خدا کی معرفت اور اس کا حکیمانہ نظام



 

انسان کواس لئے پیدا کیاگیا ہے  تاکہ  وہ قرب الہی کے مقام تک پہنچ جائے  لہذا اس کی تمام سر گرمیاں خداسے رابطہ کو تحفظ بخشنے کے سلسلے میں ہونی چاہئے۔ اگر وہ اپنی توانائیوں کو دوسرے امورمیں صرف کرتاہے، تو اس نے انھیں ضائع کیا ہے ۔ تمام باطنی اورظاہری توانائیوںاور ساری نعمتوں کوخداسے رابطہ کی راہ میں استعمال کرنا چاہئے

 

انسان اور اس کا خدا سے رابطہ:

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحتوں کا یہ حصہ ،خداسے رابطہ ،مشکلات میں اسکی طرف توجہ ، اس سے مددمانگنے اور دوسروں سے بے نیازی کے بارے میں ہے ۔خداسے رابطہ کے بارے میں کہنا چاہئے کہ:انسان کواس لئے پیدا کیاگیا ہے  تاکہ  وہ قرب الہی کے مقام تک پہنچ جائے  لہذا اس کی تمام سر گرمیاں خداسے رابطہ کو تحفظ بخشنے کے سلسلے میں ہونی چاہئے۔ اگر وہ اپنی توانائیوں کو دوسرے امورمیں صرف کرتاہے، تو اس نے انھیں ضائع کیا ہے ۔ تمام باطنی اورظاہری توانائیوںاور ساری نعمتوں کوخداسے رابطہ کی راہ میں استعمال کرنا چاہئے ،گویا یہ راستہ کافی وسیع اور مختلف صورتوں میں ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہماری روح کی مختلف جہتوں میںسے کسی ایک جہت سے مربوط ہے ،کیونکہ خدائے متعال نے ہماری روح کو مختلف چہروں ،پہلوؤں اور گوناگون حیثیتوںسے سزاوار کیا ہے یہتمام پہلوایک سمت میں معین کئے گئے ہیں اور سب کا رخ خدا کی طرف ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ ہمارے وجودی پہلوؤں میں سے ایک پہلو خدا کی جہت میں ہے اور دیگر تمام پہلو ایسے نہیں ہیں۔

      انسان کے وجودی پہلوؤںکے بارے میں کچھ تقسیم  بند یاں ہوئی ہیں ،مثال کے طور  پر کہا جاتا ہے کہ وجود انسانی کا ایک پہلو خداسے رابطہ کے لئے ہے اور اس کا ایک پہلو اپنے آپ سے  رابطہ کے لئے ہے اور ایک پہلو دوسرے انسانوں سے رابطہ کے لئے ہے اور اسکا ایک اور پہلو تمام مخلوقات سے رابطہ کے لئے ہے ۔یہ تقسیم بندی انسان سے مربوط احکام کی نظرسے صحیح ہو سکتی ہے انسان کے اپنے آپ سے رابطہ کے پہلو میں بیان ہوتاہے کہ کونسی چیز یں اس کے بدن کے لئے نفع بخش  ہیں اور کونسی چیز مضر ہیں، فلاں چیز حلال ہے اور فلاںچیز حرام۔ انسان کے بعض احکام خداسے رابطہ کو معین کرتے ہیں،جیسے نماز اور روزہ انسان کے بعض احکام مخلوق سے رابطہ کو معین کرتے ہیں ،جیسے ماں باپ سے بر تاؤ،رشتہ داروں،دوستوں اور دشمنوں سے بر تاؤ۔

       یہ تقسیم بندی قابل قبول ہے،لیکن اس امر کی طرف توجہ رکھنا چاہئے کہ انسانی حیثیتوںکی یہ تقسیم بندی اس معنی میں نہیں ہے کہ ہم خدا کی بارگاہ میں تقرب کے علاوہ کوئی اور مقصد رکھتے ہوں،بلکہ اعتراف کرناچاہئے  کہ ہمارے تمام وجودی پہلو  ---- ان میںمو جودہ  اختلاف کے باوجود ----ایک نقطہ پر منتہی ہوئے ہیں ۔یعنی وہی رابطہ جو انسان دوسرے انسانوں سے رکھتا وہی خدا اور دوسروں سے  رکھنا چاہئے ۔

         ہمارے کاموں کی صورت میں فرق ہے:ایک کام نماز کی صورت میںہے اور ایک سبق پڑھانے کی صورت میںیا درس پڑھنے کی صورت میں یاروز مرہ کے امور انجام دینے کی صو رت میں ، لیکن یہ سب امور ہمارے لئے اسی وقت اور اسی حالت میں مفید ہیں کہ جب خداکے لئے ہوں،لہذا انسان  کے اپنے تمام کام حتی اس  کے تفکرات خدا کے لئے ہونا چاہئے اور وہ اس کے علاوہ کسی کونہ چاہے،نہ طلب کرے اور نہ ڈھونڈے۔

یارب زتوآنچہ من گدامی خواہمافزون زہزار پاد شاہ می خواہم

ہر کس زدرتو حاجتی می خواھدمن آمدہ ام از تو ترامی خواہم



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 next