انسانی حیات، قرآن مجید کی نظر میں



 

 

 

حیات ان صفات میں سے ہےکہ جو انسان میں پائی جاتی ہیں اور حیات کی حقیقت کو انسانی زندگی میں اس وقت سمجھا جاسکتا ہے جب ہمیں انسان کی صحیح تعریف وشناخت معلوم ہو جائے۔

بہت سے دانشوروں نے، انسان کو مقام تعریف میں" حیوان ناطق" کہا ہے، لیکن قرآنی تعلیمات میں انسان  کی تعریف مختلف ہے۔ بعض دیگر دانشوروں نے کہا ہے کہ انسان ایک ایسا زندہ موجود ہے کہ جو تکلم کرتا ہے یا انسان وہ جاندار موجود ہے جو کلیات کوسمجھتاہے، لیکن قرآن، انسان کو" حیّ متألہ" (یعنی ایسا زندہ موجود کہ جو فکر کرتا ہے)کےعنوان سے جانتا ہے اور اسکی  پہچان کرواتا ہے  نہ صرف حیوان ناطق۔وحی کی نگاہ میں انسان وہ زندہ موجود ہے جو فکر واندیشہ کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے اور اس کی زندگی وحیات اس کی سوچ اور فکر  میں محدود ہوتی ہے "تألّہ" کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے عقاید، اخلاقیات،فقہی مسائل، حقوق اوردیگر تمام مسائل زندگی میں موحدانہ افکار رکھتا ہو اور توحید کے ساتھ عمل کرتا ہو پس غیر "متالہ" شخص، زندہ نہیں ہے اور انسانی حیات کی حقیقت سے محروم ہے۔اس آیت

{ u‘É‹ZãŠÏj9 `tB tb%x. $wŠym ¨,Ïts†ur ãAöqs)ø9$# ’n?t㠚úï͍Ïÿ»s3ø9$#  }([1])

 کے مطابق قرآن مجید صرف زندہ انسانوں میں اثر رکھتا  ہے، ورنہ کفار، جو کہ مردہ ہیں، خدا کے قہر میں مبتلا ہیں۔کفار چونکہ "تالّہ" سے خالی ہیں، قرآن سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچتا ہے۔ اسی لیے ان میں انسانی حیات بھی نہیں پائی جاتی ہے۔

عقلانی زندگی کےدرجات اور نشانیاں

معقول زندگی کی کچھ نشانیاں اور مراتب ہیں، عقلانی زندگی کی نشانی گناہ سے نفرت کرنا اور اس کے انجام دینے سے پر ہیز کرنا ہے۔ عمومی طور پر قرآن ا وربالخصوص پر روا یات معصومین علیھم السلام میں گناہ کو جیفہ یا مردار کی لاش سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس تعبیر کو اگرچہ مختلف الفاظ اوراشکال میں بیان کیا گیا ہے لیکن معنی میں سب کی بازگشت ایک حقیقت کی طرف ہے اور وہ یہ ہےکہ گناہ کی حقیقت، بدبودار مردار ہے۔

انسان کبھی تو علم حصولی کے ذریعے عقلی مفاہیم کو سمجھتا ہے اور کبھی اپنے نفس کے قوی ہونے پر علم حضوری کے ذریعہ انہیں پالیتا ہےیہ معنی عقلانی زندگی اور نفسانی مختلف حالات کی راہ پر بھی مشاہدہ ہوتا ہے۔کسی شخص کی عقلانی زندگی جس قدر قوی ہوگی اتناہی اس کے لئے گناہ کا مرداراوربدبودار ہونا واضح تر ہوگا اور وہ گناہ کے بدبودار چہرے کو اپنی آنکھوں سےدیکھےگا۔

خود ہنر آن دان کہ دید آتش عیان نی گپِ دَلَّ علی النّار الدخان ([2])

یعنی ہنر یہ ہے کہ ایسی روش اختیار کرو کہ لوگ خود آگ کو دیکھ لیں یہ نہ کہوکہ دھواں آگ پر دلالت کررہا ہے۔

وہ شخص جو عقلانی زندگی کاسب سے پست درجہ رکھتا ہے وہ گناہ کا مکر وہ چہرہ اور اسکی متنفر کرنے والی حقیقت کومکمل طور پر نہیں دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اس تعفن زدہ مردار کی اذیت ناک بدبو اس کے مشام تک پہنچتی ہے، عقلانی زندگی کا کمترین درجہ یہ ہے کہ انسان اس مقام پر پہنچے جائے کہ جب گناہ یا کوئی بھی غلط عمل کرنا چاہے تو اس کی بدبو اور تعفن کو محسوس کرے اور اس سے ہونے والی تباہی سے اپنے آپ کو بچائے۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 next