حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیهما السلام کے اخلاق کے بلند نمونے



 

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے اخلاق کے چند نمونے

 

 

کام و کوشش

 محمد بن منکدر کہتے ھیں: میں یہ خیال نھیں کرتا تھا کہ حضرت علی بن الحسین امام سجاد علیہ السلام کا جانشین بھی آپ جیسا  ھوگا، یہاں تک کہ میں نے ان کے فرزند ارجمند حضرت محمد بن علی امام باقر علیہ السلام کی زیارت کی۔میں ان کے پاس وعظ و نصیحت کے لئے گیا، لیکن خود امام مجھ کو موعظہ اور نصیحت کرنے لگے، محمد بن منکدر کے دوستوں نے ان سے سوال کیا: محمد بن علی (امام باقر علیہ السلام) نے تمھیں کیا نصیحت کی؟ تو محمد بن منکدر نے جواب میں کہا:

میں گرمیوں کے موسم میں گرمی کے وقت مدینہ کے اطراف و اکناف میں گیا، اس موقع پر ابو جعفر محمد بن علی (علیہ السلام) جو کہ صحت اور تندرستی کے لحاظ سے صحیح و سالم تھے، دو سیاہ فام غلاموں کے ساتھ کام میں مشغول تھے۔ میں نے دل ھی دل میں کہا: سبحان الله، خاندان قریش کی عظیم شخصیت کو ایسی (گرمی) کے عالم میں دنیا طلبی میں مشغول دیکھ رہا ھوں، خدا کی قسم ان کو جاکر نصیحت کرتا ھوں، چنانچہ میں ان کے نزدیک گیا اور سلام عرض کیا۔ انھوں نے بھی اس حال میں جوابِ سلام دیا کہ وہ پسینہ سے شرابور تھے۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا : خداوندعالم آپ کو جزائے خیر دے، بزرگان قریش کی ایک عظیم ہستی اس قدر گرمی کے عالم میں اس طرح دنیا طلبی میں مشغول ھے !اگر ایسے موقع پر آپ کی موت آجائے تو کیا کیجئے گا؟

امام محمد باقر علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:

”لو جاء ني الموت واٴنا علی ھذہ الحالة جاء ني وانا في طاعة من طاعة الله عزّ وجلّ؛ اکفُّ بھا نفسي وعیالي عنک وعن الناس، وإنما کنت اٴخاف اٴن لو جاء ني الموت و اٴنا علی معصیة من معاصي الله“۔

”اگر میری موت اسی عالم میں آجائے تو ایسی حالت میں موت ھوگی کہ جب میں اطاعت خدا اور اس کی بندگی میں مشغول ھوں؛ کیونکہ میں اس کام سے اپنے اور اپنے اھل و عیال کو لوگوں اور تجھ جیسے افراد سے بے نیاز کرنا چاہتا ھوں۔ لیکن اگر میری موت گناہ کے عالم میں آئے تو واقعاًمیں ایسی موت سے ڈرتا ھوں“۔

(یہ سن کر ) میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا: خدا آپ پر رحمت کرے، میں چاہتا تھا کہ آپ کو نصیحت کروں لیکن آپ نے مجھے نصیحت فرمائی۔[1]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next