منتظرین کے فضائل



ولی عصر (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے حقیقی منتظرین، اولیاء الٰہی کی ولایت کے حقیقی عارف ہیں جو کہ {إِحدَی الحُسنَیَین}  کے فیض سے مالا مال ہیں، کیونکہ یا حضرت ولی عصر (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور اور دیدار سے مالا مال ہوں گے یا پھر ایسے مقام ومنزلت تک پہنچیں گے کہ جیسے انہوں نےحضرت ولی عصر (عجل اﷲ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ہمراہ جہادکیا ہوا ہو۔

یہ بات مسلّم ہے کہ حضرت کے منتظرین کی معرفت ،ایمان اور امام کے ظہور کے انتظار کے لحاظ سے ان کےمختلف درجات ومراتب ہیں لیکن وہ سب کے سب "احدی الحسنیین"کے درجہ سے ضرور فیض یاب ہوں گے"

حضرت امام محمد باقرؑ منتظر مومنین کے فضائل کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

العارف منکم ھذا الأمر المنتظر لہ المحتسب فیہ الخیر، کمن جاھد واﷲ مع قائم آل محمد بسیفہ! ثم قال: بل واﷲ کمن جاھد مع رسول اﷲ بسیفہ! ثم قال: الثالثۃ: بل واﷲ کمن استشھد مع رسول اﷲ فی فسطاطہ وفیکم آیۃ من کتاب اﷲ؛ قلتُ أیُّ آیۃ؟ جعلت فداک! قال: قول اﷲ (عزّ وجلّ) {وَالَّذِینَ آمَنُوا بِاﷲِ وَرُسُلِہِ أُولَئِکَ ہُم الصِّدِّیقُونَ وَالشُّہَدَائُ عِندَ رَبِّہِم لَہُم أَجرُہُم وَنُورُہُم}   ثمّ قال: صرتم واﷲ صادقین شھداء عند ربکم!”

 :"تم میں سے جوآئمہ کی امامت پر ایمان رکھتا ہو امام مہدی کا منتظر ہو اور خود کو ان کی خدمت کیلئے تیار کرے وہ اس کی مانند ہے کہ جس نے قائم آل محمدؑ کے ہمراہ جہاد کیا ہو پھر فرمایا بلکہ اس سے بڑھ کر خدا کی قسم اس شخص کی مانند ہے کہ جس نے پیغمبر کے ہمراہ جہاد کیا ہو پھر فرمایا اس سے بڑھ کر خدا کی قسم وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جو پیغمبر کی کمان میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوجائے۔اور تمہارے ہاں قرآن مجید کی آیت ہے،راوی نے پوچھا کونسی آیت میرے مولا آپ پر قربان ہوجاؤں،تو آپ نے یہ تلاوت کی:وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں وہ لوگ اللہ کی بارگاہ میں حقیقی سچے اور گواہ ہیں اور فرمایا:خدا کی قسم تم لوگ اللہ کے ہاں مقام صدیقین اور شہداء پاؤگے"

ان لوگوں کو قرآن کریم نے غیب پر ایمان رکھنے والے مومنین کے زمرہ میں سے شمار کیا ہے اور پیغمبر اعظم اسلام نے ان کو بہترین الفاظ میں یاد کیا ہے:

 یغیب عنھم الحجۃ لا یسمّی حتی یظھر اﷲ (عزّ وجلّ) فإذا عجّل اﷲ خروجہ یملأ الأرض قسطاً وعدلاً کما ملئت ظلماً وجوراً؛ ثم قال: طوبی للصابرین فی غیبتہ! طوبی للمتقین علی محجّتھم! أولئک وصفھم اﷲ فی کتابہ، فقال: {الَّذِینَ یُؤمِنُونَ بِالغَیب}   وقال: {أُولَئِکَ حِزبُ اﷲِ أَلاَإِنَّ حِزبَ اﷲِ ہُم المُفلِحُون " 

:"ان سے حجت خدا غائب ہوگی اس کا نام نہیں لیا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کردے گا، جب اللہ تعالیٰ ان کے قیام میں تعجیل کرے گا تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی ۔پھر فرمایا:ان کی غیبت میں صبر کرنے والوں کیلئے خوشخبری ہو، ان کی ولایت پر ثابت قدم رکھنے والوں کیلئے خوشخبری ہو، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں توصف کی ہے:وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور پھر فرمایا: یہ لوگ اللہ کی جماعت ہیں،آگاہ رہو اللہ کی جماعت والے ہی یقیناً کامیاب ہونے والے ہیں"



1 2 next