خدا کی پرستش و بندگی ، مومنین کی ترقی و بلندی کا ذریعہ



قابل ذکر بات ہے کہ انسانی جوہر ، خدا کی عبودیت اور بندگی میں پوشیدہ ہے اور انسان عبادت کے بغیر تمام حیوانات پر اختیاری امتیاز نہیں رکھتا ہے بلکہ صرف تکوینی امتیازات رکھتا ہے بغیر اس کے کہ اس نے ان کا حق ادا کیا ہو ، خدائے متعال کی عبادت سے اجتناب کرنے والا حقیقت میں انسانی کمال کی راہ کو اپنے لئے مسدود کرتا ہے کیونکہ انسانی کمال تک پہنچنا صرف اسی راہ سے ممکن ہے ۔

           اگر ہم عظیم شخصیتوں کی طرز زندگی پر غور کریں تو مشاہدہ کریں گے کہ ان کی زندگی کے ناقابل تفکیک اصول میں ، خدا کی بندگی ہے جن شخصیتوں نے ” کلیم اللہ ‘ ، ” خلیل اللہ “ اور ” حبیب اللہ “ کے مقام تک پہنچنے کی سعادت و لیاقت حاصل کی ہے ، وہ سب صرف اس راہ کو طے کرنے اور مشکل امتحانات اور آزمائشوں سے گذرنے کے بعد ان بلند مقامات تک پہنچ گئے ہیں ۔ حتی ایک شخص کو بھی پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے ، جو خدائے متعال کی بندگی کے بغیر انسان کے اختیاری کمالات تک پہنچ گیا ہو  مذکورہ مطالب کے علاوہ ”رضا“ ، ” یقین “ وغیرہ جیسے مقامات حاصل کرنے کیلئے بھی عبودیت و بندگی میں جستجو کرنی چاہیئے ۔

           خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:

           <وَ اعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاٴْتِیَکَ الْیَقِینُ > (حجر / ۹۹)

           اس وقت تک اپنے رب کی عبادت کرتے رہیئے جب تک یقین حاصل ہوجائے اور مقام رضا کے سلسلہ میں فرماتا ہے :

           < وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوبِھَا وَ مِنْ ءَ نَایِِ الَّلْیلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّھَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی >  (طہ / ۱۳۰)

           اور آفتاب نکلنے سے پہلے اور اس کے ڈوبنے کے بعد اپنے رب کی تسبیح کرتے رہیں اور رات کے وقت اور دن کے اطراف میں بھی تسبیح پروردگار کریں تا کہ آپ مقام رضا حاصل کرسکیں ۔

           تمام پیغمبر کی رسالت کا مقصد لوگوں کو خداوند متعال کی بندگی کی ہدایت ، خد اکی عبادت کا امر اور طاغوت کی پرستش سے نہی کرناتھا:

< وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اُمَّةٍ رَسُولاً اَنِ اعْبُدُواا للهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ․․> ( نحل / ۳۶)

           اور یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو ․․․



1 2 3 4 5 next