حضرت زہرا کے فضائل قرآن کی روشنی میں



حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی فضیلت کو قر آن کریم کی متعدد آیات میں ذکر کیا گیا ہے  انہی آیات میں سے ایک سورہ کو ثر ہے جو قرآن مجید کے ١١٤ سوروں میں سب سے چهوٹا سورہ شمار ہو نے کے باوجود جامع تر ین سورہ کہا جاتا ہے وہ سورہ یہ ہے :

 

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ِنَّا َعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ ۔فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ۔ ِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الَْبْتَرُ ۔

 

یعنی ( اے رسول ) ہم نے تم کو کوثر عطاکیا تم تو اپنے پر ور گار کی نماز پڑھا کر و اور قربانی دیا کر و بے شک تمہارا دشمن بے اولاد رہے گا ۔

 

علامہ ابن حجر عسقلانی نے حضرت رسول خدا(صلی الله علیه و آله وسلم)سے روایت کی ہے کہ آپ نے جناب امیر المومنین سے فرمایا کہ اے علی تم اور تمہارے شیعہ حوض کو ثر پر سیراب اور نورانی صورت میں ہو نگے جب کہ تمہارا دشمن پیاس سے زرد وہاں سے نکالے جائیں گے(١)

 

اس روایت کی بناء پر کوثر کا معنی حوض کو ثر ہے نہ حضرت زہرا لیکن با قی تفاسیر میں اس سورہ کے شا ن نزول کو اس طرح بیا ن کیا گیا ہے کہ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ جب پیغمبر(صلی الله علیه و آله وسلم) کے فرزند جناب قاسم جو نو عمری یا نونہالی میں دنیا سے چل بسے تو پیغمبر پریشان ہوئے اور آپ کے دشمنوں میں سے سر سخت دشمن عاص ابن وائل تھا کہنے لگا حضرت محمد اپنے فر زند قاسم کے مر نے کے بعد بے اولاد اور مقطوع النسل رہیں گے کیو نکہ اس زمانہ میں بیٹیوں کو اولاد اور بقاء نسل شمار نہیں کیا جاتا تھا اس وقت خدا نے مشرکین کے اس طعنے کا جواب سورہ کو ثر کے ذریعے دیا یعنی آپ پر سورہ کوثر کو نازل کیا اور کہا کہ آپ کی نسل کبھی بھی منقطع نہیں ہو گی بلکہ آپ کے دشمن ہی بے اولاد اور مقطوع انسل ہو نگے اور آپ کی نسل قیامت تک زہرا کے ذریعے باقی رہے گی کہ اسی سے معلوم ہو تا ہے کہ سورة کو ثر حضرت زہرا کی شان میں نازل ہوئی ہے اور جس جگہ میں یہ سورہ نازل ہو ئی ہے وہ مقام آج سعودی عرب میں مسجد کو ثر کے نام سے مشہور ہے او ر حجاج اس مسجد کی زیارت کے لئے تشریف لے جا تے ہیں (٢)

 



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 next