معصومین علیهم السلام کے بارے مختصر نکات



۱۔ رسول اکرم حضرت محمد مصطفی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)

الف۔  اھل سنت کے طریق سے

پھلی حدیث

(اَخبَرَنَامُحَمَّدُ بْنُ تَاجُ الدِّیْنِ شَیْبَانِی یَرْفَعُہ، عَنْ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّادِقِیْنَ الْمُحِقِّیْنَ فِیْمَا یُوْرِدُوْہُ وَ یُسْنِدُوْنَ ذٰلِکَ اِلٰی الْمُفَضَّلِ بْنِ عُمَرِبْنِ عَبْدِاللّٰہِ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ (وَآلِہ) وَسَلَّمَ اِنَّہ قَالَ: لِمَا خَلَقَ اللّٰہُ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ، کَشَفَ اللّٰہُ عَنْ بَصِرِہ فَنَظَرَ اِلٰی جَانِبِ الْعَرْشِ نُوْراً فَقَالَ: اِلٰھِی وَ سَیدی مَا ھٰذَا النُّورُ؟ قَالَ:یا اِبْرَاھِیْمُ! ھٰذَا نُوْرُ مُحَمَّدٍ صَفْوَتِی۔ قَالَ: اِلٰھِی وَ سَیدی وَ اَرَیٰ نُوْراً اِلٰی جَانِبِہ قَالَ: یا اِبْرَاھِیْمُ! ھٰذَا نُوْرُ عَلِیٍّ نَاصِرُ دِینی۔ قَالَ: یا اِلٰھِی وَ سَیدی وَ اَرَیٰ نُوْر اً یَلِی النُّوْرَین۔ قَالَ: یا اِبْرَاھِیْمُ! ھٰذا نُوْرُ فَاطِمَةَ تَلیٰ اَبَاھَا وَ بَعْلَھَا، فَطَمَتْ بِھَا مُحِبِّیْھَا مِنَ النَّارِ۔ قَالَ: اِلٰھِی وَ سَیدی وَ اَریٰ نُوْرَین یَلِیَانِ الثَّلَاثَةَ اَنْوَارٍ۔ قَالَ: یا اِبْرَاھِیْمُ! ھٰذَانِ الْحَسَنِ وَ الْحُسَین یَلِیَانِ نُوْرَ اَبِیْھِمَا وَ اُمِّھِمَا وَ جَدِّھِمَا۔ قَالَ: اِلٰھِی وَ سَیدی وَ اَرَیٰ تِسْعَةَ اَنْوَارٍ قَدْ اَحْدَقُوا بِالْخَمْسَةَ۔ قَالَ: یا اِبْرَاھِیْمُ ھٰوُلَاءِ الْاَئِمَّةُمِنْ وُلْدِہِمْ۔ قَالَ: اِلٰہِی وَسَیِّدِی وَبِمَاذَا یُعْرَفُوْنَ؟ قَالَ: یَااِبْرَاہِیْمُ! اَوَّلُہُمْ عَلِیُّ بْن الحُسَیْنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدُ وَمُوسَیٰ بنُ جَعْفَرْ وَعَلِیُّ بْنُ مُوْسیٰ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِیَّ وَعَلِیُّ بْنُ مُحَمَّد وَالْحَسَنُ الْعَسْکَرِی وَالْمَہْدِی مُحَمَّدُ بنُ الْحَسَنْ صَاحِبِ الزَّمَانِ۔)

