کامیابی کے لئےعلم ،استقامت اور پائیداری کی ضرورت



ہر کام میں کامیابی کے لئے استقامت و پا  ئیداری کی ضرورت ہوتی ہے اور بغیر استقامت وپائیداری کے کامیابی حاصل نہیں ہوتی ہے ۔اکثردانشورں  نے علم ودانش کے حصول اور  عالم  فطرت کے رازوں کے انکشاف کے لئے استقامت وپائیداری سے کام لیا اور ٹھوس قدم بڑھائے جس کے نتیجہ میں انھوں نے اعلی علمی مقام حاصل کئے ۔ اسی طرح مضبوط ارادوں کے حامل لوگ صبر وتحمل اور سعی وکوشش سے بری صفات وعادات کی جگہ نیک اور اچھی صفات کو جاگزیں  کرنے میں کامیاب ہوگئے  ۔اس طرح کے افراد نےگمراہ کنندہ نفسانی خواہشات کے مقابل استقامت وپائیداری سے کام لیا اور قوی ارادوں اورمحترم انسانوں میں تبدیل ہوگئے ۔معاشرے کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے بھی استقامت و پائیداری کی ضرورت ہے ۔

 وہ افراد جو معاشرے کی اصلاح کے لئے مثبت اور مفید قدم اٹھا کر انھیں سعادت وبھلائی کی طرف ہدایت کرنا چاہتے ہیں انھیں چاہيئے کہ وہ مخالفین کی جانب سے ڈالی جانے والی رکاوٹوں ، ان کی اذیت وآذار اور نازیبا حرکتوں کے سامنے ڈٹ جائیں اور کامیابی ملنے تک مختلف مشکلات کو استقامت وپائیداری کے ساتھ برداشت کریں ۔خداوند عالم نے بہت  سی آیات میں  انسانوں کو راہ حق میں استقامت وپائیداری سے کام لینے کی دعوت دی ہے ۔ سامعین آج کے پروگرام میں ہم قرآنی نکتہ نگاہ سے استقامت  کے مفہوم کا جائزہ لے رہے ہیں ہمیں امید ہے کہ ضرور پسند فرمائیں گے ۔

بزرگان دین استقامت کو عمل صالح کی طرح  درخت ایمان کا پھل قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مضبوط ایمان انسان کو دین میں استقامت  سے کام لینےاور شیطان کی پیروی نہ کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔ قرآن کی نگاہ میں استقامت کی اعلی ترین قسم راہ خدامیں استقامت ، حفظ ایمان اور معنویات میں اضافہ کرنا ہے ۔ انسان اگر گناہوں کو ترک کر کے، شیطانی وسوسوں کے مقابل استقامت سے کام لیکر انسانیت اور تقرب الہی کے اعلی مرتبہ پر فائزہو جائے تویہ قرآن کی نظر میں محترم ہے ۔اور اس کے مقابل باطل اورناجائز اہداف تک پہونچنے کے لئے  کوشش اور ایستادگی سے کام لینے سے  انسان  کی گمراہی و ہلاکت کا سبب بنتا ہے ۔مثال کے طور پر قرآن کریم میں  ہے کہ کافرین جب آپس میں گفتگو کرتے تھے تو  اپنے غلط عقائد کے بارے میں فخرو مباہات  کرتے تھے اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کو قبول کرنے سے پرہیز کرتے اور آپس میں کہتے تھے کہ کیا یہ وہی شخص ہے کہ جسے خدانے رسالت کے لئے  منتخب کیا ہے ؟اگر ہم لوگ اپنے خداؤں  اور بتوں کے بارے میں استقامت و پائیداری سے کام نہ لیتے  تو قریب تھا کہ ہم لوگ  اس شخص کی باتوں سےمتائثر ہوجاتے اور اپنے خداؤں کی پرستش سے ہاتھ اٹھالیتے اور گمراہ ہوجاتے!

 

تاریخ اسلام میں دین کے بارے میں استقامت کے اچھے اور خوبصورت نمونےکا ذکر ملتا ہے ۔ یہ داستان جناب یاسر کے گھرانے  سےمتعلق ہے جناب یاسر کے گھر والے پیغمبر اسلام کے زمانے میں زندگی گزار تے تھے ۔ان کا گھرانہ چھوٹا اور غریب تھا اورانھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا جس کی وجہ سے مشرکین  نےانھیں بہت زیادہ اذیتیں دیں اور مختلف طریقوں سے انھیں ستایا لیکن مشرکین کی اذیتوں کے مقابلے میں  ان کے ایمان راسخ اور ان کی استقامت نے تاریخ میں  انسانوں کو استقامت  وپائیداری کا شیرین سبق تحفہ میں دیا ہے ۔جناب یاسر کا گھرانہ چارافراد پر مشتمل تھا خود جناب یاسر، ان کی زوجہ،  اوران کے دوبیٹے عمار و عبدللہ  تھے ۔ جناب یاسر کو مشرکین نے بہت زیادہ ستایا اور شکنجہ دیا لیکن انھوں  نے استقامت وپائیداری سے کام لیا اور اسلام کا دامن نہیں چھوڑایہاں تک کہ آپ نے اپنی جان دیدی ۔آپ کی زوجہ سمیہ نے بھی بوڑھی ہونے کے باوجود مشرکین کی اذیتوں کو برداشت کیا اوراستقامت سےکام لیا۔

