ذریعہ اس مقام ومنصب پر فائز ہوتا ہے نہ کہ‌اسے اللہ تعالیٰ منصوب فرماتا ہے، اسی وجہ سے وہ حضرات، امامت کو اصول دین میں شمار نہیں کرتے ہیں، بلکہ فقہ میں اس کے متعلق بحث وگفتگو کرتے ہیں اور اگر علم کلام میں بحث کرتے بھی ہیں تو اس عنوان سے کہ امامت، ایک  کلامی مسٔلہ نہیں ہے۔

امامیہ کے راسخ عقیدہ کے لحاظ سے، معاشرہ کے امور کو ادارہ کرنا، امام کے معمولی  اور ادنیٰ  وظائف  میں سے ہے، بر خلاف ان لوگوں کے جنھوں نے اپنے باطل گمان میں  امامت کو فقط حکومت ، انتظامی امور اور  معاشرہ  کی سیاسی ذمہ داریوں  میں محدود کردیا ہے۔ امام ایک اہم وعظیم شخصیت ہے، جس کامادی وعنصری  وجود انسانی معاشرہ کی سب سے بڑی ضرورتوں کو پوراکرتا ہے، اور ان کا ملکوتی و روحانی وجود، عالم مثال اور عالم ملکوت کے فرشتوں کی رہنمائی کرتا ہے اور جبروتی یعنی طاقت وعظمت والا وجود، حاملین عرش وملاء اعلیٰ کےساکنین کو ان کے شایان شان کمال کی طرف ترغیب دیتا ہے۔اس کے علاوہ بھی  امام دیگر عظیم وبرتر کاموں کو انجام دیتا ہے۔

امامت کا کلامی ہونا یعنی امام کو تعیین ومنصوب کرنااللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور یہ فعل الٰہی ہےکیونکہ امام  نہ فقط وظائف امامت کے انجام دینے، کلام و احکام الٰہی کے ابلاغ کرنے اور ان کی تشریح وتبیین کرنے میں،غلطی غفلت اور بھول چوک کا شکار ہو، بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ذاتی و شخصی ظائف میں بھی خطاءکا ارتکاب نہ کرے۔ نہ وہ خود گناہ کے نزدیک جائے اور نہ گناہ اس کے نفس کو آلودہ کرسکے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ نہ اس کےہاتھ گناہ کی طرف  بڑھیں اورنہ  گناہ کا ارادہ اس کے دل میں آئے نیز اس کی فکر بھی خطا ولغزش سےمحفوظ رہے۔ یہ وہی عظیم مقام عصمت ہے، جو انسان کامل کے آخری اور نہایت پوشیدہ اسرار میں سے ہے نیز عصمت نبوت وامامت کی شرائط میں سے بھی شمار ہوتی ہے۔

معصوم شخص ہی، الٰہی تعلیم کے ذریعہ کائنات کے تمام اسرار کو سمجھ سکتا ہے اور بشرکو سعادت  بخشے کے امور کو صحیح درک کرسکتا ہے۔کائنات کی چیزوں اور لوگوں  کے باطن کو الہی  اذن کے ساتھ بغیر کسی لغزش کے دیکھ سکتا ہے۔ عصمت جو کہ انسان کامل میں ایک راسخ ملکہ ہے، اسے سوائے ذات باری تعالیٰ کے یا وہ جسکے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے کوئی نہیں تشخیص دے سکتا  یہی وجہ ہے کہ امام کو منصوب ومعین کرنا پروردگار  عالم کا فعل ہے کہ جو عالم الغیب ہے۔قرآن کریم نے بھی، خلیل حق، حضرت ابراہیمؑ کی آزمایش وامتحان کا ذکر کرتے ہوئے، امامت کو خدا کا عہد قرار دیا ہے:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 next