شناخت امامت کا سلسله



 

شناخت امامت کا سلسله

امامت کا فقہی چہرہ

امامت کا مسٔلہ، کلامی ہونے کے باوجود بعض روایات میں فروعات  کے ساتھ ذکر ہوا ہے[1]۔ اس کا راز یہ ہے کہ امامت اور ولایت کے دو جلوے ہیں: ایک کلامی اور دوسرا فقہی،فقہی جہت سے، نماز، روزہ، حج، جہاد، زکات، وغیرہ کے ساتھ ذکر ہوتا ہے کہ یہ سارے فروع دین کے ارکان شمار کئے جاتے ہیں۔

بالفاظ دیگر، مسئلہ امامت کاوہ حصّہ جوجو اللہ تعالیٰ کی منصوب اور مشروعیت سے متعلق ہے، اس کی باز گشت خدا کے فعل کی طرف ہےاور وہ اصول دین کا جزء ہےنیز علم کلام سے مربوط ہے۔ لیکن امام معصوم کا قبول کرنا، اور ان کی اطاعت  کا لوگوں پر واجب ہونا یعنی تولیّٰ، نماز ،روزہ، زکات حج، جہاد، کی ایک طرح فقہی مسئلہ ہے۔ لہٰذا امام معصوم کا قبول کرنا،نماز کی مانند واجبات فرعی میں سے ہے۔ اس نقطہ نظر سے شیعوں کا عقیدہ دیگر مذاہب کے عقائد سے جدا ہوجاناہے۔ کیونکہ مکتب نص (یعنی عقیدہ شیعہ) کے اعتبار سے حکومت کی اساس صاحب عصمت قیادت پر موقوف ہے اور ایسے لائق افراد قدرت کی کرسی پر بیٹھنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ان کا تقررحکم اور نص الٰہی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن دیگر مکاتب ومذاہب کے لحاظ سے ممکن ہے، لایق افراد، گوشہ نشینی اختیار کرلیں۔ جیسا کہ ہم ظاہری اعتبارسے اس چیزکو یورپ کے لیبرل ڈموکرایسی نظام میں بخوبی مشاہدہ کر رہے ہیں۔

یہ لوگ نہ اہل نظر ہیں اور نہ اہل بصیرت، اور ہر دیکھنے والا صاحب بصیرت نہیں ہوتا ہے، ممکن ہے اہل نظر زیادہ ہوں لیکن صاحبان بصیرت بہت کم ہیں۔ خداوند سبحان اپنے محبوب پیغمبر سے ان اہل نظر کے بارے میں کہ جوفاقد بصیرت ہیں، فرمارہا ہے کہ کچھ لوگ آپکی طرف نگاہ تو کرتے ہیں، لیکن دیکھتے نہیں ہیں۔ یہ لوگ صرف آپ کی ظاہری صفات  اور حسب ونسب کو جانتے ہیں اور آپکی کی کلام سے سوائے ظاہر کے اور کچھ نہیں سمجھتے:

{ وَتَرَاهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لا يُبْصِرُونَ }

اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ بظاہر وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں جبکہ  وہ کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے۔[2]

بعض لوگ امامت وولایت کے مسئلہ میں بھی صرف اہل نظر ہیں نہ صاحب بصیرت جن لوگوں نے پیغمبر اسلامکی رحلت کے بعد، سقیفہ بنی ساعدہ کی چھت  تلے، اپنے زعم ناقص میں آنحضرتؐ کی جانشینی کا مسئلہ  حل کیا اور پیغمبر خدا کی جگہ اسے لا کر بٹھایا، جس کی پیغمبر سے ذات وصفات میں کوئی مشابہت نہیں تھی۔ وہ لوگ صرف اہل نظر تھے، اگر اہل بصیرت ہوتے تو پیغمبر کو پہچانتے اور ان کے حقیقی نائب کو ان کی جگہ پر قرار دیتے۔ انہوں نے نہ تو نیابت وجانشینی کوڈھونڈا اور نہ منوب عنہ (یعنی خود پیغمبر )کو پہچانا۔

حضرت امام رضاؑ کی نظر میں امامت اوراس کی تعیین

مرو کے لوگوں کے درمیان، اہل بیتؑ کے ماننے والوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ضروری ہے کہ امام، خداوند متعال کی جانب سے منصوب ہوا اور ولایت کی ذمہ داری کو قبول کرے، لیکن دوسرے لوگ کہتے تھے، امام کو معین کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کو منصوب کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لوگوں کے انتخاب کے ذریعہ امام معین ہوتا ہےاوردر حقیقت امام امت کا وکیل ہے۔

حضرت امام رضاؑ نے جب سرزمین مرو پر قدم مبارک رکھا اور اس مسئلہ سے آگاہ ہوئے تو فرمایا: جب ان لوگوں نے امامت ہی کو نہیں پہچانا تو امام کو کیا پہچانیں گے، جس طرح اللہ تعالی ٰالوہیت کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے اسی طرح امام کی شناخت، امامت کے ذریعہ ہوتی ہے، پھر امامؑ نے امام کی صفتوں کو شمار کیا:

 “الامام واحد دھرہ لا یدانیہ أحد” [3]



1 2 3 4 5 6 next