اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکیں



تیرہویں صدی ہجری کے دوسرے نصف میں اور انیسویں صدی عیسوی میں ایران‘ مصر‘ شام‘ لبنان‘ شمالی افریقہ‘ ترکی‘ افغانستان اور ہندوستان میں اسلاسمی تحریکیں چلائی گئی ہیں‘ وہ لوگ جنہوں نے مصلح ہونے کا دعویٰ کیا اور اصلاح کرنے کے لئے خیالات اور نظریات پیش کئے

 

 ان ملکوں میں نمودار ہوتے رہے ہیں‘ یہ تحریکیں صدیوں کے جمود کے بعد شروع ہوئیں‘ یہ کسی حد تک مغرب کی سیاسی‘ اقتصادی اور تہذیبی نو آبادیاتی پالیسیوں کے خلاف تھیں اور اسلامی دنیا میں احیاء اور بعثت ثانیہ شمار کی گئی ہیں ۔

 

اصلاح

اصلاح کا مطلب ہے ”نظم و باقاعدگی پیدا کرنا“ اور اس کا الٹ فساد ہے ۔ اصلاح اور فساد کا ایک متضاد جوڑا بناتی ہیں جن کا ذکر قرآن اور دیگر الہامی کتابوں میں اکثر آیا ہے ۔ متضاد زوج جو کہ اعتقادی اور اجتماعی اصطلاحوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں ان کو اگر آمنے سامنے رکھا جائے تو مطالب کے سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے‘ مثلاً ہم یہ متضاد زوج سنتے ہیں‘ توحید و شرک‘ ایمان و کفر‘ ہدایت و ضلالت‘ عدل و ظلم‘ خیر و شر‘ اطاعت و معصیت‘ شکر و کفران‘ اتحاد و اختلاف‘ غیبت اور شہادت‘ علمیت و بے علمی‘ تقویٰ و فسق‘ تکبر و انکسار وغیرہ۔

کچھ متضاد اصطلاحیں ایک دوسرے کے معنی کی وضاحت کر کے مثبت اور منفی پہلو کا اظہار کرتی ہیں‘ اصلاح اور فساد اسی قسم کی اصطلاحیں ہیں‘ قرآن میں اصلاح کا بعض دفعہ دو افراد کے رابطہ میں (اصلاح ذات‘ البین) استعمال ہوا ہے بعض دفعہ خاندانی ماحول کے متعلق اور بعض دفعہ وسیع تر معاشرتی ماحول کے متعلق جو کہ اس وقت میرے پیش نظر ہے اور اس کا قرآن کی کئی سورتوں میں ذکر ہے(سورئہ بقر ۱۱‘ ۲۲۰‘ سورئہ اعراف ۵۶‘ ۱۷۰‘ ہود ۸۸‘ ۱۱ اور قصص ۱۹)۔ اس کے بعد جب میں اس مضمون میں لفظ اصلاح استعمال کروں گا تو میرا مقصد معاشرے کی سطح پر اصلاح ہو گا یعنی اصلاح معاشرہ ہو گا ۔

قرآن نے پیغمبروں کو مصلح قرار دیا ہے جیسے کہ حضرت شعیب۱(ع)نے فرمایا:

ان ارید الا الاصلاح ما استطعت وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت و الیہ انیب

”میں اپنی استطاعت کے آخری امکان تک صرف اصلاح کرنا چاہتا ہوں‘ میری کامیابی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے‘ میں صرف اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔“



1 2 3 4 next