وہابیت کے چہرے



 

 

پہلی فصل

 

وہابیت اور اس کا بانی

 

 

 جیسا کہ فرقہٴ وہابیت کے نام ہی سے واضح ھے کہ یہ فرقہ محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان نجدی سے منسوب ھے جو۱۱۱۱ھ میں پیداھوئے تھے اور ۱۲۰۶ھ میں انتقال کیا ۔

محمد بن عبد الوہاب نے تھوڑی بہت دینی تعلیم حاصل کی تھی مگر کیونکہ انھیں جھوٹے مدعیان نبوت،یعنی مسیلمہٴ کذّاب، سجاج، اسود عنسی اور طُلَیحہٴ اسدی جیسے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کافی دلچسپی تھی اسی بنا پر اپنی تعلیم کے دوران ہی ان کے اندر انحراف اور گمراہی کے آثار اس حد تک نمایاں ھوچکے تھے کہ ان کے والد اور اساتذہ اس خطرہ سے لوگوں کو ھوشیار کرنے پر مجبور ھوگئے اس بارے میں ان حضرات کے یہ الفاظ ملاحظہ فرما ئے۔

”یہ (محمد بن عبد الوہاب) بہت جلد گمراہ ھونے والا ھے اور جن لوگوں کو خداوندعالم اپنی رحمت سے دور کر کے شقاوت (بدبختی) میں مبتلا کرنا چاھے گاانہیں اس کے ذریعہ گمراہ کردے گا“

۱۱۴۳ھ میں محمد بن عبد الوہاب نے اپنے نئے مذہب (فرقہ) کی طرف لوگوں کو دعوت دینا شروع کی تو سب سے پہلے ان کے والد اور اساتذہ ہی اس انحراف کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ھوئے اور ان کی تمام باتوں کا جواب دیتے رھے اسی لئے انہیں کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہ ھوسکا۔

یہاں تک کہ ۱۱۵۳ھ میں ان کے والد کا انتقال ھوگیا جس کے بعد انھوں نے دوبارہ سادہ لوح عوام کے درمیان اپنے افکار (وہابیت ) کی تبلیغ شروع کردی، اگرچہ اس بار چند کم مایہ افراد نے موصوف کی پیروی ضرور کی مگر ان کے شہر والوں نے ہی ان کے خلاف ہنگامہ کردیا اور وہ ان کے قتل پر تیار ھوگئے جس کے خوف سے انہیں ”عینیہ“ شہر کی طرف فرار ھونا پڑا،وہاں پھونچ کر وہ وہاں کے حاکم سے اتنا قریب ھوئے کہ اس کی بہن سے شادی کرلی۔ اور وہاں بھی اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ جاری رکھی مگر وہاں بھی لوگوں نے ان کا جینا دوبھر کردیا اور بالآخر شہر بدر بھی کردئے گئے  وہ وہاں سے نجد کے مشرقی علاقہ ”درعیہ“ (نامی جگہ) کی طرف بھاگے جہاں اس سے پہلے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہٴ کذّاب اور اس جیسے دوسرے باطل فرقوں اورمذاہب نے سر ابھارا تھا۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 next