حضرت امام علي نقي عليه السلام کي حديث يں



جوشخص اپني قدرومنزلت نہ جانتاہواس کے شرسے بچوـ  (تحف العقول ،ص 483) ـ

دنياايک بازارہے جس ميں کچھ لوگوں کوفائدہ اورکچھ لوگوں کونقصان ہوتاہےـ  (تحف العقول ص 483) ـ

جواپني ذات سے راضي ہوگااس سے بہت سے لوگ ناراض ہوں گے  (بحار،ج 78 ،ص 369 ،انوارالبھيہ ص 143) ـ

فقرسرکشي نفس کاسبب اورشديدنااميدي ہےـ  (بحارج 78 ،ص 368) ـ

نيکي سے بہترنيکي کرنے والاہے،اورجميل سے جميل ترجميل کابيان کرنے والاہے علم سے برترعلم کاحامل ہے،برائي سے بدتربرائي کرنے والاہے، وحشت سے زيادہ وحشتناک وحشت پرسوارہونے والاہے ـ  (اعيان الشيعہ ،طبع جديد،ج 2 ص 39) ـ

خداکي توصيف انہيں اوصاف سے کي جاسکتي ہے جن سے اس نے خوداپني توصيف کي ہے اوراس خداکي توصيف کيسے کي جاسکتي ہے جس کے ادارک سے حواس عاجزہيں اوراوہام کي وہاں تک رسائي نہيں ہے،تصورات جس کي حدبندي نہيں کرسکتے، آنکھيں اس کااحاطہ نہيں کرسکتيںـ (تحف العقول ،ص 482) ـ

جس کاگمان يہ ہے کہ وہ گناہ کرنے پرمجبورہے (جبرکاعقيدہ رکھتاہے) اس نے اپنے گناہوںکوخدا(کي گردن) پرڈال ديااوراس کوبندوں کے جزاء دينے کے سلسلہ ميں ظالم قرارديدياـ  (تحف العقول ص 461) ـ

خداکي زمين پرايسے بھي ٹکڑے ہيں جہاں خدادوست رکھتاہے کہ ان مقامات پردعاکي جائے توخدااس کوقبول کرے اورحائر(امام حسين) انہيں مقامات ميں سے ہےـ  (تحف العقول ص 482) ـ

جب کبھي ايسازمانہ ائے جس ميں عدل وانصاف کوظلم وجورپرغلبہ ہوتوکسي کے بارے ميں بدگماني کرناحرام ہے جب اس کي برائي کاعلم نہ حاصل ہوجائے اورجب کبھي ايسازمانہ آجائے کہ جس ميں ظلم وجورکوعدل وانصاف پرغلبہ ہوجائے توکسي کوکسي کے بارے ميں حسن ظن نہيں رکھناچاہئے جب تک اس کے بارے ميں نيکي کاعلم نہ ہوجائےـ   (اعيان الشيعہ ،طبع جديد،ج 2 ص 39) ـ

جوشخص تحصيل سعادت وخيرکے راستہ ميں قدم اٹھائے اورکمال تک پہونچنے سے پہلے مرجائے تواس کي موت خيرپرہوئي ہے جيساکہ قرآن نے کہاہے :ومن يخرج من بيتہ مہاجراالي اللہ ورسولہ… الخ،جوشخص اپنے گھرسے خداورسول کي طرف ہجرت کے لئے قدم نکالے اورمرجائے تواس کي جزا خدا پرہےـ (تحف العقول،ص 472)



1 2 3 4 next