رہبر معظم انقلاب اسلامی کا ایران کی پیشرفت اور موجودہ صورتحال کے بارے میں اہم جائزہ



امریکہ کے ساتھ مذاکرات اور اقتصادی جہاد کے بارے میں اہم خطاب

ایرانی  قوم کے دشمنوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر رکاوٹوں اور گمراہ پروپیگنڈے کے باوجود ایرانی قوم کی پیشرفت و ترقی کا جائزہ لیا اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں اساسی اور بنیادی نکات پیش کئے ، اقتصادی جہاد اور تیل کی درآمد سے وابستگي ختم کرنے  اور بلند مدت اقتصادی پالیسیاں وضع کرنے اور دشمن کے شوم منصوبوں کے اجراء سے قبل سنجیدہ اور ہوشمندانہ اقدام کے بارے میں  تشریح فرمائي

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نئے سال 1392 ہجری شمسی اور بہار کے پہلے دن کے موقع پرحضرت امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک کے لاکھوں زائرین اور مجاورین کے ایک عظیم اور شاندار اجتماع سے اپنےاہم خطاب میں گذشتہ سال 1391 ہجری شمسی میں ایرانی  قوم کے دشمنوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر رکاوٹوں اور گمراہ پروپیگنڈے کے باوجود ایرانی قوم کی پیشرفت و ترقی کا جائزہ لیا اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں اساسی اور بنیادی نکات پیش کئے ، اقتصادی جہاد اور تیل کی درآمد سے وابستگي ختم کرنے  اور بلند مدت اقتصادی پالیسیاں وضع کرنے اور دشمن کے شوم منصوبوں کے اجراء سے قبل سنجیدہ اور ہوشمندانہ اقدام کے بارے میں  تشریح فرمائي، اور ایران میں انتخابات کے انعقاد کو ایرانی سیاست کا شاندار مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کے ساتھ  دوستی اورمحبت رکھنے والے تمام افراد اورسیاسی جماعتوں کو انتخابات میں بھر پور شرکت کرنی چاہیے اور اللہ تعالی کے لطف و کرم سے انتخابات میں عوام کی وسیع پیمانے پر شرکت بہت ضروری ہے کیونکہ ملک کے تمام اصلی مسائل میں صدارتی انتخابات بہت ہی اہم اور مؤثر ہیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نےاپنے اہم خطاب میں  نئے سال کی آمد پر ایک بار پھر مبارکباد پیش کی، اور گذشتہ سال میں ملک کے کمزور اور قوی نقاط کا جائزہ لیا اور اس جائزے کی روشنی میں بلند مدت منصوبہ وضع کرنے کو لازمی قراردیتے ہوئے فرمایا: جس طرح انسان کو انفرادی، ذاتی اور شخصی  طور پر اپنے دائمی محاسبہ کی ضرورت ہے، اسی طرح ملک کےقومی مسائل کا محاسبہ اور جائزہ بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گذشتہ امورکو ںظر میں رکھتے ہوئے ان کی بنیاد پر آئندہ کے لئے فیصلہ کرنے چاہییں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مختلف ممالک ، دانشوروں اور اقوام کی جانب سے تجربات حاصل کرنے کے لئے ایرانی قوم کی کامیابیوں اور کارکردگیوں پر گہری اور دقیق نظر اور اسی طرح ایرانی قوم کےکمزور نقاط پر دشمنوں کی طرف سے بھی دقیق اور  گہری نظر  رکھنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس لحاظ سے بھی ایرانی قوم کو ملک کے شرائط کے بارے میں صحیح اور درست حقائق پر مبنی نگاہ رکھنی چاہیے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے صرف  اقتصادی دباؤ، بعض کارخانوں کی پیداوار میں کمی اور مہنگائی جیسے مسائل  کو مد نظر رکھنے اور ان کا جائزہ لینے کو غلط و  ناقص جائزہ اور تحلیل قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کے چیلنجوں کے میدان میں صحیح نگاہ یہ ہے کہ کمزورو ضعیف نقاط  اور مشکلات کے ساتھ ساتھ ترقی و پیشرفت کے عظيم نتائج پر بھی توجہ مبذول کرنی چاہیے اور اس صورت میں ایرانی قوم کی کامیابی اور سربلندی  کا صحیح نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایران قوم کو مفلوج کرنے کے بارے میں اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے سلسلے میں امریکی حکام کے صریح اور آشکارا بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم نے چلینج کے اس میدان میں دشمن کی دھمکیوں کو ہوشمندی اور عظیم ظرفیت کے ذریعہ فرصت میں تبدیل کردیا  اور اس میدان میں بھی ایرانی قوم  ایک کامیاب کھلاڑی کی طرح میدان سے کامیاب باہر آگئی جسے سبھی تحسین آمیز نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اگر ایسی نگاہ ملک کے شرائط پر ڈالی جائے تویقینی طور پر ایرانی قوم اس عظیم میدان کی فاتح ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: چيلنجز سے بھرے ہوئے اس میدان میں ایرانی قوم کی کامیابیاں ایسی واضح اور روشن ہیں جن کی مختلف ممالک کے دانشور، سیاسی ماہرین ، ممتاز شخصیات تعریف کررہے ہیں  اور حتی ایرانی قوم کے بارے میں بری نیت رکھنے والے ممالک بھی  ان کامیابیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں ۔



1 2 3 4 5 6 7 next