انتظار اور منتظر کے خصوصیات (1)



 

مسئلہ انتظار کی وضاحت            

بعض لوگ”انتظار “کا مطلب یہ سمجھتے ھیں کہ ”انتظار“ سماج اور تاریخ کے کمزور اور دوکچلے ھوئے لوگوں کی محرومیوں کی دین ھے اور انتظاردر اصل موجودہ مشکلات ومصائب سے بچنے کے لئے ایسے مستقبل کے تصور میں غرق ھوجانا ھے جس میں تمام محرومین اپنے حقوق اور اپنی کھوئی ھوئی شان وشوکت کو دوبارہ حاصل کرلیں گے ایسا تصور در حقیقت ”بیداری میں خواب“دیکھنے یا ”حقائق سے خیالات کی دنیا کی طرف فرارکرنے کے “  مانند ھے۔

حقیقت یہ ھے کہ انتظار کی اس تاویل او روضاحت کا علم سے دور کا بھی کوئی واسطہ نھیں ھے آئیے انتظار کی تاریخ کو انسانیت کے مشھور ومعروف ادیان کے وسیع وعریض میدانوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی جائے ۔

 انتظار لا مذہب مکاتب فکر کی روشنی میں

انتظار کا تعلق فقط مذہبی مکاتب فکر سے نھیں ھے بلکہ انتظار کا دائرہ مارکسزم جیسے بے دین مکاتب فکر تک پھیلا ھوا ھے چنانچہ برٹرانڈراسل کا بیان ھے:”انتظارکا تعلق صرف  مذاہب سے نھیں ھے بلکہ غیر مذہبی مکاتب فکربھی ایسی شخصیت کے منتظر میں جو عدل وانصاف کا پرچم لہرا کر دنیا کو نجات دے سکے ۔“

انتظار کے بارے میں راسل نے جوکہا ھے :انتظار کا وھی مفھوم عیسائیوں کے یہاں بھی پایا جا تا ھے اسی طرح”ٹولسٹائے“کے نزدیک بھی انتظار کا مفھوم وھی ھے جو عیسائیوں کے یہاں ھے البتہ اس روسی مفکر کے یہاں اس مسئلہ کو پیش کرنے کا انداز عیسائیوں سے قدرے مختلف ھے۔

انتظار کے بارے میں ما قبل اسلام موجود ادیان کا نظریہ

کتاب مقدس کے عہد قدیم میں ھمیں یہ ملتا ھے :”اشراراور ظالموں کی موجودگی سے آزردہ خاطر نہ ھو کیونکہ ظالموںکا سلسلہ عنقریب ھی ختم ھو جائے گا اور عدل الٰھی کے منتظر زمین کے وارث ومالک بن جائیں گے اور قابل لعنت افراد پراکندہ ھو جائیں گے اور نیک بندے ھی زمین کے مالک ھوں گے اور دنیا کے آخری دورتک وھی آبادرھیں گے۔“[1]

کتاب مقدس نے جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ھے اسی کا تذکرہ قرآن مجید کی اس آیت میں ھے:< وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ الْاٴَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ > [2]”اور ھم نے زبور کے بعد ذکر میں بھی لکھ دیا ھے کہ ھماری زمین کے وارث ھمارے نیک بندے ھی ھوں گے ۔“

 انتظار اھل سنت کی نظر میں

صرف شیعوں کوھی دنیا کو ظلم وجور سے ”نجات دینے والے مہدی“کاانتظار نھیںھے بلکہ شیعی احادیث کی طرح اھل سنت کے یہاں بھی اس سلسلہ میں بکثرت اتنی صحیح احادیث موجود ھیں جن کے بعد کسی شک وشبہہ کا امکان باقی نھیں رہ جاتا ھے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next