منجی آخرزمان کی ولادت کا عقیدہ رکھنے والے حضرات



الف۔ در عصر غیبت صغریٰ

۱۔ محمد بن ھارون ابو بکر الرویانی (م ۳۰۷ھ)  اپنی کتاب ”المسند میں“ (نسخہ خطی)

۲۔ احمد بن ابراھیم علی الکندی (م ۳۱۰) شاگرد محمد بن جریر طبری و استاد حافظ ابو نعیم اصفھانی

۳۔ محمد بن احمد بن ابی الثلج البغدادی معروف بہ ابن ابی بلخ (م ۳۳۲ھ) مولف کتاب تاریخ الائمة موالید الائمة کے عنوان سے ملحقات الفصول العشرة فی الغیبة کے ضمن میں شیخ مفید و نیز کتاب نوادر رواندی کے ھمراہ ھے طبع نجف۔ ۱۳۷۰ھ) زیور طبع سے آراستہ ھوئی ھے۔

۴۔حسین بن حمدان ابو عبد اللہ الخصیبی (م ۳۲۴) در کتاب خود الھداےة الکبریٰ باب ۱۴ عنوان، باب،الامام المہدی المنتظرمہدی موعود کی ولادت کی بات کی ھے۔ الھداےة الکبریٰ، ص/۳۵۳۔ ۴۳۷ پر ملاحظہ ھو۔

۵۔ ابو نصر، سھل بن عبد اللہ بخاری زیدی (م بعد از ۳۴ھ) مشھور نسب شناس اپنی کتاب کی دلالت کا اعتراف کیا ھے

۶۔ مشھور مورخ علی بن حسین مسعودی (م ۳۴ھ) رک: مروج الذھب، ج/۸، ص/۴۰ فرانسوی ضمیمہ کے ساتھ طبع لندن ملاحظہ ھو۔

۷۔ محمد بن احمد بن یوسف کاتب معروف بہ الخوارز می ۳۸۷ھ) مفاتیح العلوم، ص/۳۲ و ۳۳ طبع لندن۔ ۱۸۹۵م

۸۔ محمد بن احمد بن ابی الفوارس، ابو الفتح بغدادی (م ۴۱۳ھ) الاربعین،ح۴ از: کشف الاستار کی نقل کے مطابق محدث نوری، ص/۲۹، پھلا ایڈیشن

۹۔ ابو نعیم الاصفھانی (م ۴۳۰ھ) الاربعین حدیثاً فی المہدی۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 next