امام زمانہ (عج) کی ھمہ گیر شخصیت اور آپ کا اخلاق



 

 

 

دیگرائمہ اھل بیت علیھم السلام ہر طرف سے متعدد محدودیت اور مشکلات کی وجہ سے اپنی وجود ی عظمتوں کو بیان نہ کرسکے۔

 لیکن حضرت امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کو (خداوندعالم کے لطف و کرم سے)ایسا موقعہ فراھم ھوگا کہ اپنے  عظیم الشان اورآفاقی وجود کے متعدد پھلوؤں کو ظاہر کرسکیںگے، جیسا کہ نبی اکرم (ص)اور ائمہ اھل بیت علیھم السلام نے پھلے ھی سے تصویر کشی فرمائی ھے۔

لہٰذا مذکورہ باتوں کے پیش نظر حضرت مہدی منتظر (عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف) کی روش و منش اور خلق و خُو دیگر ائمہ اھل بیت علیھم السلام کی زندگی سے وسیع تر ھوں گے۔

متعدد روایات میں بیان ھوا ھے کہ امام زمانہ (عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف) کا زمانہ سختیوں اور خونریزیوں کا ھوگا، یہاں تک کہ بعض روایات میںآیا ھے کہ خداوندعالم امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کے پاک دل سے مخالفت  دشمنوں کی محبت نکال دے گا یہاں تک لوگ کھیں گے:

”لیس ہذا من آل محمد لو کان من آل محمد لرحم“[1]

”یہ آل محمد (علیھم السلام) سے نھیں ھیں اگر آل محمد(ص) سے ھوتے تو رحم کرتے“۔

لیکن معلوم ھونا چاہئے کہ امام زمانہ (عج) کے ظھور کے وقت تمام علاقے دشمن کے ہاتھوں میں ھوں گے اور دشمن آپ کے ساتھ سخت مقابلہ کرے گا، حضرت امام صادق علیہ السلام اس سلسلہ میں فرماتے ھیں:

”۔۔۔اِنَّ قائِمَنَا اِذا قامَ، اِسْتَقْبَلَ مِنْ جَھلَةِ النَّاسِ اٴشَدَّ ممّا استِقْبَلَہُ رَسُولُ اللّٰہِ  (صلی الله علیه و آله و سلم) مِنْ جُھّال الجاھِلیَّةِ۔۔۔“۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 next