حضرت امام علی رضاعليه السلام کی حديث يں



جوخداکي تشبيہ اس کي مخلوق سے دے وہ مشرک ہے اورجوخداکي طرف ان چيزوں کي نسبت دے جن کي ممانعت کي گئي ہے وہ کافرہےـ

(وسائل الشيعہ ،ج 18 ،ص 557) ـ

ايمان اسلام سے ايک درجہ افضل ہے، اورتقوي ايمان سے ايک درجہ افضل ہے، اوريقين ايمان سے ايک درجہ افضل ہے اوربني آدم کويقين سے افضل کوئي چيزنہيں دي گئيـ (بحارالانوارج 78 ص 338) ـ

ايمان کے چاررکن ہيں :  1 ـ خداپربھروسہـ  2 ـ قضا(وقدر) الہي پرراضي ہوناـ  3 ـ امرالہي کے سامنے سرتسليم خم کرناـ  4 ـ (تمام امورکو) خداکے سپردکرديناـ  (بحارالانوارج 78 ص 338) ـ

ايمان فرائض کي ادائيگي اورمحرمات سے اجتناب کانام ہے، ايمان زبان سے اقرارکرنے،دل سے پہچاننے ،اعضاوجواح سے عمل کرنے کوکہتے ہيںـ

(تحف العقول ص 422) ـ

ايک دن امام رضانے قران کاذکرکرتے ہوئے اس کي حجت وعظمت اورفوق العادہ آيتوں کے نظم کے اعجازکوبيان کرتے ہوئے فرمايا:  قرآن خداکي مضبوط رسي ہے اوراٹوٹ ومحکم رسن ہے اورخداکاوہ مثال راستہ ہے جوجنت تک پہونچانے والااوردوزخ سے بچانے والاہے، امتدادزمانہ سے پرانانہيں ہوتا،کثرت تلاوت سے اس کي قيمت کم نہيںہوتي کيونکہ وہ کسي مخصوص زمانہ کے لئے نازل نہيں کياگياہے بلکہ بہ عنوان دليل وبرہان ہرانسان کے لئے قراردياگياہے،باطل کاگزرنہ اس کے آگے سے ہے نہ پيچھے سے ہے ”اس کو“ خدائے حکيم وحميدکي طرف سے نازل کياگياہےـ(بحارالانوارج 92 ص 14) ـ

ريان کہتے ہيں:  ميں نے اما م رضاعليہ السلام سے عرض کيا:  آپ قرآن کے بارے ميں کيافرماتے ہيں؟ فرمايا:  وہ خداکاکلام ہے اس (کے حدودوقانون) سے آگے نہ بڑھو،اورغيرقرآن سے ہدايت طلب نہ کروورنہ گمراہ ہوجاؤگےـ (بحارالانوارج 92 ص 17) ـ

امامت،دين کي مہار،مسلمانوں کانظام،صلاح دنيااورمومنين کي عزت ہے،ترقي کرنے الے اسلام کي بنياد،اس کي بلندشاخ ہے نماز،روزہ،زکاة، حج، جہادکاکمال امام پرموقوف ہے، مال غنيمت کي زيادتي،صدقات ،احکام وحدودکااجراء،سرحدوں اوراطراف کي حفاظت امام ہي سے ہوتي ہےـ  (اصول کافي ج 1 ،ص 200)

ظالم حکام کے کاموں ميں داخل ہونا،ان کي مددکرنا،ان کي حاجتوں کے لئے کوشش کرناکفرکے برابرہے، ان کي طرف جان بوجھ کرنظررکھنا ان گناہان کبيرہ ميںداخل ہے جس پرآدمي مستحق جہنم ہوتاہےـ  (بحارالانوارج 75 ص 374) ـ



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 next