”محمد بن تاج الدین شیبانی نے بصورت مرفوع ان سچے محقین کی جماعت سے ھمیں خبردی ھے کہ جنھوں نے مفضل بن عمر بن عبد اللہ سے نقل یا استناد کیا ھے وہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے نقل کرتے ھیں کہ آپ نے فرمایا: جب خدا وند عالم نے حضرت ابراھیم کو پیدا کیا تو ان کی نگاھوں سے پردہ اٹھادیا جب انھوں نے جانب عرش ایک نور دیکھا تو کھا: میرے معبود میرے مالک یہ نور کیا ھے؟ تو خدا نے جواب دیا: اے ابراھیم! یہ میرے برگزیدہ بندہ محمد کا نور ھے پھر کھا: اے میرے مالک ان کے پھلو میں بھی ایک نور دیکھ رھا ھوں تو خدا نے کھا: اے ابراھیم! یہ میرے دین کے ناصرو مدد گار علی کا نور ھے۔ پھر کھا: میرے مالک اس سے متصل ایک اور نور دیکھ رھا ھوں۔ تو خدا نے کھا: یہ فاطمہ کا نور ھے جو اپنے والد اور شوھر کے پیچھے ھیں۔ ان کی وجہ سے ان کے چاھنے والے جھنم سے محفوظ ھیں۔ کھا: خدایا! اے میرے مالک ان تینوں نور کے علاوہ بھی نور دیکھ رھا ھوں تو خدا نے کھا: اے ابراھیم! یہ حسن اور حسین ھیں جو اپنے ماں باپ اور جد کے نور کے بعد آئیں گے کھا: میرے مالک اس کے علاوہ نو نور اور دیکھ رھا ھوں جو ان انوار خمہ کا حلقہ کئے ھوئے ھیں تو خدا نے کھا: اے ابراھیم! یہ ان کی نسل سے ھونے والے ائمہ کا نور ھے پھر حضرت ابراھیم نے کھا: خدایا! لوگ کیسے پہچانیں گے؟ کھا: اے ابراھیم! اس میں پھلے علی بن الحسین اور محمد بن علی، جعفر بن محمد، موسیٰ بن جعفر، علی بن موسیٰ، محمد بن علی، علی بن محمد، والحسن عسکری اور مہدی محمد بن حسن صاحب الزمان ھیں[1]

دوسری حدیث

(عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ اِبْنِ عَبَّاس رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا، قَالَ: قَدِمَ یَھُوْدِیٌّ یُقَالُ لُہ نَعْثَلُ، فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ اَسْئَلُکَ عَنْ اَشْیَاءَ تَلَجْلَجُ صَدْرِیْ، اِلٰی اَنْ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ: اَنَّ وَصِیِّی عَلِیَّ بْنُ اَبِی طَالِبْ وَبَعْدَہ سِبْطَایَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ تَتْلُوْہُ تِسْعَةُ اَئِمِّةٍ مِنْ صُلْبِ الْحُسَیْنِ۔ قَالَ: یَا مُحَمَّدُ! فَسَمِّھِمْ لِیْ، قَالَ: اِذَا مَضَیٰ الْحُسَیْنُ فَاْبْنُہ عَلِیّ، فَاِذَا مَضَیٰ عَلِیُّ فَاْبْنُہ مُحَمَّد، فَاِذَا مَضَیٰ مُحَمَّدٌ فَاْبْنُہ جَعْفَرُ، فَاِذَا مَضَیٰ جَعْفَرُ فَاْبْنُہ مُوْسَیٰ فَاِذَا مَضَیٰ مُوْسَیٰ فَاْبْنُہ عَلِیّ، فَاِذَا مَضَیٰ عَلِیُّ فَاْبْنُہ مُحَمَّد، فَاِذَا مَضَیٰ مُحَمَّد فَابْنُہ عَلِیّ، فَاِذَامَضَیٰ عَلِیُّ فَابْنُہ الْحَسَنُ، فَاِذَا مَضَیٰ الْحَسَنُ فَابْنُہ الْحُجَّةُ مُحَمَّدُنِ  الْمَہْدِی فَھٰوُلَاءِ اِثْنَا عَشَرَ۔ اِلٰی اَنْ قَالَ: وَاِنَّ الثَّانِیْ عَشَرَ مِنْ وُلْدِی یَغِیْبُ حَتَّیٰ لَا یَرَیٰ وَیَاتِی عَلٰی اُمَّتِی زَمَانٌ لَا یَبْقَیٰ مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اِسْمُہ وَلَا یَبْقَیٰ مِنَ الْقُرآنِ اِلَّا رَسْمُہ، فَحِیْنَئِذٍ یَاذَنُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی لَہ بِالْخُرُوْجِ، فَیُظْھِرُ اللّٰہُ الْاِسْلَامَ بِہ وَیُجَدِّدَہ)

مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ھیں کہ انھوں نے کھا:

ایک نعثل نامی یھودی رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کی خدمت میں آیا اور کھا:ا ے محمد! میں کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں آپ سے سوال کروں گا جو میرے سینے میں ھیجان برپا کئے ھوئے ھیں، یھاں تک اس نے کھا: تو رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے فرمایا: میرے جانشین علی بن ابی طالب ھیں اور ان کے بعد میرے دونوں نواسے حسن و حسین اور ان کے بعد حسین کی ذریت سے نو امام پئے درپئے آئیں گے۔ اس پر اس نے کھا: اے محمد! ان کے اسماء سے مجھ آگاہ کرو تو حضرت نے کھا: حسین کے بعد ان کے فرزند علی، ان کے بعد ان کے فرزند محمد، محمد کے بعد ان کے فرزند جعفر اور جعفر کے بعد ان کے فرزند موسیٰ اس کے بعد ان کے فرزند علی، علی کے بعد ان کے فرزند محمد، محمد کے بعد ان کے فرزند علی، علی کے بعد ان کے فرزند حسن اور حسن کے بعد ان کے فرزند حجت محمد مہدی پس یہ لوگ بارہ ھیں پھر آپ نے کھا: کہ میرا بارھوا فرزند غایب ھوجائے لوگ اسے دیکھ نھیں پائیں گے اور میری امت پر ایک اےسا دور آئے گا کہ اس میں اسلام کا صرف نام رہ جائے گا اور قرآن کا صرف نام رہ جائے گا اس وقت خدا وند عالم انھیں ظاھر اور قیام کی اجازت دے گا اور ان کے ذریعہ خدا اسلام کو غلبہ عطا کرے گا اور اس کی تجدید ھوگی[2]

تیسری حدیث

(عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ بْنِ الْحَارِثِ وَ سَعِیْدِ بْنِ بَشِیْرِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِب(عَلَیْہِ السَّلَامُ)قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ (وَآلِہ) وَسَلَّمَ: اَنَا وَارِدُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ وَاَنْتَ یَاعَلِیّ اَلسَّاقِی وَالْحَسَنُ اَلذَّائِدُ وَالْحُسَیْنُ اَلْآمِرُ وَعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ اَلْفَارِط وَمُحَمَّد بْنِ عَلِیِّ اَلنَّاشِرُ وَ جَعْفَر بنِ مُحَمَّد اَلسَّائِقُ وَ مُوسَیٰ بنِ جَعْفَرِ مُحْصِی الْمُحِبِّیْن وَالْمُبْغِضِیْنَ وَ قَامِعُ الْمُنَافِقِیْنَ وَعَلِیّ بنِ مُوْسیٰ مُزِیّنُ الْمُوْمِنِیْنَ وَمُحَمَّدُ بنُ عَلِیّ مُنْزِلُ اَھْلِ الْجَنَّةِ دَرَجَاتَھُمْ وَعَلِیّ بْنِ مُحَمَّدِ خَطِیْبُ شِیْعَتِہ وَمُزَوِّجُھُمْ الْحُوْرُ الْعِیْنَ وَالْحَسَنُ بنُ عَلِیّ سِرَاجُ اَہْلِ الْجَنَّةِ یَسْتَضِیْئُونَ بِہ وَالْمَہْدِیُ شَفِیْعُھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ حِیْنَ لَا یَاذَنُ اللّٰہُ اِلَّا لِمَنْ یَشَاءُ وَیَرْضَیٰ)[3]

اسحاق بن حارث اور سعید بن بشیر سے مروی ھے کہ علی بن ابی طالب(علیہ السلام) نے فرمایا:



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 next