اما م جواد، امام هادی اور امام عسکری علیهم السلام کے اخلاقی بلند نمونے



حضرت اما م جواد علیہ السلام کے چند اخلاقی نمونے

 

حضرت جواد الائمہ علیہ السلام اپنی کمسنی کے باوجود علم، بُردباری، فصاحت بیان، مخلصانہ عبادت اور دوسرے اخلاقی فضائل میں بے نظیر تھے، عجیب و غریب استعداد اور فصیح و بلیغ زبان رکھتے تھے اور علمی و دقیق مسائل کا فوراً جواب دیتے تھے نیز اپنے بدن و لباس کی پاکیزگی پر اپنے آبا ء و اجداد طاہرین (علیھم السلام) کی طرح بہت زیادہ توجہ دیتے تھے۔

برکت والا خط

اھل بُست و سیستان کے قبیلے بنی حنیفہ سے ایک شخص نے روایت کی ھے کہ اس نے کہا: جس سال میں نے حج کے اعمال انجام دئے معتصم کی حکومت کی ابتدا تھی، میں حضرت امام جواد علیہ السلام کے پاس بیٹھا ھوا تھا، ھم ایک دسترخوان پر تھے کہ حاکم عباسی کے دوستوں کے سامنے میں نے امام علیہ السلام سے عرض کی: (میں آپ پر قربان! )ھمارا حاکم و والی ایسا شخص ھے جو آپ کی ولایت کو مانتا ھے اور آپ کے دوستداروں میں سے ھے، اس کے دفتر کاکچھ ٹیکس مجھ پرھے (میں آپ پر قربان!) اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس کو ایک خط لکھ دیں کہ مجھ پر لطف و کرم کرے، امام علیہ السلام نے (حاکم سیستان کی جان کی حفاظت کی خاطر تقیہ کرتے ھوئے ) فرمایا: میں اس کو نھیں جانتا! میں نے عرض کی: (میں آپ پر قربان) جیسا کہ میں نے عرض کیا ھے وہ آپ اھل بیت (علیھم السلام) کے محبوں میں سے ھے اور آپ کا خط میرے لئے مفید واقع ھوگا۔

چنانچہ امام علیہ السلام نے ایک کاغذ اٹھایا اور یوں تحریر فرمایا:

بسم الله الرحمن الرحیم

 امّا بعد! یہ خط لانے والا تمہارے بارے میں نیکی سے یاد کرتا ھے، تمہارے لئے باقی رہنے والا عمل وھی ھے  جس میں تم نے نیکی کی ھو، لہٰذا اپنے بھائیوں کے ساتھ نیکی کرو اور جان لو کہ خداوندعالم تمہارے اعمال کی باز پرس کرے گا چاھے وہ ذرّہ برابریا اس سے بھی کم کیوں نہ ھو۔

خط لے جانے والا کہتا ھے: میرے پہنچنے سے پھلے ھمارے علاقے کے والی حسین بن عبد الله نیشاپوری کے پاس خط کی خبر پہنچ چکی تھی، جب میں سیستان میں پہنچا تو انھوں نے شہر سے باہر دو فرسخ پر میرا استقبال کیا، میں نے خط انھیں دیا، انھوں نے خط لے کر بوسہ دیا اور خط کو آنکھوں پر ملا اور پھر مجھ سے کہا: تمہاری حاجت کیا ھے؟ میں نے کہا: آپ کے دفتر میں میرے ذمہ ٹیکس ھے کہ جس کو میں ادا نھیں کرسکتا، چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس کے دفتر سے میرا ٹیکس مٹا دیں، اور کہا: جب تک میں اس دربار کا والی ھوں تم ٹیکس ادا نہ کرنا، اس کے بعد میرے اھل و عیال کے سلسلہ میں دریافت کیا، میں نے اپنی اولاد کی تعداد بتائی، چنانچہ اس نے حکم دیا کہ ان کے خرچ سے زیادہ عطا کرو، اور وہ جب تک زندہ رھے میں نے ٹیکس نھیں دیا، اور آخری وقت تک مجھ سے رابطہ ختم نھیں کیا۔[1]

مظلوم کی حمایت

علی بن جریر کہتے ھیں: میں امام جواد علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ھوا تھا کہ امام علیہ السلام کے گھر کا ایک گوسفند گم ھوگیا، امام علیہ السلام کے ایک پڑوسی کو چوری کے الزام میں پکڑ کر امام علیہ السلام کی خدمت میں لایا گیا۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 next