انتظار اور منتظر کے خصوصیات (2)



 

 

راہ ھموارکرنے والوں کے خصوصیات

۱۔سیسہ پلائی ھوئی جماعت

 سب سے پھلے ان جماعتوں کی جس خصوصیت پرنظر پڑتی ھے وہ ان کی قوت وصلابت ،صلاحیت واستحکام ھے۔اس مضبوط جماعت کے افراد،نہایت تجربہ کار اور مشاق ھوں گے اور زمین کو امام (ع) کے ظھور کے لئے آمادہ کریں گے اور تن تنہا زمین پر قابض طاغوتوں کا مقابلہ کریں گے جیسا کہ جناب شیخ کلینیۺ کی روایت کے مطابق امام جعفر صادق   - نے آیہٴ:<فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ اٴُولَاہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَنَا اٴُولِی بَاٴْسٍ شَدِید>[1]کی تفسیر اسی جماعت سے کی ھے۔جب کہ روایت نے ان کی یھی عجیب وغریب صفت بیان کی ھے”قلوبھم کزبر الحدید لاتزلھم الریاح العواصف“۔۔۔۔۔۔ان کے دل آ  ہنی چٹانوں کی مانند ھوں گے جنھیں تیزو تند ھوائیں نہ ھلاسکیں گی۔

 بیشک وہ دل ایسے ھیں جب کہ دلوں کی خاصیت یہ ھے کہ وہ نرم ھوتے ھیں لیکن ان کے دل طاغوتوں اور ظالموںکے مقابلہ میں آ  ہنی چٹان کی طرح مضبوط ھوجائیں گے جو نہ نرم پڑیں گے اور نہ ھی پگھل سکیں گے لہٰذا استحکام اور مضبوطی ان جماعتوں کی خصوصیات میں شامل ھے جن کو خدا وندعالم عالمی انقلاب اور دنیاکو تبدیل کرنے کی ذمہ داری عطا کرے گاا سی طرح جس جماعت کو خدا وندعالم عظیم تاریخ کا رخ موڑنے اور لوگوں کو ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ کی طرف منتقل کرنے کے لئے منتخب کرتاھے ان کی تمام خصوصیات اس جماعت میںموجود ھوں گی۔

۲۔چیلنج بننے والی جماعت

اس جماعت کامشن”عالمی نظام کو چیلنج کرنااور اس کے خلاف بغاوت اورسرکشی ھے۔اور کسی کو کیا معلوم کے یہ عالمی نظام کیسا ھوگااور یہ اتنی عظیم خدمت کے لئے کیسے آمادہ ھوگااور اسے صحیح رخ پر کون لگائے گا اور اس کے لئے دنیا کے مختلف علاقوں میں طاقتوں اور حکمت عملی تیارکرنے والے اھم مراکز کی حفاظت کون کرے گا ؟یہ بیحد نازک اور نہایت سخت ذمہ داری ھے جسے وہ پوری دنیا کے نظام کو چلانے کے لئے اپنے کاندھوں پراٹھائیں گے اور اس کا تعلق کسی خاص علاقہ یا ملک سے نھیں ھوگا۔

یہ نظام مختلف قسم کے سیاسی ،اقتصادی ،عسکری اور اطلاعاتی تعادل وتواز ن برقراررکھنے والے مختلف اداروں اور حکومت چلانے والے نظاموں سے جڑے ھوئے نظاموں اور ان نظاموں کے درمیان مختلف قسم کے سرخ ہرے اور پیلے خطوط (حدود) ھوں گے میرا خیال یہ ھے:ایک دوسرے سے مربوط جڑے ھوئے ان اداروں اور نظاموں میں عالمی سطح پر غلبہ حاصل کرنے کی عظیم طاقت اور صلاحیت موجود ھوگی بالکل اسی طرح جیسے ایک چھوٹی گاڑی(لوھے کا ایک بٹن یاہتھوڑا بڑی بڑی عمارتوں کو منہدم کرنے میں استعمال ھوتا ھے )یعنی انسان معمولی اشاروں سے بڑے بڑے کام انجام دے گا یھی وجہ ھے کہ عالمی نظام سوویت یو نین کے نظام کا شیرازہ بکھرنے سے پھلے اور اس کے بعد بھی ہر ایک کے لئے قابل احترام ھے کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنی ظرفیت کے مطابق اس سے استفادہ کر رہا ھے۔جب کہ ظھور کی راہ ھموار کرنے والے ان جوانوں کی جماعت اس نظام کی بساط لپیٹ دے گی۔یہ لوگ ان حکومتی اور غیر حکومتی اداروں کے نظم وضبط تعادل اور شان و شوکت کا جنازہ نکال دیں گے اور ان جوانوں کے اوپر ان لوگوں کا کچھ بس نھیں چلے گا نہ وہ انھیں برداشت کر سکیں گے اور نہ ھی انھیں دور کر سکیں گے کیونکہ ان تمام حکومتوں اور ان سے متعلق اداروں اور مشینریوںکا کل زور اور شان وشوکت اپنے جیسے اداروں اور مشینریوں کے مقابلہ میں دکھائی دیتی ھے اور ان کے پاس سب سے بڑا اسلحہ قتل  کرنا اور جیل میں ڈال دینا یا طرح طرح کے شکنجے دینایا جلاوطن کر دینا ھے۔

جبکہ ان جوانوں کو ان چیزوںکا ذرہ برابر خوف نھیں ھے۔جیسا کہ روایت میں ان کی یہ صفت سے بیان کی گئی ھے:” لاتزلّھم الریاح العواصف،لایملّون من الحرب ولایجبنون وعلی اللّٰہ یتوکّلون والعاقبة للمتقین‘”انھیں تندوتیز ھوائیں ان کی جگہ سے نھیں ھلاسکتیں یہ جنگ سے کبیدہ خاطر نہ ھوں گے اور نہ بزدل ھیں ،اللہ پر توکل رکھنے والے اور عاقبت تو متقین کے لئے ھے۔“

یہ طے ھے کہ جو بزدل نہ ھو اور جنگ سے کبیدہ خاطر نہ ھوتا ھو اور اسے تیز وتند     ھوا ئیں اس کی جگہ سے نھیں ھلاسکتیں،یھی ان کی اصل طاقت اور ان کا امتیاز ھے کہ ان کے یہاں بزدلی کا نام ونشان نہ ھوگا اور اسی صفت سے سپر پاورکھے جانے والے ممالک کے سامنے بڑی مشکل کھڑی ھوجائے گی۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 next