سرانجام ابوجہل نے  جس پر خدانے قرآن میں لعنت بھیجی ہے  ان کےشکم میں خنجر گھونپ کر انھیں بھی شہید کردیا۔ ان کے بیٹے عبدللہ کو بھی شدید شکنجہ دیاگیا لیکن انھوں نے استقامت سے کام لیا اور مشرکین کی تمام اذیتوں کو برداشت  کیا۔ان کے دوسرے بیٹے عمارکو  تپتےہوئےبیابانوں میں لے جاتے تھے ،تیز اور تپتی ہوئی دھوپ میں ان کے کپڑوں کو اتار کر ان کے جسم پر لوہے کی جلتی ہوئی زرہ رکھدیتے  تھے اور انھیں مکہ کے بیابانوں میں جلتی ہوئی ریت پر لٹادیتے تھے جس کے نتیجہ میں زرہ  کےحلقے ان کے جسم میں گھس جاتے تھے ۔ مشرکین ان سے کہتے تھے کہ محمد (صلی للہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کردو اور لات وعزی کی پرستش کرو۔لیکن جناب عمار نے ان کے سخت شکنجوں کے باوجود بھی اسلام سے ہاتھ نہیں اٹھایا ۔ ان کے جسم پر لوہے کی زرہ کے ایسے نشانات پڑگئے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ وہ برص کی بیماری میں مبتلا  ہوگئے ہیں۔ان کے چہرے اور بازؤں میں سفید داغوں کے نشانات باقی تھے ۔رسول اکرم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم  نے اس خاندان کے بارے میں فرمایا ہے کہ اے خاندان یاسر استقامت اور صبر سے کام لو، یقینا تمہارا مقام بہشت ہے)

 

 جی ہاں جوشخص خود کواستقامت  کے ہتھیار سے لیس کر لیتا ہے  تو مشکلات سے نمٹنا اس کے لئے آسان ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم بھی لوگوں کو تاکید کرتا ہے کہ  مشکلات اور سختیوں میں تم صبرواستقامت اور نماز  سے مدد حاصل کرو۔سورہ بقرہ  کی آیت نمبرایک سو ترپن میں ارشاد ہوتاہے کہ ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگوکہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ اس آیت میں  صبر واستقامت اور خداوند عالم  کے ساتھ معنوی رابطے کے لئے  نماز کو  انسان کی مشکلات کے لئے  بہترین علاج اور دوا قراردیاگیا ہے ۔اسلامی تعلیمات میں صبر کی کافی اہمیت ہےاوراستقامت کو اس سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے جس کے معنی صحیح اوراچھے راستے میں  پائيداری اورمنحرف راستے سے  پرہیز کرنا ہے ۔

 

قرآن کریم کی صبر و استقامت کی اہمیت کو بیان کرنےکی ایک روش یہ  ہےکہ قرآن صبر و استقامت کے بارے میں  صبر کرنے والوں  کے واقعات بیان کرتا ہے تاکہ خدا پرستوں کے لئے نمونہ قرار پائے ۔حضرت ایوب ،کا صبر واستقامت دنیا میں مشہور ہے جیساکہ سورہ ( ص) میں  خداوند عالم پیغمبر اسلام سے فرماتا ہے کہ میرے بندے ایوب کو یاد کرو کہ ہم نے انھیں صابر پایا ۔ حضرت یعقوب ،حضرت یوسف، حضرت اسماعیل، اور اولوالعزم پیغمبروں کے بارے میں  بھی متعدد آیات موجود ہیں جن میں ان کے صبر واستقامت کا ذکر کیا گیا ہے خداوند عالم سورہ احقاف  کی آیت نمبر پینتیس میں  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے فر ماتا ہے کہ اے پیغمبر آپ اسی طرح  صبر کریں جس طرح آپ سے پہلے اولوالعزم پیغمبروں نے صبر کیا ہے ۔  ائمہ طاہرین علیہم السلام اور تاریخی ثبوت و شواہد کے مطابق  رسول اکرم  صبر واستقامت میں  دوسرے فضائل و کمالات کی طرح سب کے لئے نمونہ شمار ہو تے ہیں ۔ آپ نے لوگوں کی ہدایت اور اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں  دوسرے انبیاء سے زیادہ زحمتیں اٹھائی ہیں۔ ؛



1 next